دہلی کے جہانگیرپوری تشدد واقعہ میں 20 افراد گرفتار، پستول برآمد

تازہ خبر قومی

صورتحال قابو میں۔زخمی سب انسپکٹر کی حالت مستحکم
جلوس میں مذہب کے پرامن پیروکار پستول، بندوقیں اور تلواریں کیوں اٹھائے ہوئے ہیں؟ راعناایوب

دہلی:17؍اپریل
(زین نیوز)
دہلی کے جہانگیرپوری علاقہ میں ہفتہ کو ہنومان جینتی کے موقع پر نکالے گئے جلوس میں دو گروپوں میں  پتھراؤ کے بعد پھوٹ پڑے تشدد کے سلسلے میں پولیس نے 20 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ اتوار کو معلومات دیتے ہوئے، حکام نے بتایا کہ گرفتار کیے جانے والوں میں ایک 21 سالہ نوجوان بھی شامل ہے، جس نے مبینہ طور پر فائرنگ کی تھی جو ایک پولیس سب انسپکٹر کو لگی تھی۔

دہلی پولیس کے اہلکاروں نے ملزم محمد اسلم کے قبضہ سے ایک پستول بھی برآمد کیا، جس سے اس نے مبینہ طور پر ہفتہ کی شام کو فائرنگ کی تھی۔ ملزم جہانگیرپوری میں واقع سی آر پارک کی کچی آبادی کا رہائشی ہے۔

دہلی پولیس نے اپنے ٹویٹ کے ذریعہ بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کی بنیاد پر جہانگیرپوری واقعہ میں کل 14 فسادیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں گولیاں چلانے والا شخص بھی شامل ہے۔ اس کے قبضہ سے استعمال شدہ پستول بھی برآمد ہوا ہے۔ باقی فسادیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے تاکہ سخت قانونی کارروائی کی جا سکے۔

حکام نے بتایا کہ ہفتہ کی شام دونوں برادریوں کے درمیان پتھراؤ ہوا اور کچھ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ تشدد میں آٹھ پولیس اہلکار اور ایک شہری زخمی ہوئے۔ شمال مغربی دہلی کی ڈپٹی کمشنر پولیس اوشا رنگنانی نے کہا کہ ہفتہ کو تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 307 (قتل کی کوشش)، 120 بی (مجرمانہ سازش)، 147 (فساد) اور اس سے متعلقہ دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی۔ آرمس ایکٹ کیا گیا تھا۔

 

اوشا رنگنی نے کہا کہ ایف آئی آر کے سلسلے میں اب تک 9 لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ مزید 5 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ملزم جس کی شناخت محمد اسلم کے نام سے ہوئی ہے، نے دہلی پولیس کے سب انسپکٹر کو گولی مار کر زخمی کر دیا۔

ملزم کے قبضے سے واردات کے وقت استعمال ہونے والا پستول برآمد کر لیا گیا ہے۔ رنگنانی نے بتایا کہ اسلم ایک اور کیس میں بھی ملوث پایا گیا ہے۔ ان کے خلاف 2020 میں جہانگیر تھانے میں تعزیرات ہند کی متعدد دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر رنگنانی کے مطابق تشدد میں کل نو افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں آٹھ پولیس اہلکار اور ایک شہری شامل ہیں اور سبھی کا علاج بابو جگجیون رام میموریل ہسپتال میں کیا جا رہا ہے۔ ڈپٹی کمشنر آف پولیس نے بتایا کہ سب انسپکٹر کو گولی لگی ہے اور اس کی حالت مستحکم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتوار کی صبح جہانگیرپوری میں پولیس کی بڑی تعداد موقع پر موجود تھی اور صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے ریپڈ ایکشن فورس کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

پولیس کے ڈپٹی کمشنر رنگنانی کے مطابق اس وقت علاقہ میں حالات معمول پر ہیں۔ ایک اور پولیس افسر نے بتایا کہ افراتفری پھیلانے میں ملوث افراد کی شناخت کے لیے ڈرون اور چہرے کی شناخت کرنے والے سافٹ ویئر کی مدد لی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ جائے وقوعہ اور اطراف میں نصب سی سی ٹی وی کیمروں اور موبائل فونز میں ریکارڈ شدہ فوٹیج کی چھان بین کی جارہی ہے۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لیے، قومی راجدھانی کے باقی تمام 14 پولیس اضلاع میں حفاظتی انتظامات کو بڑھا دیا گیا ہے او ر جدید ٹکنالوجی کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے۔

دہلی کی ایک عدالت نے اتوار کے روز دو افراد بشمول ایک 21 سالہ شخص کو، جس نے مبینہ طور پر جہانگیر پوری علاقے میں ہنومان جینتی جلوس کے دوران تشدد میں ایک پولیس سب انسپکٹر کو گولی مار دی تھی، کو پولیس کی تحویل میں دے دیا۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ دویا ملہوترا نے محمد اسلم اور ایک دوسرے شریک ملزم محمد انصار کو پیر تک پولیس کی تحویل میں دے دیا، جب کہ دیگر 12 ملزمان کو 14 دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔

سی سی فوٹیج اور تصاویر کے مطابق ہاتھوں میں ہتھیار ‘ بندوقیں ‘ تلواریں وغیرہ لیکر نکلنے والے جلوس میں شامل افراد تھے لیکن پولیس کی جانب سے گرفتار لوگوں میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔اس سے صاف واضح ہوتا ہے کہ پولیس نے ایکطرفہ کارروائی انجام دی ہے ۔

وزیر اعلیٰ دہلی مسٹر اروند کیجروال نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہاکہ دہلی کے جہانگیر پوری میں جلوس پر پتھراؤ کا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ تمام لوگوں سے اپیل – ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر امن رکھیں۔

مشہور و نامور بے باک صحافی راعنا ایوب نے اپنے ٹویٹ میں لکھا کہ ‘تاہم، شام کو، افطار کے وقت، ہنومان جینتی کے جلوس نے مسجد سے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا تھا اور مبینہ طور پر زعفرانی جھنڈے لیکرمساجد میں موجود لوگوں پر فرقہ وارانہ نعرے بازی شروع کر دی تھی،صفوں کو بھڑکا دیا۔ جس سے صف چھڑ گئی تھی۔

اور ایک ٹویٹ میں انڈیا ٹوڈ ے نیوز کا ایک ویڈیوشیئر کرتے ہوئے راعنا ایوب نے سوال اٹھائے ہیں کہ ہنومان جینتی کے موقع پر مذہب کے پرامن پیروکار پستول، بندوقیں اور تلواریں کیوں اٹھائے ہوئے ہیں؟ یہ پہلے سے منصوبہ بند ہے اور اس ملک کو فرقہ وارانہ گڑھے میں تبدیل کرنے کے سیاسی بیانیے کے مطابق ہے۔