ملنا ساگر کی باز آباد کالونیوں میں تین مساجد کی تعمیر سے اتفاق

تازہ خبر تلنگانہ

فاروق حسین کی تجویز پر چیف منسٹر کا مثبت ردعمل ‘وزیر فینانس وکلکٹر کو ضروری ہدایت
سدی پیٹ 23فروری
( نمائندہ خصوصی)
چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے ٹی آرایس رکن قانون ساز کونسل مسٹر فاروق حسین کی توجہہ دہانی پر ملنا ساگر پراجیکٹ میں غرق تین مواضعات کے عوام کیلئے تین علیحدہ علیحدہ مساجد کی تعمیر سے اتفاق کیا اور فوری طورپر وزیر فینانس مسٹر ٹی ہریش راؤ اور کلکٹر ضلع سدی پیٹ مسٹر ہنمنت کو ہدایت دی کہ وہ فاروق حسین سے تحریری طورپر نمائندگی حاصل کرتے ہوئے حکومت کو جگہ اور تعمیر مساجد کیلئے رقومات کی منظوری کی خاطرتجویز پیش کریں ۔

چیف منسٹر نے یہ ہدایت آج اس وقت دی جبکہ وہ ملنا ساگر کو قو م کے نام معنون کرنے اور پانی کی اجرائی کے بعد منعقدہ جلسہ کے دوران ملاقات کے وقت دی۔ قبل ازیں فاروق حسین نے چیف منسٹر کو بتایا کہ ملنا ساگر کی تعمیر کی وجہہ سے جو تین مواضعات ویملگھاٹ ‘ایراویلی اور سنگارم غرق ہوئے ہیں ۔

ان مواضعات کی عوام کو گجویل اسمبلی حلقہ میں با ز آباد کیا گیا مگر تینوں مواضعات کے مسلمانوں کیلئے نئی کالونیوں میں مساجد دستیاب نہیں ہے جبکہ ان مواضعات میں جو ذخیرہ آب کی تعمیر کیلئے حاصل کیا گیا وہاں مساجد موجود تھے ۔ با ز آباد کالونیوں میں مساجد کے نہ ہونے سے مسلمانوں کو تین ‘چار کیلو میٹر کی مسافت طئے کرتے ہوئے عبادت کرنے پر مجبور ہونا پڑرہا ہے۔

اس لئے ان کی سہولت کیلئے تین مساجد کی تعمیر عمل میں لائی جائے جس پر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ نے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ سرکاری طورپر زمین حاصل کرنے اور ایک ‘ ایک کروڑ روپئے کے صرفہ سے ایک ایک مسجد کی تعمیر سے اتفاق کیا۔ فارو ق حسین نے اس موقع پر بتایا کہ ویملگھاٹ دوباک اسمبلی حلقہ میں اور ایرویلی مواضعات چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھرراؤ کے اسمبلی حلقہ گجویل میں آتے ہیں۔

مذکورہ تینوں مواضعات کے عوام کو باز آباد کرنے کیلئے نئی کالونیاں بناکر باز آباد کیا گیا جنہیں ایک مارڈن کالونی کے طورپر تیار کیا گیا ۔ہرایک متاثر کو پلاٹس بھی دئیے گئے لیکن مسجد کیلئے پلاٹس کا انتظام نہیں کیا گیا۔ کے سی آرنے کہا کہ یہ ان کے ضلع کا معاملہ ہے وہ فوری طورپر مساجد کو تعمیر کرنا چاہتے ہیں تاکہ مسلمانوں کو نمازوں اور دیگر عبادتوں کیلئے سہولت ہو۔