اسلاف کی شب ورووز کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے کہ آج ہم دین اسلام پر زندہ ہیں

تازہ خبر قومی
سروے سے گھبرانے کی ضرورت نہیں! جمعیۃ علماء بڈھانہ
دیوبند، 22؍ ستمبر 
(رضوان سلمانی)  
انگریز یہاں آئے،تو دارالحکومت دہلی میں 1000 سے زیادہ مدرسے تھے،ان کا عروج ختم ہوا تو چند مدرسے رہ گئے تھے،انگریز کا منصوبہ یہ تھاکہ اس کے جاتے ہی ہندوستان میں مدرسوں کا وجود ختم ہوجائے گا۔ ہمارے اکابر نے اُسی دور میں دارالعلوم دیوبند قائم کیا،آج دنیابھر میں دارالعلوم کے نہج پر مکاتب ومدارس کا ایک مکمل نظام چل رہاہے۔
 ان خیالات کا اظہار جمعیۃ علماء یوپی کے سکریٹری مولانا نذر محمد قاسمی نے قصبہ بڑھانہ کی حمزہ مسجد میں جمعیۃ علماء بڑھانہ کے زیر اہتمام منعقد اجلاس میں کیا۔ انھوں نے کہا سروے تو آزمائش ہے،اس سے ڈرنے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ انھوں نے کہا دارالعلوم فکر ولی اللہی کو زندہ وجاویدرکھنے کے لیے قائم ہوا ہے،یہی وہ فکر ولی اللہی ہے،جس کو اپناکر کوئی بھی انسان رضائے الٰہی کو پالیتا ہے۔
 جمعیۃ کے ضلع جنرل سکریٹری مولانا مکرم علی قاسمی نے کہا مدارس کے حساب کتاب اور دوسرے تمام دستاویزات کی تکمیل وقت کا تقاضہ ہے۔ کہیں کچھ کمی ہے تو ریاستی جمعیۃ علماء کی ہدایات پر ہر ضلع میں آٹھ وکلاء کی ٹیم تشکیل دی جارہی ہے۔ جمعیۃ علماء سے رابطہ کرکے ایسی خامیوں کو درست کرایاجاسکتا ہے۔
مولانا مکرم علی قاسمی نے یہ اعلان بھی کیا کہ دستاویزات کی تکمیل میں کسی ادارہ سے کوئی خرچ نہیں لیاجائے گا۔ انھوں نے اعلیٰ حکام سے جمعیۃ کے وفد کی ملاقات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ سروے میں آسانی ہوگی،کیونکہ یہ جانچ نہیں ہے۔ یہ صرف سروے ہے۔ پھر بھی کہیں کوئی پریشانی آتی ہے،تو جمعیۃ کو ضرور مطلع کیا جائے،تاکہ بروقت اس کا ازالہ کیا جاسکے۔
جمعیۃ علماء کے ضلع صدر مولانا محمد قاسم نے کہا پہلے ہمیں خود کی اصلاح کرنی ہوگی۔ روحانی بالیدگی کی طرف دھیان دینا ہوگا۔ انھوں نے کہا بلا ضرورت چندہ کرنے سے بچنا چاہیے کہ طلبہ پر اس کے غلط اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ انھوں نے کہا اسلاف کی شب ورووز کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے کہ آج ہم دین اسلام پر زندہ ہیں اور مذہب کے فروغ کے کام میں لگے ہیں۔
قبل ازیں بزرگ عالم دین مولانا عمران خان کے نمائندہ مولانا لقمان حسین پوری نے کہا ہ میں رجوع الی اللہ کی طرف توجہ کرنی ہوگی،جیساکہ دارالعلوم دیوبند نے باضابطہ اعلان کیا ہے۔ جمعیۃ کے شہر بڑھانہ صدر حافظ شیر دین نے کہا مدارس کی تاریخ تو سنہری ہے۔ مدارس سے تو ممتاز اور نامور فضلاء پیدا ہوئے ہیں۔
 انھوں نے کہا کہ میں آج نہیں تو کل مدارس کی زمرہ بندی کرنی ہوگی اور چندہ کے رائج طریقوں سے دیر سویر بچنا ہوگا۔ انھوں نے کہا اسلامی مدارس میں چونکہ اللہ کا کلام سکھایا اور پڑھایاجاتا ہے،اس لیے ان کے بانییں اور ذمہ داران میں اخلاص ہونا چاہیے اور وہ سو فی صد دیندار ہونے چاہئیں۔ انھوں نے کہا مدرسہ کا وجود ہی دین پر قائم ہے۔
ضلع میڈیا ترجمان آصف قریشی نے کہا مدارس کا تعلق ایمان سے ہے۔ اس لیے کسی بھی چھوٹے بڑے مدرسہ کی کوئی بُرائی نہ کی جائے۔ بہت ممکن ہے کہ فرد غلط ہو،تاہم فرد کی غلطی سے ادارہ کو بدنام کرنا ایمانی تقاضوں کے خلاف ہے۔ تمہیدی خطبہ میں مفتی عبدالقادر قاسمی نے سروے فارم میں دریافت کیے ۱۱سوالات پر تفصیلی کلام کیا اور فارم پُر کرنے کا طریقہَ کار بتلایا اور دستاویزات کی تکمیل کے طور طریقہ پر بھی روشنی ڈالی۔
 پاس کردہ تجویز میں کہا گیا کہ سروے میں ٹکرانا نہیں بلکہ تعاون ہونا چاہیے۔اجلاس کی صدارت جمعیۃ علماء شہر بڈھانہ کے صدر حافظ شیردین نے کی اور نظامت کے فرائض محمد آصف قریشی ضلع میڈیا انچارج جمعیۃ علماء ضلع مظفرنگر نے انجام دیے۔