دین کی بقاء وتحفظ کے لئے علم دین کی بقاء لازم ہے

بین الریاستی تازہ خبر

مدرسہ مظہرالعلوم نظام آباد میں جلسہ تکمیل حفظ قرآن سے مفتی سلمان منصورپوری کا قیمتی خطاب
تلخیص عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد9505057866
دین اور دین کے احکام اپنی جگہ باقی اور مستحکم ہے اور تاقیامت رہیں گے جوبھی اس کو بدلنے کی کوشش کرے گا وہ خود تو بدل جاے گا لیکن قرآن اور شریعت کے احکامات کو نہیں بدل سکے گا حضور علیہ السلام نے فرمایا قیامت تکمیری امت کی ایک جماعت ہمیشہ حق پر قائم رہے گی جو اس کو ذلیل کرے گا وہ خود ذلیل ہوجاے گا

یہ دین حق اور شریعت ہمیشہ رہے اور رہیں گے اللہ تعالی اس دین کی بقاء کے لئے ظاہری اسباب کے طور پر مدارس اسلامیہ کو وجود بخشا جہاں دین پڑھنے پڑھانے سمجھنے سمجھانے کا سلسلہ نسلا بعد نسل چلتا رہے گا اور اسی سے دین کا تحفظ ہوگا علم دین دراصل روشنی ہے اورروشنی جہاں آتی ہے وہاں سے اندھیرا ختم ہوجاتا ہے اور سفر کے لےء روشنی لازم ہے اندھیرے میں سفر کرنے والا یا تو اپنی منزل سے بھٹک جاے گا یا راستہ سے نیچے اترکر کسی گڑھے میں جاگرے گا یا کسی سامنے آنے والے سے ٹکرا جاے گا اور اگر روشنی ہوگی تو یہ تمام خدشات ختم ہوجائیں گے بالکل اسی طرح ہماری زندگی کے اس سفرکی اصل منزل جنت ہے اگر ہمارے پاس علم کی روشنی نہیں ہوگی تو ہم بھی اپنی منزل سے یا تو بھٹک سکتے ہیں یا ہمارا عمل بگڑ سکتا ہے بدعات کے وجود میں آنے کا ڈر لگے گا اور علم کی اس روشنی کے لےءباری تعالی نے ان مدارس کو بنایاہے تاکہ انسان علم حاصل کرکے جہالت کے اندھیروں اور مختلف خدشات سے بچ جاے

یہی وجہ ہیکہ جن ملکوں اور شہروں میں دینی مکاتب اور اسلامی مدارس نہیں ہیں وہاں کے لوگوں میں نماز روزہ زکوۃ حج ودیگر عبادات کی کوی پاسداری نہیں نہ وہاں کے لوگوں میں دین ہوتا ہے نہ ہی وہاں کی عورتوں میں پردے اور حیاء کا اہتمام ہوتا اس کے بالمقابل جن مقامات پر مدارس ومکاتب ہیں وہاں لوگوں میں دینداری ہے اللہ تعالی کا مقصود یہ ہے کہ اس دنیا میں دین باقی رہے اسی لے اس نے قرآن کے نازل کرنے اور اس کی حفاظت کرنی کی ذمہ داری کا خود اعلان فرمادیا انانحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون اور جس کا محافظ اللہ ہوجاے اس کو دنیا کی کوی طاقت ختم نہیں کرسکتی ہے اگر دنیا والے یہ فیصلہ کرلیں کہ ساری دنیا سے کاغذوں اور سیاہی کو کتابوں کو ختم کردیں گے اور کوی چیز باقی نہ رہے تب بھی قرآن مجیدباقی رہنے والی کتاب ہے جس کے لئے اللہ پاک نے اپنے بندوں کے سینوں کو منتخب کرلیاہے

اسی غیبی نظام قدرت کے ذریعہ زمانہ میں طلباء حافظ قرآن بن کر حفاظت قرآن کا فریضہ انجام دیں گے جو قرآن کی حقانیت کی دلیل ہے اور جب قرآن باقی تو امت باقی اور اس سے ساری کائنات باقی اللہ نے حفاظت قرآن کاانحصار کسی کاغذ یاکتاب پر نہیں رکھا ہے بلکہ ان حافظوں کے سینوں پر رکھا ہے جن کے سینوں میّ پورے تیس پارے محفوظ ہیں قرآن مجید اس امت کا سب سے بڑا سرمایہ ہے ملت اسلامیہ کو چاہیے کہ وہ ان مدارس کی حفاظت کی ذمہ داری کو قبول کریں ہر اعتبار سے ان کا تعاون کریں ایک اور اہم بات یہ ہیکہ حافظ قرآن بن جانا آسان ہے لیکن اس کو باقی رکھنا بڑا مشکل مسئلہ ہے اس لےء حفاظ کرام کو چاہیے کہ اس کی تلاوت کا اہتمام کیاجاے روزآنہ پابندی سے نوافل میں فرائض میں اس کو ترتیب سے پڑھنے کا معمول بناے اللہ تعالی نے اس کا بھی انتظام فرمایا کہ رمضان المبارک ججسامقدس مہنیہ نصیب فرمایا تاکہ حفاظ کرام تراویح پڑھ کر یا پڑھا کراس یاس کےءہوے قرآن کو باقی رکھتے ہیں

حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ قرآن کو یادکیاکرو چونکہ ذراسی غفلت وبے اعتنای کی وجہ سے یہ قرآن سینوں سے ایسے نکل جاتاہے جیسے اونٹ کی نکیل کھولنے پر اونٹ نکل جاتاہے اللہ تعالی نے رمضان المبارک دے کر اس کابھی انتظام فرمادیاہے آج کل معاشرہ میں لوگ قرآن کا حق نہیں اداکررہے ہیں رمضان میں چھ دن یا دس دن یا شبینہ پڑھ کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھتے ہیں حالانکہ یہ قرآن کے ساتھ مذاق ہے قرآن کو اس کے وقار کے ساتھ اس کا حق دیا جاے اور اس قسم کے تمسخر سے بچا جاے اور پورا چاند رات تک قرآنجید کوتراویح میں پڑھنے کا اہتما کیا جاے یادرکھیں کہ قرآن زیادہ پڑھنا کمال نہیں ہے اس کو اس کے حق کے ساتھ صحیح اور درست پڑھنا کمال ہے اللہ تعالی نے قرآن کو انسانیت کے لےء ہدایت کا ذریعہ بنایاہے حق وباطل میں فرق وامتیاز کا وسیلہ بناکا ہے ش

ھر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس وبینات من الھدی والفرقان اس آیت میں اشارہ ہے اس جانب کہ صرف قرآن پڑھنا ہی نہیں بلکہ اس کے معانی ومطالب اور مفاہیم کو سمجھنے کی بھی فکر کرنا چاہیے جس کے لےء عربی زبان کو سمجھنا اور اس کے نصاب کو پڑھنے کی ضرورت ہوگی اسی کو عالم بننا کہتے ہیں اس لےء حفاظ کرام صرف حفظ پر اکتفاء نہ کریں بلکہ عالم بننے کی بھی فکر کریں حفظ کے ذریعہ الفاظ قرآن یادکے جاتے ہیں اور عالمیت کے ذریعہ سے معانی قرآن یادکےء اور سمجھے جاتے ہیں اسلےء سب حفاظ کو اس بات کی فکر کرنی چاہیے اللہ پاک توفیق عمل نصیب فرماے آمین