افطار پارٹی پر دائیں بازو کے طلباء کا ہنگامہ

تازہ خبر قومی

وائس چانسلرکے خلاف نعرے بازی۔ علامتی پتلا نذر آتش

وارنسی:29؍اپریل
(اے ایم این ایس)
ملک میں مسلمانوں کے خلاف نفرت جنون کے حدتک پھیل گیا ہے ہر دن کسی نہ کسی معاملہ کو لیکر احتجاج‘ شر پسندی ‘ اشتعال انگیزی‘ اور تعصب پھیلایاجارہا ہے‘ ایسا لگتا ہے اب مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہم چلانا ہی انکی زندگی کا واحد مقصد بن گیا ہے
‘ رمضان المبارک جیسے مقدس ماہ میں جہاں دعوت افطارابنائے وطن میں بھائی چارہ اور قومی یکجتی کو فروغ دیتا ہے تو زعفرانی جماعتوں کے طلباء اب افطار پارٹی کی مخالفت کرتے ہوئے یونیورسٹی میں منعقد دعوت افطار کو لیکر تنازعہ کھڑا کردیا ہے

بنارس ہندو یونیورسٹی میں افطار پارٹی کے بعد کیمپس کا ماحول گرم ہے۔ طلباء نے شدید احتجاج کرتے ہوئے وائس چانسلر پر یونیورسٹی کے تعلیمی اور ہم آہنگی کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کا الزام لگایا۔

اس تناظر میںوائس چانسلر کی رہائش گاہ کے سامنے سینکڑوں طلباء نے بطور احتجاج ہنومان چالیسہ پڑھتے ہوئے جئے ہنومان کے نعرے لگائے۔ روزہ افطار پارٹی کے حوالے سے اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد طلبہ تنظیم نے مخالفت میں کہا کہ وائس چانسلر سدھیر کمار جین غلط کر رہے ہیں۔ یہ نئی روایت شروع کر کے وہ دشمنی پھیلا رہےہیں۔ جس کی وجہ سے تعلیمی ماحول خراب ہو رہا ہے۔

چنانچہ آج ہم تمام طلباء نے کیمپس میں ہنومان چالیسہ کا ورد کیا ہے۔ اس دوران طلبہ نے نعرے لگائے کہ مولانا سدھیر کمار جین ہوش میں آجائیں۔ اس دوران ہنومان جی کی مورتی کو ڈھولک کی تالی پر رکھ کر چالیسہ کا ورد کیا گیا۔

وائس چانسلر کی رہائش گاہ کے سامنے جئے شری رام کے نعرے لگائے گئے۔ طلباء نے کہا کہ بی ایچ یو کو اے ایم یو اور جے این یو نہیں بننے دیا جائے گا۔ طلباء کا کہنا ہے کہ کافی عرصے سے یونیورسٹی میں روزہ افطار جیسی کوئی تقریب منعقد نہیں کی جا رہی تھی۔ تاہم، یہ سب اچانک دوبارہ کرنا بالکل بھی مناسب نہیں ہے

۔ اس کے ساتھ ہی وی سی پر طلبہ کے مفاد کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا گیا۔ احاطہ کے اندر افطار پارٹی کے انعقاد کو قابل مذمت قرار دیا گیا۔ طلباء نے اس کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے وائس چانسلر کا علامتی پتلا بھی جلایا تھا