بھیڑ کو منتشر کرنے پولیس کا لاٹھی چارج ۔پرانے شہر میں تعلیمی اداروں کو چھٹی۔
شرپسندوں کے خلاف کارروائی کے بجائے انصاف کی مانگ کرنے والوں کے ساتھ سخت رویہ
حیدرآباد: 24؍اگست
(زین نیوز)
شہر حیدرآباد گنگا جمنی تہذیب اور امن کا گہوارہ کہلاتا ہے لیکن گذشتہ کچھ سالوں سے فرقہ پرست عناصر حیدرآباد کی پُر امن فضاء کو مکدر کرنے کی مسلسل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ‘ پیر کی رات گوشہ محل کے بی جے پی کے رکن اسمبلی راجہ سنگھ کی جانب شان اقدس ﷺمیں گستاخی کے خلاف کے بعد سے حیدرآباد ہی نہیں تلنگانہ میں مسلمانوں میں شدید غم و غصہ کی لہر پائی جاتی ہے حیدرآباد میں گزشتہ رات پیش آئے واقعہ کے بعدتشدد کے چھیڑ چھاڑ واقعات کو چھوڑ کر، شہر میں منگل کی رات پرامن طور پر گزری۔
چارمینار کے گردونواح میں دیر رات سب سے زیادہ احتجاج دیکھنے میں آیا۔پولیس کی نفری کو بڑھا دیا گیا صورتحال پر قابو پانے کے لیے بڑی تعداد میں اضافی پولیس عہدیدار تعینات کر دیے گئے۔نوجوانوں کے گروپوں نے شہر میں اپنا احتجاج جاری رکھا۔ عنبرپیٹ، تالاب کٹہ، چارمینار، مغل پورہ، خلوت، بہادر پورہ اور چنچل گوڑہ سے احتجاج کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔پولیس نے احتیاطی اقدام کے طور پر پرانا پل پل اور موسیٰ رام باغ پل کو بند کر دیا۔پولیس نے شہر کے تمام علاقوں میں گشت تیز کر دیا۔شرپسندوں کے خلاف کارروائی کے بجائے انصاف کی مانگ کرنے والوں کے ساتھ سخت کارروائی کی جارہی ہے
حیدرآباد میں مختلف واقعات میں ایک سب انسپکٹر اور دو شہری زخمی ہوئے جبکہ مختلف مقامات پر مظاہرین نے پولیس کی ایک گاڑی اور تین خانگی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔یہ احتجاج پیر کی رات گوشہ محل کے رکن اسمبلی ٹی راجہ سنگھ کی زہر افشانی اورمبینہ طور پر پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز تبصرہ‘ اورکے بعد شروع ہوا تھا۔ شکایت کے بعد، اس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا اور اسے منگل کی صبح گرفتار کیا گیا تھااس کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔
شاہ علی بنڈہ میں منگل کی آدھی رات کے قریب ایک بڑا ہجوم جمع ہوا اور چار گھنٹے تک احتجاج کیا۔ مظاہرین نے رکن اسمبلی کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ہجوم کی طرف سے پتلے نذر آتش کیے گئے اور ایک دو مواقع پر پولیس نے بھیڑ کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور لاٹھی چارج کیا۔ اس کے بعد ہونے والے پتھراؤ میں سٹی پولیس ہیڈکوارٹر کا ایک سب انسپکٹر زخمی ہو گیا۔ بعد ازاں عہدیداروں نے احتجاج جاری رکھنے کی اجازت دی۔

نوجوانوں کے گروپ نے گوشہ محل کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی۔ ایم جے برج سٹی کالج پر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی اور انہوں نے لوگوں کو پل عبور کرنے سے روک دیا۔ایڈیشنل سی پی (امن و قانون) ڈی ایس چوہان نے مشتعل نوجوانوں کو پرسکون کیا اور ایم جے برج اور چارمینار پر گروپوں کو منتشر کیا۔مغل پورہ میں ہجوم نے پولیس کی گاڑی کو نقصان پہنچایا۔
بیگم بازار چتری میں اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب نوجوانوں کے ایک گروپ نے جو علاقہ میں ایک ریلی نکال رہے تھے، مبینہ طور پر راجہ سنگھ کے حامیوں نے حملہ کیا۔ پولیس نے مداخلت کرکے انہیں منتشر کردیا۔ پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے کر مختلف تھانوں میں منتقل کر دیا۔دریں اثنا، شہر کے پرانے علاقوں میں تعلیمی اداروں نے تشدد کے خدشہ کے پیش نظرچہارشنبہ کو چھٹی کا اعلان کیا ہے۔