مومنینِ سہارنپور کی جانب سے ’’رسولِ اکرمؐ اور کردار سازی ‘‘کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد
دیوبند، 22؍ ستمبر
(رضوان سلمانی) اسلام دشمن طاقتوں کی جانب سے اسلام پیغمبرِ اسلام سیّدنا حضرت محمدﷺ کی اقدس میں مسلسل ہورہی گستا خیوں اور کردار کشی کی ناپاک حرکتوں کے پیشِ نظر مومنینِ سہارنپور کی جانب سے امام باڑہ جعفر نواز میں’’رسولِ اکرمؐ اور کردار سازی ‘‘کے عنوان سے ایک پُر وقار سیمینار کا انعقاد کیا گیا ۔ سیمینار کا آغاز تلاوتِ کلام پاک ،درودو سلام اور سوز خوانی سے ہوا ۔
سیمینار کے کنوینر فرحت مہدی نے نظامت کرتے ہوئے سیمینار کی غرض و غایت بیان کی ۔ڈاکٹر شاہد زبیری نے اسلام اور پیغمبرِ اسلاؐ م کی شانِ اقدس میں فرقہ پرست اور اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے جاری اس ناپاک مہم کے موجودہ تناظر میں سیمینار کے انعقاد پر منتظمین کی ستائش کی اور آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد سے شاتمانِ رسولؐ کی ناپاک حرکتوں کے پسِ پشت ناپاک مقاصد سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ ا س طرح کی دشنام طرازیوں کا علماء اور سیرت نگاروں کی طرف سے علمی، مدلل اور دنداں شکن جواب قلم سے دیا جاتا رہا ہے ۔
اس سلسلہ میں انہوں نے سرسیّد ؒ کی کتاب خطباتِ احمدیہ جو سر ولیم میور کی دشنام طرازی کے جواب میں لکھی گئی تھی اس کا حوالہ خاص طور پر دیا اور اس بات کا افسوس ظاہر کیا کہ ہماری نئی نسل رسولِ اکرمؐ کا کلمہ ضرور پڑھتی ہے اور گستاخئی رسولؐ کے خلاف جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتی لیکن سیرتِ رسولؐ سے نا آشنا ہے انہوں نے نئی نسل کو سیرتِ رسولؐ سے آشنا کرانے پر زور دیا ۔ اسلامیہ انٹر کالج کے ریٹائرڈ پرنسپل جلال عمر نے کہا کہ اگر رسولؐ کی سیرت کو سمجھنا ہے تو قرآن کو سمجھنا ہوگا اور قرآن کو سمجھنا ہے تو سیرتِ رسولؐ کو سمجھنا ہو گا ۔
انہوں نے کہ یہ دونوں ایک دوسرے کیلئے لازمِ و ملزوم ہے انہوں نے خطبہ حجۃ الوداع کو وحدتِ انسانی اور احترامِ آدمیت کا سب سے پہلا چارٹر اور منشور قرار دیا اور کہا کہ یہ منشور نسلی تفاخر اور قبائلی عصبیتوں کے خلاف ہے ۔ تنظیم المکاتب کی مجلسِ انتظامیہ کے رکن مولانا تقی عسکری نے اپنے عالمانہ خطاب میں کہا کہ سیرتِ رسولؐ سے واقفیت صرف سننے سے نہیں ہوگی سیرت ِ رسولؐ پر لکھی کتابوں سے بھی ہو گی۔
انہوں نے مولانا شبلی کی سیرت نگاری اور ان کی تصنیف سیرت النّبیؐ کے حوالہ سے کہا کہ کتا بیں تو موجود ہیں وہ جس زبان میں ہیں اس زبان اردو کو جاننے اور سمجھنے والے دن بدن کم ہورہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اسلام مسلمانوں کو قلم اور کتاب سے جوڑتا ہے ہمیں کتاب اور قلم سے تعلق مضبوط کرنا چاہئے ،اپنی بستیوں میں لائبریریاں قائم کرنی چا ہئے ۔
اپنے اختتامی کلمات میں مولانا سیّد علی ہاشم نے کہا کہ رسولِ اکرمؐ نے تلوار سے نہیں کردار سے دل جیتے ہیں انہوں نے تلوار کے زور پر زمینوں پر قبضہ کر نے کی فکر کبھی نہیں کی ۔انہوں نے کہا کردار اگر کسی کا پرکھا جا تا ہے تو عوام میں اس کی مقبولیت کو معیار نہیں مانا جاتا، گھر والوں خاص طور شریکِ حیات کی گواہی مسلم ہو تی ہے۔
انہوں نے کہا کہ امّہات المونین حضرت خدیجہؓ نے رسولِ اکرم کے کردار کی گواہی دی ہے اور تبلیغ ِ اسلام میں بھر پور ساتھ دیا ہے ۔انہوں نے اس سلسلہ کی دوسری مثال بیت المال کی تقسیم کی دی اور کہا کہ رسولِ اکرمؐ نے کسی کے ساتھ اس معاملہ میں کوئی امتیاز نہیں برتا،مساوی سلوک کیا ۔ امام باڑہ کے متولی ڈاکٹر اطہرعبّاس زیدی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔
مولانا اظہار حیدر ، ڈاکٹر زیڈ اے کوثر ،نصرت عزیز ،ماسٹر آصف کاظمی ،مولانا سالم کاظمی ،افتخار حسین زیدی جرنلسٹ،اختر علی زیدی ،واجد علی زیدی،آصف علی حواری، ریاست علی حواری ،ارشد قریشی قاضی محمد اکرم ،فرقان علی بخشی ، مرزا مہربان مثیّب رضا، علی تاجور نمایاں تھے ۔
