راجہ سنگھ ضمانت معاملہ:نامپلی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج 

تازہ خبر تلنگانہ
 ہائیکورٹ پولیس ریمانڈ کی درخواست پر کل جمعہ26؍اگست کو سماعت کرے گی
ہائی کورٹ میں آج مقدمہ کی سماعت‘41-Aکے تحت دوپولیس اسٹیشنس کی تازہ نوٹس
 حیدرآباد۔25؍اگست 
(زین نیوز)  
سٹی پولیس حیدرآبادنے گوشہ محل کے گستاخ معطل بی جے پی ایم ایل اے راجہ سنگھ کے ریمانڈ مسئلہ کو ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ پولیس نے نامپلی عدالت کی جانب سے راجہ سنگھ کے ریمانڈ کو مسترد کئے جانے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ ہائیکورٹ پولیس ریمانڈ کی درخواست پر کل جمعہ26؍اگست کو سماعت کرے گی۔
 راجہ سنگھ کو منگل ہاٹ پولیس نے دو دن پہلے ایک مخصوص طبقہ کے خلاف نامناسب تبصرہ  اور پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میںگستاخی کرنے کے معاملے میں نامپلی کی فوجداری عدالت میں پیش کیا تھا۔ سب سے پہلے، عدالت نے راجہ سنگھ کو 14 دن کے لئے ریمانڈ دیا. جس پر اس ملعون کے وکیل نے اسے عدالت میں چیلنج کیا۔   وکیل نے عدالت میں دلیل دی کہ پولیس نے 41 اے سی آر پی سی کی شرط پر عمل نہیں کیا۔
عدالت نے کہا کہ پولیس کی جانب سے ریمانڈ کا طریقہ کار درست نہیں۔ اس کے ساتھ ہی یہ فیصلہ راجہ سنگھ کے ریمانڈ کو مسترد کرتے ہوئے کیا گیا۔14ایڈیشنل میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت نے راجہ سنگھ کو فوراً رہا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔دریس اثناء   ملعون ایم ایل اے راجہ سنگھ کو ایک اور غیر متوقع جھٹکا لگا جہاں پولیس نے ایک بار پھر راج سنگھ کو نوٹس بھیجا۔ پرانے کیسوں سے متعلق دو معاملات میں  41(A) سی آر پی سی کی نوٹسس دئے ہیں۔ پولیس نے فروری اور اپریل کے مہینے میں راجہ سنگھ کو نوٹس جاری کئے تھے۔
 اس سلسلہ میں منگل ہاٹ اور شاہ عنایت گنج پولیس نے دو نوٹس دئے ہیں۔ منگل ہاٹ پولیس اسٹیشن میں جرم نمبر 68/2022 اور شاہ عنایت گنج پولیس اسٹیشنمیں جرم نمبر 71/2022 میں مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ اس موقع پر راجہ سنگھ نے پولیس کے نوٹس کا جواب دیا۔بعدازاں راجہ سنگھ نے میڈیاکو بتایا کہ’’پولیس مجھے دوبارہ گرفتار کرنے کی سازش کر رہی ہے۔
 پرانے مقدمات کے سلسلے میں 41(A) سی آر پی سی نوٹس دئے گئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اپریل کے واقعہ کے حوالے سے اب نوٹس دینے کا کیا مقصد ہے؟ مردود ایم ایل اے نے پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازعہ تبصرہ کیاتھاجس پر اس  کے خلاف مسلمانوں نے مختلف پولیس اسٹیشنس میں شکایتیں درج کروائیں اس پر مقدمات بھی درج کئے  ۔
  بعد میں عدالت نے تکنیکی بنیادپر اس کی ضمانت منظور کر لی اور وہ باہر آ یا۔اس نے پیغمبر اسلامﷺ کے بارے میں متنازعہ تبصرہ کیا ہے۔