رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی، ناقابل معافی  جرم ہے! گستاخ رسول کی سزا پھانسی ہے

بین الریاستی تازہ خبر

مولوی قاضی ابو مہک شیخ محمد علی رشادی .سکریٹری لجنت العلماء ویلفئر سوسائٹی کڈپہ

کڑپہ: 24؍اگست

(پریس ریلز)

حافظ نوراللہ کی اطلاع کے مطابق مولوی قاضی ابو مہک شیخ محمد علی رشادی سکریٹری لجنت العلماء ویلفئر سوسائٹی کڈپہ نے اپنے صحا فتی خطاب میں کہا اللہ رب العزت کیلئے تمام حمدو ثنا جو سب خوبیوں کا مالک ہے اور سارے جہان کا رب اور پالنے والاہے رب العالمین نے ہر زمانے میں بنی نوع انسان کی ہدایت کیلئے پیغمبران عظام کو مبعوث فرمایا اپنے پیارے محبوب ﷺ کو روف و رحیم بنا کر بھیجا اور آپ کی شان ورفعت کا اعلان خود اپنے کلام قرآن مجید میں ارشاد فرمایا۔ اور ہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند کردیا۔ (القرآن، سورہ الم نشرح، آیت ۶)

تمام انبیاء کرام آپ پرایمان لائے ااور آپ کی عزت و تکریم کی اور آپ کی خدمت کا عہدلیا سب کا ذکرفقط فرش پر ہی ہے مگرمصطفیٰ کا ذکر فرش و عرش جنت میں بھی ہے اور اپنے نام کے ساتھ اپنے محبوب کا نام رکھا تمام انبیاء کو نام سے پکاراآپ کو اچھے اچھے القاب سے پکارا اور فرمایا تمہارا ذکر ہمیشہ بلند رہے گا اسے کوئی بند نہیں کر سکتا جیسے کوئی چاند سورج کو نہیں بجھا سکتا کہ یہ اللہ کے روشن کئے ہوئے ہیں ایسے ہی تمہیں کوئی نیچا نہیں دکھا سکتا کبھی کسی بد بخت نے اگر حضور کی شان میں گستاخی کی تو خود رب تبارک و تعالیٰ نے قرآن مجید میں آیت مبارکہ نازل فرماکر حضور کی جانب سے خود جواب دیا

ماشاء اللہ قرآن میں بہت سی آیتیں اس پر شاہد ہیں حضور کا دشمن ولید بن مغیرہ نے آپ  ﷺ کو مجنوں ( پاگل ) کہا معاذ اللہ ثم معاذاللہ رب ذو الجلال نے فوراً قرآن میں اس کی مذمت فرمائی اور اس کے دس عیوب گنوائے۔محبوب خدا ﷺ کے گستاخوں کی برائی کرنا سنت الٰہی ہے :(سورہ القلم  )ترجمہ: قلم کی قسم اور ان کے لکھے کی قسم تم اپنے رب کے فضل سے مجنون نہیں۔

یہ ہے شان مصطفی جس کا اعلان خود رب تبارک و تعالیٰ فرمارہاہے یہی نہیں بلکہ مصطفیٰ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کی برائیاں گنوارہا ہے، عیب ظاہر فرمارہاہے، آپ کا گستاخ بڑ ا جھوٹ بولنے والا ہے، بہت جھوٹی قسمیں کھانے والا ہے، بہت ذلیل ہے، بہت طعنے دینے والا ہے، بہت ادھر کی بات ادھر لگا تا ( چغلخور ) پھرنے والا ہے، بھلائی سے بڑا روکنے والا ہے، درشت خوہے، تند مزاج والا ہے، کرخت آواز والا ہے اور حد سے بڑھنے والا ہے، اور اس سے بڑھکر یہ کہ عتلم بعدذلک زنیم ۔ترجمہ:  اسکی اصل میں خطاہے ( حرامی ہے )۔

رب تبار ک و تعالی ستار العیوب ہے لیکن جو اس کے محبوب ﷺ کی شان میں گستاخی کرے اسکے عیب کو اللہ ظاہر فرماتا اور اعلان فرماتا ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور  ﷺکے گستاخوں کو جواب دینا انکے عیبوں کو ظاہر کرنا سنت الٰہی ہے اسی آیت کے نزول پر ولید بن مغیرہ اپنی ماں کے پاس گیا اور بولا کہ حضور  ﷺ نے میرے دس عیوب کو بیان کیاہے جو ان پر نازل ہونے والی کتاب میں ان کے رب نے بیان کی ہے۔

جن کو میں جانتا ہوں اور اپنے اندر پاتاہوں سچ سچ بتاکہ کیا میں اصل سے ہوں یا حرامی، سچ کہنا ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا۔ تب اس کی ماں بولی کہ ’’ تیرا باپ نامرد تھا مجھے اندیشہ ہوا کہ اس کے بعد اس کا مال غیر لے جائیں گے تب میں نے فلاں چرواہے کو بلایا تو اس سے پیدا ہوا ‘‘۔(روح البیان، ضیاء القرآن خزائن العرفان ص ۹۷۷)

 

ہندوسان میں ایسے ملعون اور غیر نسل کے لوگ ائے دن ہمارے اقا حضرت محمدۖ کی شان اقدس میـں گستاخی کرتے ہیں کبھی نوپور شرما تو اب حرامی راجا سنگھ یہ لوگ نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرکے پوری دنیاں  کے مسلمانوں کو تکلیف پہنچائے ہیں اور ہندوستاں کی جمھوریت کو برباد کر رہے ہیں. ایسے لوگوں کی سزاء پھانسی یا ملک سے باہر نکالنا ہے ہم حکومت کے ذمہ داروں سے اپیل ہےکہ جلد ازجلد اس حرامی پلے راجا سنگھ کو سزاء دیکر جمہوریت کی حفاظت کریں