گرفتاری تک پولیس سے نمائندگی جاری رہے گی
ممبئی :2؍جون
(زیڈ ایم این ایس)
بدنام زمانہ بی جے پی کی قومی ترجمان نوپور شرما کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا ہی جارہا ہے۔ واضح رہے نوپور شرما کے خلاف پونے، مہاراشٹر میں ایک ٹیلی ویژن نیوز چینل پر مباحثہ شان رسالت ؐ میں گستاخی کی تھی پیغمبر اسلام کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس کے ذریعہ مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
پولیس نے اس معاملہ کی مکمل جانکاری دی ہے۔ اس سے قبل، رضا اکیڈمی کی شکایت پر آئی پی سی کی دفعہ 295A، 153A اور 505B کے تحت شرما کے خلاف ممبئی میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ اسی طرح حیدرآباد کے ایک پولیس افسر کی شکایت پر شرما کے خلاف سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں آئی پی سی کی دفعہ 153 (A)، 504، 505 (2) اور 506 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
پونے میونسپل کارپوریشن کے سابق کونسلر عبدالغفور پٹھان کی شکایت پر منگل کو کونڈوا پولیس اسٹیشن میں ایک کیس درج کیا گیا ہے۔ ایک پولیس افسر نے معاملے کے بارے میں بتایا کہ یہ ایف آئی آر عبدالغفور پٹھان کے بیان کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔
ان کے بیان کے مطابق 28 مئی کو انہیں واٹس ایپ (نیوز چینل کا) پر گیان واپی مسجد سے متعلق بحث سے متعلق ایک لنک ملا تھا، جس میں نوپور شرما بھی شریک تھیں۔ اس نے (پٹھان) کہا کہ وہ نوپور شرما کے پیغمبر محمدﷺ اور ان کی اہلیہ کے بارے میں تبصرے کو دیکھ کر دکھ پہنچا ہے۔
بی جے پی لیڈر کے خلاف درج کی گئی شکایات میں الزام لگایا گیا ہے کہ شرما نے پیغمبر اسلام اور دین اسلام کے خلاف توہین آمیز، جھوٹے اور مجروح الفاظ کا استعمال کیا اور مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ شکایت میں اس کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
دریں اثنا، پٹھان نے دعویٰ کیا کہ پولیس نے ابتدائی طور پر ایف آئی آر درج کرنے سے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا تھا، لیکن ایف آئی آر مختلف مسلم تنظیموں بشمول پاپولر فرنٹ آف انڈیا اور دیگر گروپوں کی کوششوں سے درج کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ شرما کی گرفتاری تک ہم پولیس سے بات کرتے رہیں گے۔ ممبئی پولیس نے حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی ترجمان نوپور شرما کے خلاف اسی طرح کا ایک اور مقدمہ درج کیا ہے۔
نوپور شرما کے بارے میں بات کریں تو وہ دہلی بی جے پی کی ریاستی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن ہیں۔ وہ بی جے پی کے یوتھ ونگ بھارتیہ جنتا یووا مورچہ (بی جے وائی ایم) کا ایک نمایاں چہرہ رہی ہیں۔ نوپور شرما وہ نام ہے جسے آپ اکثر ٹی وی مباحثوں میں بی جے پی کی حمایت کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔جو بی جے پی کی قومی ترجمان ہیں۔
