حیدرآباد :18؍اگست
(زین نیوز)
سربراہ و حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ بیرسٹر اسد الدین اویسی خلاف توہین آمیز تبصرے اور دھمکیاں دینے کے خلاف بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے سٹی انچارج لڈو یادو گرفتار کرتے ہوئے پولیس اسٹیشن منتقل کردیا۔
اس پر تعزیرات ہند کی دفعہ 341 (غلط طریقے سے روک تھام)، 188 (سرکاری ملازم کے ذریعہ جاری کردہ حکم کی نافرمانی) اور 504 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ال انڈیا مجلس کے سربراہ و حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے بی جے وائی ایم لیڈر کے خلاف افضل گنج میں مبینہ طور پر ان کے خلاف توہین آمیز تبصرے کرنے کی شکایت درج کروائی تھی۔
اسد الدین اویسی نے اپنی شکایت میں کہا کہ نوجوان لیڈر سائی رام یادو نے پیر کو بیگم بازار میں یوم آزادی کی تقریب کے دوران ان کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کیا تھا۔ اس نے رکن پارلیمنٹ کو دھمکی بھی دی۔
بھارتیہ جنتا یووا مورچہ کے سٹی انچارج لڈو یادو کے خلاف بغیر اجازت ’تیرانگا ریلی‘ نکالنے اور یوم آزادی کے موقع پر صدر مجلس اسد الدین اویسی کو گالی دینے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ اسے پولیس نے جمعرات کی صبح اس کیس کے سلسلے میں گرفتار تھا۔
افضل گنج پولیس اسٹیشن کے سب انسپکٹر جے ویربابو کی طرف سے درج شکایت پرایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 15 اگست کو رام یادو عرف لڈو یادو نے پولیس کی پیشگی اجازت کے بغیر ریلی نکالنے کے لیے بیگم بازار چتری میں بھاگیرتھی پوجا اسٹور کے سامنے ایک اسٹیج بنایا۔ پروگرام صبح 10 بجے شروع ہوا اور بعد میں ہونے والے اجتماع کی وجہ سے سڑک بلاک ہوگئی۔
اسی دوران صدر مجلس اسد الدین اویسی سڑک سے گزر رہے تھے کہ انہیں دیکھتے ہی لڈو یادو نے انہیں نشانہ بناتے ہوئے اشتعال انگیز الفاظ کہےاور اس دوران ان کے خلاف توہین آمیز تبصرہ بھی کیا
اس پر تعزیرات ہند کی دفعہ 341 (غلط طریقے سے روک تھام)، 188 (سرکاری ملازم کے ذریعہ جاری کردہ حکم کی نافرمانی) اور 504 (امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔جمعرات کی صبح لڈو یادو کو پولیس نے حراست میں لیا اور افضل گنج تھانے منتقل کر دیا۔
