سماجی جہد کار تیستا سیتلواد کو سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت منظور

تازہ خبر قومی
نئی دہلی : 2؍ستمبر
(زین نیوز)
 سماجی جہد کار تیستا سیتلواد کی ضمانت کی عرضی پر جمعہ کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ عدالت نے تیستا سیتلواد کو عبوری ضمانت دے دی ہے۔ واضح رہے کہ تیستا سیتلواڑ کو احمد آباد کرائم برانچ نے 25 جون کو ان کی این جی او سے متعلق ایک کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ خاتون دو ماہ سے زائد عرصہ سے حراست میں ہے۔ پولیس نے اس سے 7 دن تک پوچھ گچھ بھی کی ہے۔
چیف جسٹس آف انڈیا ادے امیش للت اور جسٹس ایس رویندرا بھٹ اور سدھانشو دھولیا کی بنچ نے یہ حکم اُس وقت دیا جب  تیستا سیتلوادنے گجرات ہائی کورٹ کے اس حکم کے خلاف سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھایا جس نے تیستا سیتلواد کی ضمانت کی عرضی پر طویل التوا کا حکم دیا تھا
سپریم کورٹ میں آج سماعت کے دوران تیستا سیتلواڑ کے وکیل اور گجرات حکومت کی طرف سے سالیسٹر جنرل کی جانب سے دلائل پیش کیے گئے۔ ان کی سماعت کے بعد عدالت نے تیستا کو عبوری ضمانت دینے کا فیصلہ کیا۔
 سپریم کورٹ نے تیستا کو باقاعدہ ضمانت کے لیے گجرات ہائی کورٹ میں عرضی داخل کرنے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے تیستا سیتلواڑ کو کچھ ہدایات دی ہیں۔ عدالت نے تیستا سے کہا ہے کہ وہ اپنا پاسپورٹ سپرد کرے اور تحقیقات میں تعاون کرے۔
واضح رہےکہ تیستا سیتلوادکو احمد آباد کرائم برانچ نے 25 جون کو ان کی این جی او سے متعلق ایک کیس کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا۔
اس سے قبل جمعرات کو سپریم کورٹ نے تیستا کیس میں گجرات ہائی کورٹ کے موقف پر حیرت کا اظہار کیا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ ہائی کورٹ تیستا کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے لیے 6 ہفتہ کیسے دے سکتی ہے؟
 اس کے ساتھ عدالت نے یہ بھی پوچھا تھا کہ کیا یہ گجرات ہائی کورٹ کا معیاری طریقہ کار ہے یا تیستا کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے بعد عدالت نے معاملہ آج پھر سماعت کے لیے رکھا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ خاتون دو ماہ سے زائد عرصہ سے حراست میں ہے
سپریم کورٹ نے کہا کہ گجرات ہائی کورٹ کو اس معاملہ کے زیر التوا کے دوران عبوری ضمانت کی درخواست پر غور کرنا چاہیے تھا کیونکہ حراست میں پوچھ گچھ مکمل ہو چکی تھی۔عبوری ضمانت دیتے ہوئے، عدالت نے نوٹ کیا کہ تیستا سیتلواد 7 دن تک پولیس کی حراست میں تھیں اور اس کے بعد عدالتی تحویل میں دیا گیاتھا۔
جب آج اس معاملے کو اٹھایا گیا تو سالیسٹر جنرل (ایس جی) تشار مہتا نے ہائی کورٹس کے ذریعہ منظور کیے گئے احکامات پیش کیے جن میں لمبی تاریخیں دی گئی تھیں۔