مسلمانوں کو پاکستانی یا جہادی کہا جاتا ہے تو ہمیں بھی تکلیف ہوتی ہے۔ایس وائی قریشی
نئی دہلی :۔22؍ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے منگل کو پانچ مسلم دانشوروں کے ساتھ بند کمرے میں میٹنگ کی۔ اس میٹنگ میں موہن بھاگوت نے گائے کے ذبیحہ پر پابندی لگانے سے لے کر ہندوؤں کے بارے میں کافر اور جہاد جیسے الفاظ کے استعمال پر بھی سوال اٹھایا۔
انگریزی روزنامہ دی ہندو اور انڈین ایکسپریس نے اپنے صفحہ اول پر اس سے متعلق خبر دی ہے۔اس میٹنگ میں موہن بھاگوت نے ملک کے سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی، دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ضمیر الدین شاہ، نیشنل لوک دل کے قومی نائب صدر و مدیر نئی دنیا شاہد صدیقی اور تاجر سعید شیروانی کے ساتھ بات چیت کی۔
دی ہندو نے آر ایس ایس کے ایک ذریعہ کے حوالے سے کہا کہ بات چیت میں ہندو اور مسلم کمیونٹیز کے درمیان بھائی چارے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے طریقے تلاش کیے گئے۔ذرائع نے اخبار کو بتایا، ’’بھاگوت نے پہلے ان سے گائے کے ذبیحہ پر اپنا موقف واضح کرنے کو کہا۔ اس پر ان لوگوں نے کہا کہ وہ اس کے خلاف ہیں۔ انہیں بتایا گیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بانی سر سید احمد خان نے تمام برادریوں کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے یونیورسٹی کیمپس میں گائے کے گوشت پر پابندی عائد کی تھی
ایس وائی قریشی نے این ڈی ٹی وی کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر کہا کہ ہمیں بھی اس سے تشویش ہے اور اگر کوئی گائے کے ذبیحہ میں ملوث ہے تو اسے قانون کے تحت سزا ملنی چاہیے۔ذرائع نے بتایا کہ آر ایس ایس سربراہ نے ہندوؤں کے لیے لفظ ‘کافر’ کے استعمال پر سوال اٹھائے جو اس کے بعد ان سے ملنے آئے تھے، جب انہیں بتایا گیا کہ عربی میں اس لفظ کا مطلب ہے وہ شخص جو (خدا کے نام) کے وجود کو مسترد کرتا ہےقریشی کے مطابق یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے حل نہ کیا جا سکے۔
انہوں نے این ڈی ٹی وی کو بتایا، "ہم نے انہیں بتایا کہ جب ہندوستان کے کسی مسلمان کو پاکستانی یا جہادی کہا جاتا ہے تو ہمیں بھی دکھ ہوتا ہے۔”ذرائع کے مطابق مسلمانوں کے اس وفد میں شامل ایک شخص نے موہن بھاگوت سے پوچھا، ’’ہندو کیسے ‘کافر’ ہوسکتے ہیں؟ وہ بھی خدا کو مانتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مسلم دانشوروں نے لفظ ‘جہاد’ کے بارے میں موہن بھاگوت کو بتایا کہ وہ کبھی اس لفظ کا استعمال نہیں کرتے۔ اخبار ہندو لکھتا ہے کہ مسلم نمائندوں نے آر ایس ایس کے سربراہ کو بتایا کہ ‘سماج دشمن عناصر’ ملک کو تقسیم کرنے کی نیت سے اس کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔
مسلم دانشوروں کا کہنا تھا کہ اس لفظ کا اصل مطلب ‘خود کو بہتر کرنے کے لیے اپنے اندر نفس کو مارنے کی کوشش’ ہے۔رپورٹ کے مطابق مسلم دانشوروں نے لفظ ‘جہاد’ کے بارے میں موہن بھاگوت کو بتایا کہ وہ کبھی اس لفظ کا استعمال نہیں کرتے۔ اخبار ہندو لکھتا ہے کہ مسلم نمائندوں نے آر ایس ایس کے سربراہ کو بتایا کہ ‘سماج دشمن عناصر’ ملک کو تقسیم کرنے کی نیت سے اس کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔
مسلم دانشوروں کا کہنا تھا کہ اس لفظ کا اصل مطلب ‘خود کو بہتر کرنے کے لیے اپنے اندر کی کوشش’ ہے۔ایس وائی قریشی نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ وفد نے آبادی اور تعدد ازدواج کے رواج کے بارے میں مسلمانوں کو بدنام کرنے کے لیے چلائے جانے والے پروپیگنڈے پر سوال اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق اس سے مسلمانوں کی سٹیریو ٹائپ امیج مضبوط ہو رہی ہے