ریٹا بہوگنا کی بیٹے کو ٹکٹ دینےکی مانگ۔ ایم پی کے عہدہ سے استعفیٰ دینے کی پیشکش

تازہ خبر قومی

لوک سبھا رکن ریٹا بہوگنا جوشی کے موقف سے سیاسی حلقوں میں ہلچل
لکھنؤ :18؍جنوری
(اے ایم این ایس)
اترپردیش کے انتخابات میں بی جے پی کے لئے دن بد ن مشکلات میں اضافہ ہوتا جار ہا ہے ایک طر ف پسماندہ طبقات کے لیڈروں ‘ اور وزرا ء کے پارٹی چھوڑنے کے بعد لیڈروں کے بیٹوں، بیٹیوں اور رشتہ داروں کی جانب سے ٹکٹ کے دعووں کو لے کر بی جے پی میں اختلافات کھل کر سامنے آرہے ہیں
اتر پردیش میں الہ آباد کے پارلیمانی حلقے سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی لوک سبھا رکن ریٹابہوگنا جوشی کے موقف نے سیاسی حلقوں میں ہلچل بڑھا دی ہے۔

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ہیم وتی نندن بہوگنا کی بیٹی اور اتراکھنڈ کے سابق وزیر اعلیٰ وجے بہوگنا کی بہن پروفیسر ریٹا جوشی اپنے بیٹے میانک جوشی کے لیے بی جے پی سے ٹکٹ مانگ رہی ہیں انھوںنے منگل کو تجویز پیش کی کہ اگر پارٹی ان کے بیٹے میانک کو آئندہ اسمبلی انتخابات میں میدان میں اتارنے کی ان کی تجویز سے اتفاق کرتی ہے تو وہ رکن پارلیمنٹ کے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گی۔

انہوں نے منگل کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر اور بی جے پی کے اتر پردیش انچارج دھرمیندر پردھان سے ملاقات کی۔ کافی دیر تک ان کی اس بارے میں ریاستی انچارج سے بات چیت ہوتی رہی۔

ریٹا بہوگنا جوشی نے کہا اگر میرا بیٹا پارٹی ٹکٹ مانگ رہا ہے، تو یہ اس کا حق ہےمیانک کافی عرصے سے لکھنؤ کینٹ میں سرگرم ہے اور محنت کر رہا ہے، اسے ٹکٹ ملنا چاہیےوہ 2009 سے کام کر رہا ہے۔2016 میں بی جے پی میں شامل ہونے والی سابق کانگریس لیڈر نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے یہ تجویز پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا کو بھیجی ہےاور بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتر پردیش کے انچارج دھرمیندر پردھان سے ملاقات کی

اگر پارٹی میانک کو ٹکٹ دیتی ہے، تو وہ خود بھی قواعد پر عمل کرنے کے لیے استعفیٰ دینے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن میں کسی پارٹی میں نہیں جا رہی ہوں۔ بی جے پی میں ہوں اور رہوں گی۔ پارٹی میری تجویز کو قبول یا مسترد کرنے کا انتخاب کر سکتی ہے

دراصل بی جے پی نے ایک اصول بنایا ہے کہ ایک خاندان کے صرف ایک رکن کو ٹکٹ دیا جائے گا۔ اس ریٹا بہوگنا جوشی نے کہا ہے کہ وہ لوک سبھا سے استعفیٰ دیں گی تاکہ ان کے بیٹے میانک کو لکھنؤ کینٹ سے ٹکٹ دیا جا سکے