ملک کا پہلا دیسی ساختہ جنگی جہازINS وکرانت  ملک کے نام معنون۔ہندوستانیوں کے لیے قابل فخر لمحہ

تازہ خبر قومی
  مودی نے کیرالہ کے کوچی میں نئے بحری پرچم کی نقاب کشائی انجا م دی
نئی دہلی : 2؍ستمبر
(زیڈ این ایم ایس)
وزیر اعظم نریندر مودی نےجمعہ کوچین میں ملک کا پہلا  دیسی ساختہ اور تیار کردہ طیارہ بردار بحری جہاز آئی این ایس وکرانت ہندوستانی بحریہ کو وقف کیا۔ کیرالہ کے کوچی میں نئے بحری پرچم کی نقاب کشائی کی جس کے ساتھ ہی یہ با قاعدہ طور پر بحریہ کےبیڑے میں شامل ہو گیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ، گورنر عارف محمد خان، سی ایم پنارائی وجین‘  آبی وزیر مریانند سونوال ‘بندر گاہوں ، جہاز رانی اور آبی گزر گاہوں کے وزیہ سریانند سونو وال ، قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈیودال، تینوں افواج کے اعلی حکام اور کئی معززین بھی اس موقع پر موجود تھے ۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے خطاب میں کہاکہ میں افواج میں ہونے والی تبدیلیوں کا ایک رخ ملک کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، جب وکرانت ہمارے سمندری علاقے کی حفاظت کے لیے اترے گا تو بحریہ کی کئی خواتین سپاہیوں کو بھی وہاں تعینات کیا جائے گا۔ سمندر کی بے پناہ طاقت، لامحدود خواتین کی طاقت کے ساتھ، یہ نئے ہندوستان کی بلند شناخت بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج 2 ستمبر 2022 کی تاریخی تاریخ کو ایک اور کام ہوا جس نے تاریخ بدل دی۔ آج ہندوستان نے اپنے سینے سے غلامی کا نشان، غلامی کا بوجھ اتار دیا ہے۔ ہندوستانی بحریہ کو آج سے نیا پرچم مل گیا ہے۔ اس سے انگریزوں کی علامت صلیب کا سرخ نشان ہٹا دیا گیا ہے۔ اب تک غلامی کی پہچان ہندوستانی بحریہ کے جھنڈے پر تھی۔ لیکن آج سے چھترپتی شیواجی سے متاثر ہو کر بحریہ کا نیا پرچم سمندر اور آسمان میں لہرائے گا اب اس میں ترنگا اور اشوک کا نشان ہے، جسے پی ایم مودی نے شیواجی مہاراج کو وقف کیا ہے۔
مودی نے کہا کہ آئی این ایس وکرانت دفاعی شعبہ کو خود انحصار بنانے کے لیے حکومت ہند کی کوششوں کی ایک مثال ہے۔ آج ہندوستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو اپنی ٹیکنالوجی سے اتنے بڑے جہاز بنا سکتے ہیں۔
20,000 کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے گےیہ جنگی جہاز سے زیادہ تیرتا ہوا ہوائی میدان ہے، یہ تیرتا ہوا شہر ہے۔ اس میں پیدا ہونے والی بجلی 5000 گھروں کو روشن کر سکتی ہے۔ اس کا فلائنگ ڈیک فٹ بال کے دو میدانوں سے بھی بڑا ہے۔ اس میں استعمال ہونے والی تمام تاریں کوچین سے کاشی تک پہنچ سکتی ہیں۔ پی ایم مودی نے مزید کہا کہ آئی این ایس وکرانت کے ہر حصے کی اپنی خوبی ہے، ایک طاقت ہے، اپنی ترقی کا سفر ہے۔ یہ مقامی صلاحیت، مقامی وسائل اور مقامی مہارتوں کی علامت ہے۔ اس کے ایئربیس میں نصب اسٹیل بھی دیسی ہے۔
دیسی طیارہ بردار بحری جہاز IAC وکرانت ہندوستان کی سمندری تاریخ میں اب تک کا سب سے بڑا اور پیچیدہ جنگی جہاز ہے۔اس کا نام ہندوستان کے پہلے طیارہ بردار بحری جہاز کے نام پر رکھا گیا ہے جس نے 1971 کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا تھا، جو پوری طرح تیار ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا، ’’پورا ہندوستان کیرالہ کے ساحل پر ایک نئے مستقبل کے طلوع ہونے کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ آئی این ایس وکرانت پر منعقد ہونے والی یہ تقریب عالمی افق پر ہندوستان کی ابھرتی ہوئی روحوں کی پکار ہے۔
 یہ ہندوستانیوں کے لیے قابل فخر لمحہ ہے۔ یہ ہندوستان کے ہنر کی ایک مثال ہے۔ یہ ایک مضبوط ہندوستان کی طاقتور تصویر ہے۔ وکرانت بہت بڑا ہے، یہ خاص ہے، شاندار ہے۔ یہ صرف جنگی جہاز نہیں ہے۔ یہ 21ویں صدی کے ہندوستان کی محنت، مہارت اور تندہی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آج آئی این ایس وکرانت نے ہندوستانیوں کو نئے اعتماد سے بھر دیا ہے۔، یہ 21ویں صدی کے ہندوستان کی محنت، ہنر، اثر و رسوخ اور عزم کا ثبوت ہے۔
پی ایم مودی نے اپنے خطاب میں کہا، "آج یہاں کیرالہ، ہندوستان کے ساحل پر، ہر ہندوستانی، ایک نئے مستقبل کا طلوع آفتاب دیکھ رہا ہے۔ آئی این ایس وکرانت پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام عالمی افق پر ہندوستان کی ابھرتی ہوئی روحوں کا ایک نعرہ ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ ہندوستانی بحریہ قومی اور بین الاقوامی سطح کے بحرانوں کے پہلے جواب کے طور پر ہمیشہ تیار رہتی ہے۔ آئی این ایس وکرانت کے شروع ہونے سے ہندوستانی بحریہ کی صلاحیت مزید مضبوط ہوگی۔