روس ۔یوکرین مذاکرات شروع۔ کوئی جھکنے کو تیار نہیں

تازہ خبر عالمی

نئی دہلی :28؍فروری
(اے ایم این ایس)
روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے پانچویں روز آج بیلاروس کی سرحد پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے ہیں۔ لیکن بات چیت سے قبل جو خبریں سامنے آئی ہیں ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی چل رہی تھی اور دونوں نے ایک دوسرے کو دھمکیوں کی شکل میں بیانات بھی دیے تھے۔

مذاکرات سے قبل یوکرین کے صدر زیلنسکی نے بیان دیا ہے کہ یوکرین کسی بھی حالت میں روس کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق زیلنسکی نے بیان دیا ہے کہ بات چیت سے مسئلہ حل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روس بار بار یوکرین پر ہتھیار ڈالنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے

یوکرین کے صدر کے دفتر نے پیر کو مطلع کیا ہے کہ روس کے ساتھ بات چیت کے لیے ایک وفد بیلاروس کی سرحد پر پہنچ گیا ہے۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ مذاکرات جنگ کے حل کی طرف لے جائیں گے۔ یوکرین کے صدر زیلینسکی کے دفتر نے کہا کہ وہ روس سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرے گا۔

اس کے ساتھ ساتھ روس یوکرین کی دارالحکومت کیف کے لوگوں کو مسلسل دارالحکومت چھوڑنے کا مشورہ دے رہا ہے۔ روس یہ بھی اعلان کر رہا ہے کہ اگر کیف کے لوگ روس سے مدد چاہتے ہیں تو وہ بھی ان کی مدد کے لیے تیار ہے۔ روس کے موقف سے فی الوقت یہ واضح نہیں ہے کہ روس آخر کار یوکرین کی جنگ یا مذاکرات سے کیا چاہتا ہے

واضح رہے کہ روس نے 24 فروری کو یوکرین پر حملہ کیا تھا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان جنگ پانچویں دن تک جاری ہے۔ روس نے آج دعویٰ کیا ہے کہ اس نے یوکرین کی فضائی حدود پر قبضہ کر لیا ہے۔ ساتھ ہی دونوں ممالک یوکرین کے دارالحکومت پر قبضے کے حوالے سے مختلف دعوے کر رہے ہیں۔ جنگ کے درمیان ہندوستان اپنے شہریوں کو وہاں سے نکالنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔

روس-یوکرین جنگ کے پانچویں دن، دونوں ممالک میز پر آئے۔ مذاکرات ہوئے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بھی ہوا۔ اس میں یورپی یونین نے کہا کہ روس کو بین الاقوامی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے رکن ممالک ڈونسک اورل وہانسک کو تسلیم نہیں کرتے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں یورپی یونین نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ روس کو عالمی قوانین کا احترام کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی، یورپی یونین نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ ڈونسک اور لوہانسک کو الگ الگ اقوام کے طور پر تسلیم نہ کریں۔ یوکرین کو شکست دینے کے لیے روس نے ڈونسک اور لوہانسک کو الگ ملک کا درجہ دے دیا ہے۔