حیدرآباد کے بابا نگر(سی بلاک) میں کرایہ کے مکان سے بدبوآنے کے بعد مقامی عوام کی پولیس کو اطلاع
حیدرآباد22؍جولائی
(زین نیوز؍تاریخ دکن)
متحرک و فعال‘ داعئ اسلام محمد عامر (سابقہ بلبیر سنگھ) ، ایک کارسیوک اور سنگھ رہنما بھی تھے جنھوں نے بابری مسجد کے انہدام میں حصہ لیا تھا ، پرانے شہر کے حافظ بابا نگر علاقے میں واقع ان کی رہائش گاہ پر مشکوک طور پر مردہ حالت میں پائے گئے ہیں۔
بابا نگر میں واقع ان کے کرایہ کے مکان سے بد بو آنے پر مقامی عوام نے پولیس کو مطلع کیا ، جس پر کنچن باغ پولیس کی ایک ٹیم ان کی رہائش گاہ پر پہنچی اور موت کی وجہ تفتیش شروع کردی۔انسپکٹر کنچن باغ پولیس اسٹیشن جے وینکٹ ریڈی نے بتایا ، "اس وقت موت کی اصل وجہ معلوم نہیں ہوسکی ، اگر ہمیں خاندان کے افراد سے اس کی موت پر شبہ کے بارے میں کوئی شکایت موصول ہوئی تو پولیس پوسٹ مارٹم کے لئے کارروائی کرے گی اور مقدمہ درج کرے گی۔‘

محمد عامر (سابقہ بلبیر سنگھ) نے تاریخی بابری مسجد کی شہادت میں حصہ لینے اور بعد میں مذہب اسلام قبول کرنے کے بعداپنے اس فعل کے کفارہ کے طورپر 100 مساجد کی تعمیر اور تزئین و آرائش کا کام سرانجام دینے کاعہد کررکھاتھا۔ اگرچہ انہوں نے بابری مسجد کے انہدام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا لیکن ان کی تبدیلی کے بعد انہوں نے مساجد کے تحفظ کا بھی وعدہ کیا تھا اور 91 مساجد کی تعمیر مکمل کرلی تھی
۔محمد عامر کنچن باغ پولیس اسٹیشن کی حدود میں واقع حافظ بابا نگر سی بلاک میں کرایہ کے مکان پر قیام پذیر تھا اور حیدرآباد میں اپنی 59 ویں مسجد کی تعمیر کر رہے تھے جس کا نام ’مسجد رحیمیہ‘ رکھا گیا ہے۔بڑے پہاڑپرواقع مسجداورلڑکیوں کے لیے مدرسہ کی تعمیر کررہے تھے۔سال 2019 میں ، 6 دسمبر کو محمد عامر نے ، حفیظ بابا نگر میں بالا پور روڈ کے قریب مسجد رحیمیہ کی بنیاد رکھی تھی۔تب سے اس کی تعمیر کا کام جاری ہے۔ مقامی لوگ علاقے میں عارضی سائے میں نماز پڑھ رہے ہیں۔
یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہے کہ بابری مسجد کی تباہی میں عامر کارسیوک ملوث تھے ،، وہ تاریخ،سیاسیات اور انگریزی میں ایم اے تھے۔بابری مسجد کی شہادت کے بعد وہ اپنے ضمیرکے قیدی بن گئے اور دل میں ایمان کی شمع روشن ہونے کے بعد اپنےاس گناہ سے معافی مانگ لی تھی ۔ماسٹر محمد عامر کا تعلق ہریانہ کے پانی پت کے ایک گاؤں سے رہا ہے اورپھر ان کے خاندان نے ہجرت کرکے شہر کا رُخ کیا اور روہتک یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی تھی۔

انہوں نے بتایا تھا کہ بچپن سے وہ آرایس ایس کی مقامی شاخ سے وابستہ رہے تھے اور پھر شیوسینا میں شمولیت اختیار کرلی تھی ۔بال ٹھاکرے نے انہیں متعارف کرایا تھا۔بلبیر سنگھ کے والد دولت رام گاندھیائی نظریات کے حامل تھے اور تقسیم ملک کے دوران مسلمانوں کی ہرطرح سے مدد کی تھی اور ان کے والدین نے دونوں بھائیوں کو بھی بہتری کے کام کے لیے نصیحت کی تھی
لیکن مسلمانوں کے بارے میں دل ودماغ میں بھری نفرت نے مسجد پر مزید وار کرنے پر اکسایا اور اس درمیان طبیعت مزید بگڑی اور دوستوں نے مسجد کی شہادت کے بعد پانی پت منتقل کیا جہاں وہ دو اینٹ بھی ساتھ لے گئے جوکہ ابھی شیوسینا کے مقامی دفترمیں رکھی ہیں
بابری مسجد کی انہدام کے بعد جب وہ گھر پہنچا تو عوام نے اس ہیروکی طرح استقبال کیا ۔لیکن اس کے سیکولر فیملی نے اس کے ان اقدامات کی مذمت کی اوروالد نے گھر کے دروازہ بند کردیا تھا کہ ایک استاد کے بیٹے نے ایک غلط کام میں حصہ لیا جس کے نتیجے میں وہ خود کو مجرم سمجھ رہا تھا
بعدازاں ، جب وہ بیمار ہوگئے اور جسمانی مسائل پیدا ہونے لگے تو انہوں نے ایک مولانا سے مشورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔وہ یوپی کے مظفر نگر میں مولانا کلیم صدیقی کے پاس گئے اور انہیں بابری مسجد کے انہدام کے فعل کے بارے میں بتایا اور توبہ کی خواہش کا اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں : ❇️ تلنگانہ اورآندھرا پردیش میں مسلسل بارش ‘کئی پروجیکٹس لبریز
انہوں نے مشورہ دیا کہ مسجد کو مسمار کرنے کے گناہ کے لیے اللہ سے معافی مانگ لی جائے تو اپنے والد کے ساتھ مقامی مسجد کے سامنے کھڑے ہو کر توبہ کی جس کے بعد ان کی طبیعت سنبھل گئی ،جس کے بعد 1993میں بلبیر سنگھ(محمد عامر) اور ان کےوالد مشرف بہ اسلام ہوگئےْمولانا نے قرآنی آیات کے ذریعہ انھیں اسلامی اقدار کی وضاحت کی۔
اس وقت اسے احساس ہوا کہ اس نے کیا کیا گناہ کئے تھے۔یکم جون 1993 کو انہوں نے مولانا کلیم صدیقی کے سامنے بیٹھ کر اسلام قبول کیا۔ انہوں نے 100 مساجد کی تعمیر اور حفاظت کا بھی فیصلہ کیا۔ اسی مقصد کے ساتھ اس نے 26 برسوں میں 91 مساجد بنائیں اور 59 زیر تعمیر ہیں۔
محمد عامر نے ہریانہ میں پہلی مسجد تعمیر کی اور اس کا نام 1994 میں مسجد مدینہ رکھا۔حافظ بابانگرسی بلاک بڑا پہاڑپر2019 میں حکیم سیدنصرت ہاشمی قادری سجادہ نشین درگاہ شریف بالاپور کے ہاتھوں مسجد کی بنیادرکھی۔ ا س وقت ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری مدیراعلیٰ نے موجودتھے۔حکیم سیدنصرت ہاشمی قادری سجادہ نشین درگاہ شریف بالاپور نے ان کے مغفرت کی دعا کی اورغم کااظہارکیا۔100 مساجد کی تعمیر کرنے کے جذبہ نے انہیں بہت بلدمقام دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ۔ آمین
