دلیپ کمار کی شخصیت کے دیگرپہلو……

تازہ خبر قومی

جب تک اردو زندہ ہے ہندوستانی مسلمانوں کی غیرت بھی زندہ

کامیابی اورعظمت کی بلندی پرہونے کے باوجو د طبیعت میں حددرجہ انکساری تھی
ممبئی:10؍جولائی
(زین نیوز)
کسی زمانے میں اشوک کمار‘ دیوآنند‘ راج کپور اوردلیپ کمار کوفلم دنیا کے چارستون کہاجاتاتھا اس میں سے اشوک کمار‘ دیوآنند اورراج کپور کودنیا سے رخصت ہوئے برسوں گذرگئے اور7جولائی کوفلم دنیا کے چوتھے ستون دلیپ کمار (یوسیف خاں) بھی 98سال کی عمر میں اپنے مالک حقیقی سے جاملے اورنہ صرف ہندی فلم انڈسٹری بلکہ برصغیر میں پھیلے ہوئے اپنے کروڑوں مداحوں کوغم واندوں میں مبتلا کردیا

۔شہنشاہ جذبات اداکاری کی یونیورسٹی‘ افسانوی اوراساطیری شخصیت ٹریجیڈی کنگ اورنہ جانے اسے ہی کتنے القاب کے حامل اس عظیم ہستی کی بے مثال شخصیت مقبولیت اورشہرت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ آج برصغیر کا کسی بھی زبان کا اخبار ایسا نہیں ہے کہ جس نے اس عظیم اداکار اس عظیم شخصیت اوراس بہترین انسان کواپنے ادریوں کے ذریعہ خراج عقیدت نہ پیش کیا ہو۔

 

انفرادی طورپر تعزیتی پیامات پیش کرنے والوں میں صدرجمہوریہ ہند‘ نائب صدرجمہوریہ‘ وزیراعظم سے لیکرکئی کابینی وزراء تمام ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ‘ ہندی‘ تلگو‘ تامل‘ بنگالی فلم انڈسٹری کے نامی گرامی اداکار‘ فلمساز وہدایت کاروں سے لے کراہم سماجی شخصیات اورلاکھوں مداح بھی شامل ہیں ان سے آج کے اخبارات کے صفحات بھرے پڑے ہیں اورسوشیل میڈیا پلٹ فارمس اپنی تنگ دامانی کی شکایت کرتے نظرآرہے ہیں

دراصل دلیپ کمار کی رحلت فلمی دنیا کے ایک یادگارسنہرے دوکارخاتمہ ہے اوردلیپ کمار جیسا خداداد صلاحیتوں کا حامل اداکاراپنی ایک الگ پہچان بنانے والا فن کارباربار پیدا نہیں ہوتا۔ یوسف خاں عرف دلیپ کمار ایک لاجواب اداکارہی نہیں تھے بلکہ ایک بلند اخلاق شخصیت کے مالک ایک بہترین انسان بھی تھے۔

دلیپ کمار کا 21سال تک علاج کرنے والے ڈاکٹرجلیل پرکارنے کہاکہ ان کی موت سے جوخلاء پیدا ہواہے وہ پرنہیں ہوپائے گا کیونکہ وہ ایک ایسی ہستی تھی جوصدیوں میں پیدا ہوتی ہے وہ ایک اچھے انسان اورمحب وطن تھے اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی میں بھی بلاکی مہارت رکھتے تھے اوران کا انداز سخن ایسا تھا کہ لوگ سنتے ہی رہ جاتے جس محفل میں جاتے رونق آجاتی ڈاکٹر جلیل پرکار کے مطابق دوران علاج انہو ں نے ڈاکٹروں‘ نرسوں اوروارڈ بوائز سے ہمیشہ خوش اخلاقی کا مظاہرہ کیا ان کا علاج کرنے والے ایک اورڈاکٹر خلیل مقادم نے کہا کہ دلیپ کمار جیسا انسان صدیوں میں پیدا ہوتاہے وہ فلمی دنیا میں جس طرح احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے اسی طرح فلمی دنیا کے باہربھی ان کی سماجی خدمات کی طویل فہرست ہے۔

دلیپ کمار نے بنگلے پرروزانہ باجماعت نماز مغرب ادا کی جاتی تھی یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں ان کے بنگلے پر17سال سے امامت کرنے والے مولانا محمدطارق مرادآبادی نے کہاکہ دلیپ کمار جیسا خلیق انسان ملنا مشکل ہے کامیابی اورعظمت کی اتنی بلندی پرہونے کے باوجو د طبیعت میں حددرجہ انکساری تھی مولانا نے بتایاکہ صاحب کبھی کبھی خود خوش الحانی سے اذان دیتے نماز سے فارغ ہونے کے بعدبیٹھ جاتے اوراس بات پرفکرمندی ظاہر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوجاتے اورکہتے کہ مولانا دعا کیجئے کہ اللہ پاک مجھے معاف کردے اورمجھے بخش دے۔

مولانا نے بتایاکہ طبیعت زیادہ خراب ہونے کی حالت میں بھی وہ اللہ کے پاک نام کا زورزور سے ورد کیا کیاکرتے تھے۔40سال تک دلیپ کمار کی فلموں کے کا سیٹوم (لباس) تیارکرنے والے ٹیلرمحمدابراہیم خاں نے اپنے محسن کویاد کرتے ہوئے کہاکہ ہندوستان کے اس عظیم ترین فنکارکاکرداریہ تھاکہ مجھ جیسے معمولی آدمی کووہ اپنا بھائی کہہ کرلوگوں سے متعارف کرواتے تھے

انہوں نے بی آرچوپڑہ کے حوالے سے دلیپ چاحب کے متعلق کہاکہ وہ جملہ دوہرایاکہ ابراہیم‘ دلیپ کمار وہ شخص ہے جس نے اپنے معیار کوکبھی گرنے نہیں دیا ابراہیم خاں نے ایک اوردلچسپ بات ان کے راجیہ سبھا کاممبرمنتخب کئے جانے کے تعلق سے بتائی اورکہاکہ صاحب نے راجیہ سبھا کے چنداجلاس میں شرکت کرنے کے بعد دلبرداشتہ ہوکرکہاتھا کہ میں استعفی دے دیناچاہتاہوں توگھروالوں نے انہیں روکااس پردلیپ صاحب کاکہنا تھا کہ پارلیمنٹ جہاں ملک کیلئے قوانین بنائے جاتے ہیں اورعوام کی نمائندگی کیلئے اراکین منتخب ہوکرآتے ہیں وہاں اس معیارکے مطابق کام نہیں ہوتا ہے جس معیار اورطرز کی ضرورت ہے۔

دلیپ کمار کواردو سے بھی بے پناہ رغبت تھی جب وہ کسی پروگرام میں اردو میں خطاب کرتے تواس میں ایک بھی لفظ انگریزی یا ہندی کا نہیں ہوتا نہایت شستہ زبان میں وہ تقریر کرتے انہیں اردو کے بے شمار شعراء کے ہزاروں اشعار ازبرتھے لیکن پچھلے سالو ں سے ان کی یادداشت جواب دے چکی تھی دہلی کے ایک مشہوراردو صحافی ایم ودودساجد کونئی دنیا کیلئے دیئے گئے اپنے ایک انٹرویو کے آخر میں انہوں نے کہاتھا کہ اپنے قارئین تک میرا ایک پیغام پہونچادیجئے ‘ کہ جب تک رادو زندہ ہے ہندوستانی مسلمانوں کی غیرت بھی زندہ ہے ان کی ثقافت بھی زندہ ہے اوران کا تاریخی کرداربھی زندہ ہے اردو کی تابانی اورجلوہ سامانی یہ امین اس دنیا سے رخصت ہوگیا۔

دلیپ کمار کی غرباء بروری اورخیرخواہی کے بارے میں بھی بہت کم لوگ واقف ہیں ان کے پالی ہل باندھ کے باہرہرجمعرات کوگداگروں کی بھیڑ جمع رہتی ہے اورکوئی وہاں سے خالی ہاتھ نہیں جاتا یہ سلسلہ برسابرس سے جاری ہے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے۔آمین۔

ا