نظام پورہ یوتھ اسوسی ایشن کورٹلہ کے انتخابات۔
کورٹلہ :5؍مئی
(زین نیوز)
نظام یوتھ اسوسی ایشن کورٹلہ کے انتخابات جناب محمد سليم فاردقی ‘ جناب مسیح الدین اورجناب ایم اے ماجد کی نگرانی میں منعقد ہوۓ ۔
جملہ 46 ممبروں نے اپنے ووٹوں کا استعمال کیا ۔ جناب اسلم کا نظام پورہ یوتھ اسوسی ایشن کورٹلہ کے صدر کے لیے انتخاب عمل میں آیا ‘ جناب اکرم اللہ خان کو جنرل سکریٹری جناب زبیر، جناب واجد اور جناب عرفان شکیل کو نائب صدور اورجناب عظیم الدین کوجوائنٹ سکریٹری اورجناب ریاض کو خازن منتخب کیا گیا۔
اڈوائزنگ باڈی ممبرس کے طور پر جناب محمد سلیم
فاروقی ،جناب ایم اےمبین ،جناب ایم اے ماجد، جناب الیاس، جناب ایم ڈی ریاض،جناب ساجد،جناب مسیح الدین ،جناب خواجہ علیم الدین ، جناب سردارسمیع اللہ امیر‘ اور جناب ربانی کا انتخاب عمل میں آیا۔
اس موقع پر نظام یوتھ اسوسی ایشن کے ممبروں سے مخاطب کرتے ہوئے مولانا محمد غیاث الدین کورٹلوی نے کہا کہ آج ملک نازک حالات سے گزر رہا ہے۔ مسلم نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو دین اسلام سے دور کرنے کی گہری سازش کی جارہی ہےتمام سرکاری کالجوں اور اسکولوں کی نصابی کتابوں سے مسلمانوں کی خدمات کے مواد کو ہٹا کر نصابی کتابوں میں رامائن اور مہابھارت شامل کرتے ہوں مسلم بچوں اور بچیوں کو اسلامی عقائد سے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری غفلت کا نتیجہ ہے کہ ہمارے تعلیم یافتہ لڑکے اور لڑکیاں جو اعلی تعليم يا فتہ ہیں اور جو عصری تعلیم میں اپنی صلاحتیوں کا لوہا منوا رہے ہیں۔ اسلامی احکامات بلکہ اسلامی عقائد تک سے ناواقف ہیں۔
اگر مسلمان اسی طرح خواب غفلت میں پڑے رہیں گےاور مسلم بچوں اور بچیوں کی تعلیم اور ان کی تربیت پر توجہ نہیں دیں گے تو ہماری آنے والی نسل کا دین ِاسلام پر رہنا مشکل ہوجائے گا۔
انہوں نے نظام یوتھ اسوسی ایشن کورٹلہ کے نوجوانوں سے اپنے اور اپنے گھر والوں کی اصلاح و تربیت پر توجہ دینے نمازوں کی پا بندی کرنےاور سماجی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی خواہش کی ۔محلہ کی خواتین کو اسلامی احکامات سے واقف کرانے کے لیے کوئ مضبوط انتظام کرنے کی گزارش کی۔
انھوں نے کہا کہ غریبوں ‘ محتاجوں‘ کی بلالحاظ مذہب و ملت خدمت کرنے سےبرادارانِ وطن کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے تعلق سے جو غلط فہمیاں پیدا ہوئیں ہیں وہ دور ہوں گی ۔آج فرقہ پرست طاقتیں اسلام اور مسلمانوں سے نفرت کا ماحول بنا رہی ہیں ایسے حالات میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں ۔