شبنم آزاد ہندوستان کی وہ پہلی خاتون جس کو پھانسی پر لٹکایا جائیگا

تازہ خبر قومی

امروہہ: 17؍فروری
متھرا میں جیل حکام کی جانب سے ایک خاتون کو تختہ دار(پھانسی)  پر لٹکانے کی تیار یاں شروع کردی گئیں جس خاتون کو متھرا کی جیل میں پھانسی دی جائی گی وہ شبنم ہے جس کاتعلق اتر دیش کے امروہہ سے ہے شبنم اپنے عاشق سالم کے ساتھ ملکر اپنے ہی خاندان کے سا ت افراد کا 2008میں قتل کیا تھا یہاں یہ بتانابھی ضروری ہوگا کہ جیل حکام نے پھانسی میں استعمال میں کی جانیوالی رسی کے انتظام کی ہدایت دی ہے جس کو عموماً سزائے موت کے مجرموں کو تختہ دار پر لٹکاتے وقت استعمال میں لایا جاتا ہے یہا ں اس امرکا تذکرہ بھی ضروری ہوگا کہ پھانسی سے متعلق شبنم نے نچلی کورٹ کے فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تاہم عدالت العالیہ نے نچلی عدالت کے فیصلہ کو برقرار رکھا جس کے بعد شبنم اور سالم نے صدر جمہوریہ ہند کے پاس درخواست رحم دی تھی مگر اس کو بھی مسترد کرد یا گیا تھا شبنم آزاد ہندوستان میں وہ پہلی خاتون ہوگی جس کو تختہ دار پر لٹکایا جائیگا۔فی الوقت شبنم بریلی کی جیل میں اور سالم اگرہ کی جیل میں محروس ہے متھرا کی جیل میں خواتین کو پھانسی دینے کے لئے 150سال پہلے ایک کمرہ تو بنایا گیا تھا لیکن آج تک اس کمرہ میں کسی خاتون کو پھانسی نہیں دی گئی سینئر سپرینٹنڈنٹ جیل نے بتایاکہ تاحال پھانسی کی سزاء کی تاریخ کا تعین نہیں ہوا لیکن حفظ ماتقدم کے بطور جیل انتظامیہ کی جانب سے پھانسی کی تیاریاں شروع کردی گئیں ہیں انھوں نے کہاکہ شبنم اور سالم کو جیسے ہی احکامات جاری ہونگے پھانسی پر لٹکایا جائیگا۔امروہہ کے قریب حسن پورٹاون سے متصل باون کھیڑی کے عوام کو آج بھی یہ لرزہ خیز واقعہ یاد ہے جو 14,15اپریل کے درمیان شب پیش آیا جس دن شبنم نے اپنے عاشق سالم کے ساتھ مل کر اپنے والد ماسٹر شوکت ‘ والدہ ہاشمی‘ برادران انیس‘ رشید‘ بھاوج انجم‘ اور بہن رابعیہ کو دیوانہ وار حملہ کرتے ہوئے بے دردی کے ساتھ قتل کیا تھا شبنم نے حتی کہ اپنے بھتیجے عرش کو بھی نہیں بخشا جس کا گلہ گھوٹ کر قتل کیا تھاشبنم نے یہ دردندہ صفت حرکت اس لئے کی کہ یہ افراد اسکے محبت کے راستہ میں حائل ہورہے تھے یہاں قارئین کے لئے یہ بتانا ضروری بھی ہوگا کہ مذکورہ مقدمہ کی سماعت امروہہ کی عدالت میں دو سال تین ماہ تک ہوتی رہی 15؍جولائی 2010کی تاریخ ان کے لئے موت کا پروانہ ثابت ہوئی جہاں دسٹرکٹ جج ایس ایس حسینی نے شبنم اور سالم کو پھانسی کے طو رپر سنائی ۔یہ مقدمہ جس کا پس منظرزائد ایک سو تواریخ ( پیشیوں ) پر محیط رہی فاضل جج نے 29گواہوں کے بیاناتا قلمبند کیے 14؍جولائی 2010کو فاضل مجسٹریٹ نے ان ددنوں کو مجرم گردانتے ہوئے دوسرے دن یعنی15؍جولائی 2010کو اندرون 19سکنڈ پھانسی کا فیصلہ صادر کیا فاضل جج نے مذکورہ مقدمہ میں 29گواہان سے جملہ 649سوالات کیے تھے جو ایک 160صفحات پر مشتمل تھا ۔