حیدرآباد : 18؍اگست
(زین نیوز)
شہر حیدرآباد میں ایک نابالغ جوڑے نے مبینہ طور پر ان کے رشتے کو ان کے بزرگوں کی طرف سے نامنظور کرنے کے بعدعلیحدہ علیحدہ طور اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔متاثرین، جن کی عمریں نوعمری میں تھیں، مبینہ طور پر پچھلے سال فیس بک پر دوست بنے تھے اور تب سے وہ فون پر ایک دوسرے سے رابطے میں تھے۔
سکندرآباد ریلوے ہیڈ کانسٹیبل پنڈاری کے مطابق نیرڈ میٹ کے سری کانت اور راجندر نگر سے تعلق رکھنے والی نیکتا فیس بک کے دوست بنے تھے جن کی دوستی محبت میں بدل گئی تھی
انہوں نے والدین کی مرضی کے خلاف اس سال جون میں خفیہ طور پر شادی کر لی کیونکہ بزرگوں نے ان کی شادیسے ناراض تھے۔ دونوں کی شادی کا علم ہونے پر لڑکی کے والدین نے راجندر نگر پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی کہ ان کی بیٹی نابالغ ہے‘ اور شادی قانوناً درست‘ اور قابل قبول نہیں ہے پولیس نے سریکانت کے گھر پہنچ کر تفتیش کی۔
اور ان کی شناخت نابالغ کے طور پر کی، نیکتا کو اس کے والدین کے حوالے کر دیا ۔جس کے بعد سے نیکتا اور سریکانت دونوں اپنے والدین کے ہمراہ رہ رہے تھے۔ان کے والدین نے جوڑے کو دوسرے سے ملنے سے خبردار کیا تھا۔

محبت کا معاملہ پولیس اسٹیشن پہنچنے اور والدین کی جانب سے سرزنش کی وجہ سے شدید ذہنی تناؤ کا شکار نیکتا نے
مبینہ طور پر اس سے ناراض ہو کراس ماہ کی 15 تاریخ کو راجندر نگر میں مبینہ طور پرپھانسی لیکر خودکشی کرلی تھی۔
سریکانت کو جب یہ معلوم ہوا کہ جس سے اس نے محبت کی تھی اور شادی کی تھی اس نے محبت میں ناکامی کے سبب خودکشی کر لی ۔یہ سوچ کر کہ وہ اس کے بغیر دنیا میں نہیں رہ سکتا۔
نیکتا کی خودکشی سے دلبرداشتہ سریکانت اماگوڈا ‘ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے نیچے آکر خودکشی کرلی۔ ریلوے پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے گاندھی مردہ خانہ منتقل کردیا۔ کیس کی تفتیش جاری ہے۔نوعمری میں اپنی جان گنوادینے سے دونوں خاندانوں میں غم و ماتم چھایا ہوا ہے