شہریوں کو ہراساں کرنے کیلئے پیگاسس اسپائی ویئر کا استعمال غیر آئینی اور ناقابل قبول،وزیر اعظم سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

تازہ خبر قومی

 ایس ڈی پی آئی کا دہلی سمیت ملک گیر احتجاجی مظاہرہ

نئی دہلی : یکم؍فروری
( پریس ریلیز)

سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI) نے مرکزی حکومت کے ذریعے استعمال کئے جانے والے پیگاسس اسپائی ویئر کے خلاف جنتر منتر نئی دہلی سمیت ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا۔ یکم فروری 2022کو جنتر منتر پر ہوئے احتجاجی مظاہرے میں ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر محمد شفیع، قومی جنر ل سکریٹری الیاس محمد تمبے، قومی سکریٹریان عبدالستار، فیصل عز الدین، دہلی ریاستی صدر ڈاکٹرآئی اے خان، دہلی ریاستی نائب صدر محترمہ شاہین کوثراور دیگر ممبران و کارکنان موجود تھے۔

 اس موقع پر ایس ڈی پی آئی قومی نائب صدر محمد شفیع نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیویارک ٹائمز کی تحقیقاتی رپورٹ میں بھارت کی طرف سے اسرائیل سے پیگاسس اسپائی ویئر کی خریداری کا انکشاف تشویشناک ہے۔ شہریوں کی جاسوسی ان کی رازداری کی خلاف ورزی ہے۔ مرکزی بی جے پی حکومت کا یہ مذموم حرکت شرمناک ہے جس کیلئے وزیر اعظم کو فوری طور پر استعفی دینا ہوگا ۔ اسرائیلی ٹکنالوجی کمپنی این ایس او گروپ جس نے پیگا سس اسپائی ویئر تیار کیا ہے ،

 اس نے سال 2017سے ہندوستانی صحافیوں، سفارتکاروں،حکومتی اہلکار، سیاستدانوں ، انسانی حقوق کے کارکنوں، این جی اوز وغیرہ کے سینکڑوں فونوں کو ہیک کیا اور ٹارگٹڈ نگرانی کی ہے۔ اس نے ٹارگیٹڈ افراد کا نجی ڈیٹا اکھٹا کیا ہے جن میں پاس ورڈ، رابطے کی تفصیلات، کیلنڈر ایونٹس، ٹیکسٹ پیغامات اور لائیووائس کالیں شامل ہیں۔ پیگاسس اسپائی ویئر سے فون کے کیمرے اور مائکرو فون کو بھی کنٹرول کیا گیا ہے اور ٹارگٹڈ افراد کو ٹریک کرنے کیلئے جی پی ایس فنکشن کا استعمال کیا گیا ہے۔

 اس پیگاسس اسپائی ویئر کا خطرناک پہلو یہ ہے کہ یہ جاسوسی سافٹ ویئر کسی کے فون میں صرف ای میلز، مس کالز یا پیغامات بھیج کر داخل کیا جاسکتا ہے اور اس کیلئے ٹارگٹڈ شخص کو اس پر کلک کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ایس ڈی پی آئی قومی جنر ل سکریٹری الیاس محمد تمبے نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ جاسوسی وزیر اعظم نریندر مودی کے 2017میں اسرائیل کے دورہ کے فورا بعد ہی شروع ہوئی ہے۔ این ایس او گروپ نے واضح کیا ہے کہ جاسوسی سافٹ ویئر کو "صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومتوں کی خفیہ ایجنسیوں کو فروخت کیا گیا تھا”۔

اب یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی بی جے پی حکومت نے ٹارگٹڈ افرادکی ذاتی معلومات اور ان کی سرگرمیوں کی تفصیلات اکھٹا کرنے اور انہیں نشانہ بنانے کے مقصد سے اس جاسوسی کا منصوبہ بنایا ہے۔ کسی بھی شخص یا قانونی ادارہ کو اس ملک کے کسی بھی شہری کی رازداری کو ہیک کرنے کا کوئی حق نہیں ہے جب تک کہ نشانہ بنانے والا شخص ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ نہ ہو۔

 تاہم ، مرکزی حکومت اس مذموم حرکت میں ملوث رہی ہے اور ‘قومی سلامتی ‘کے نام پر گھنائونا جرم انجام دیا ہے جو ناقابل معافی ہے۔ اس جاسوسی کے پیچھے وزیر اعظم نریندرمودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کا دماغ کارفرما ہے۔ جس کیلئے انہیں عہدے پر برقراررہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے، لہذا ، انہیں اپنے عہدوں سے استعفی دینا چاہئے ۔