جامعہ امام محمد انور شاہ میں ختم بخاری شریف کے موقع پر مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی کا خطاب
دیوبند، 23؍ فروری
(رضوان سلمانی)
جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند میں ختمِ بخاری شریف کی تقریب انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر جامعہ کے شیخ الحدیث و مہتمم مولانا سید احمد خضر شاہ مسعودی نے بخاری شریف کی آخری حدیث کا درس دیتے ہوئے کہا کہ آج کا دور اسلام فوبیا کا دور ہے۔ غیر مسلم طاقتیں دنیا کو اسلام سے ڈرانے میں لگی ہیں، ایسے نازک وقت میں علما کی ذمے داری مزید بڑھ جاتی ہے کہ دنیا کے سامنے اسلام کے حقائق مدلل اور حکیمانہ انداز میں پیش کریں۔
انہوں نے کہا کہ امام بخاری نے اپنی کتاب کی شروعات انما الاعمال بالنیات سے کر کے سبق دیا کہ آدمی خواہ کتنے ہی اعمال اور کتنی ہی نیکیاں سر انجام دے دے، اگر نیت کا قبلہ درست نہیں ہے تو ساری کاوشیں بیکار ہیں۔ امام بخاری نے اخیر میں کلمتان حبیبتان حدیث نقل کر کے اس جانب اشارہ کیا کہ آدمی خطا و نسیان سے مرکب ہے۔ مجلس کے دوران بہت سی باتیں نامناسب بھی ہو جاتی ہیں، جن کی نحوست سے نیکیاں بھی متاثر ہوتی ہیں،
اس لیے مجلس سے اٹھتے وقت کفارۂ مجلس کے طور پر سبحان اللہ و بحمدہ سبحان اللہ العظیم پڑھ لیا جائے تو گناہِ صغیرہ معاف ہو جاتے ہیں۔ یہ دونوں کلمے تلفظ اور زبان سے ادائیگی میں بڑے ہلکے ہیں، مگر قیامت کے دن ان کا وزن بہت زیادہ ہوگا۔ حدیث کی تشریح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنی صفتِ عدل کا اظہار فرمائیں گے اور اس کے لیے میزانِ عدل بھی قائم فرمائیں گے، جس سے ہر انسان کے قول و عمل کو تولا جائے گا۔

عقل پرستوں کا اشکال ہے کہ قول اور عمل تو جسم سے خالی ہوتے ہیں، پھر ان کا وزن کیسے ہوگا؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ آخرت کو دنیا پر قیاس کرنا ہی سراسر غلط ہے، دوسری بات یہ ہے کہ آج سائنس کے ذریعے ہوا کی پیمائش ہو رہی ہے، گرمی، سردی کو تولا جا رہا ہے، بخار کی مقدار کا وزن ہو جاتا ہے، حالانکہ یہ ساری چیزیں جسم سے خالی ہیں، اگر اللہ تعالیٰ قول و عمل کا وزن کر دیں تو حیرت کیوں؟ انہوں نے کہا کہ بخاری شریف کے تراجم بڑے ہی معنیٰ خیز ہوتے ہیں، فقہ البخاری فی تراجمہ۔ انہوں نے کہا کہ امام العصر علامہ انور شاہ کشمیریؒ فرماتے تھے کہ کاش امام ابنِ تیمیہ اس پر روشنی ڈال دیتے تو احادیث کے شائقین پر بڑا احسان ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کے معاشی واقتصادی حالات قابل غور ہیں۔
مولانانے کہا کہ گزشتہ دو سالوں سے کورونا کے نام سے ایک عالمی بحران آیا، جس نے سیاسی، سماجی اور معاشی دنیا کو تہ و بالا کر کے رکھ دیا۔ اس بحران نے مدارس کو بھی زیر و زبر کر دیا۔ الحمدللہ جامعہ ان حالات میں بھی باندازِ دگر جاری رہا اور آن لائن تعلیم کے ذریعے طلبہ کی تعلیم و تربیت کا بیڑہ اٹھایا۔
مولانا احمد خضر شاہ مسعودی نے طلبہ کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے ان گنت لوگوں میں سے خدمت دین کے لئے خصوصی طور سے آپ لوگوں کا انتخاب کیا ہے تو آپ لوگوں کی ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں، طلبہ کی سب سے اہم ذمہ داری اخلاص وللہیت کے ساتھ علم دین کا حصول ہے جس کے لئے خاطر خواہ محنت ومشقت اور جوش وجذبہ درکار ہے، بغیر محنت ومشقت کے کسی بھی بامقصد چیز کی طلب ناممکن ہے۔
انہوں نے کہا کہ علم دین کے حصول کے بعد ایک طالب علم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنی پڑی ہوئی اسلامی تعلیمات کی رو سے بدعت وخرافات کو ختم کریں اور سوسائٹی میں پیدا ہورہیں دقیانوسی وفرسودہ روایات کے انسداد کے لئے عملی اقدامات اٹھائیں۔ توحید کے مفہوم اور لاالٰہ الا اللہ کے ارکان اور مقتضیات سے مسلمانوں کو باخبر کریں ۔
مولانا احمد خضر شاہ نے کہا کہ طلبہ پر فرض ہے کہ وہ اپنے والدین کی قدردانی کے ساتھ اپنے اساتذہ کرام کی عزت کریں کیوں کہ والدین اپنی اولاد کی جسمانی پرورش کرتے ہیں ،جب کہ اساتذہ اپنے شاگردوں کی ذہنی ، اسلامی، اخلاقی، تعلیمی اور روحانی تربیت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طالب علم کے اخلاق وکردار ، اعداد واطوار ، چال چلن وضع قطع میں اسلامی اقدار وروایات کی جھلک نمایاں ہونی چاہئے، کیو ںکہ لوگوں کی نظریں آپ کے اوپر رہتی ہیں، آپ نے جو یہاں سے علم حاصل کیا ہے اس کو پھیلانا اب آپ کی ذمہ داری ہے۔
انہوںنے کہا کہ یہ بات صحیح ہے کہ دینی طلبہ کو گندی سیاست سے دوررہنا چاہئے ، قوم وملت کی تعمیر وترقی اور ارتقائِ ادوار کے قبور میں نوجوان نسل نہایت ہی اہمیت کی حامل ہے، کیوں کہ آپ لوگ قوم کے مقد ر کا ستارہ بن سکتے ہیں ۔ اس سے پہلے جامعہ امام محمد انور شاہ دیوبند کے استاذِ حدیث و نائب ناظمِ تعلیمات مولانا سید فضیل احمد ناصری نے اپنی نظامتی تقریر میں کہا کہ جامعہ کی 23 سالہ عمر کے دوران بخاری شریف کی یہ تقریب تیرہویں تقریب ہے۔ اس تقریب میں اساتذہ کے ہاتھوں دورۂ حدیث اور افتا کے تمام طلبہ کی دستار بندی بھی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نازک حالات میں مسلمانوں کو اپنی مذہبی وابستگی مضبوط کرنے کی ضرورت ہے، اسی میں خیر اور اللہ کی طرف سے نصرت ہوگی۔
جامعہ کے صدر المدرسین مفتی وصی احمد قاسمی نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ نوجوان فضلا اپنے اکابر کی تحریروں کو اپنے مطالعے کا حصہ بنائیں۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ، حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی، شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی جیسی شخصیات کی کتابیں بہت مفید ثابت ہوں گی۔
اس موقع پر جامعہ کے معاونین اور ملک کی ترقی ، ملت اسلامیہ کے لئے دعاکی گئی ۔ اس موقع پر مولانا صغیر پرتاپ گڑھی، مولانا مفتی نثار خالد، مولانا عثمان، مفتی نوید ، مولانا بدرالاسلام، مولانا شبیر، مولانا احمد سعید پالن پوری ، قاری بلال، مولانا ثاقب، مولانا زکی انجم، ماسٹر زعیم عابد، مولانا سلیم قاسمی عثمانی، حافظ حمدان شاہ سمیت بڑی تعداد میں لوگ موجود رہے۔
