عام بجٹ کو حزب اختلاف کے لیڈران نے مایوس کن بتایا
دیوبند، یکم؍ فروری
(رضوان سلمانی)
آج پارلیمنٹ میں مرکزی وزیر خزانہ سیتا رمن کی جانب سے پیش کئے گئے عام بجٹ کو حزب اختلاف کے لیڈران نے مایوس کن بتایا ہے اور کہا ہے کہ اس بجٹ میں کسان اور عام لوگوں کو کچھ نہیں دیا گیا ہے۔ بلکہ ملک کے بڑے کارپوریٹ کو فائدہ پہنچانے کے لئے یہ بجٹ لایا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں سہارنپور کے ممبرپارلیمنٹ حاجی فضل الرحمن نے مودی حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے عام بجٹ کو مایوس کن بتاتے ہوئے کہا کہ حکومت کے بجٹ سے نوجوانوں کو مایوسی ہاتھ لگی ہے۔ مودی حکومت نے کسانوں کے لئے بھی اس میں کچھ نہیں رکھا گیا ہے۔
انہوں نے اس بجٹ کو عوام کے ساتھ دھوکہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ مڈل کلاس نوکری پیشہ طبقہ اور ملک کے کسانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت ایم ایس پی پر فصل خریدنے کی بات کہہ کر کسانو ںکی تحریک کو ختم کراتی ہے اور دوسری طرف ایم ایس پی پر فصلوں کی خرید کے بجٹ میں اس بار کٹوتی کردی گئی ہے ۔ ممبر پارلیمنٹ نے کہا کہ اقلیتی طبقے اور دلت طبقے کے ساتھ ہی متوسط طبقے اور دیہی علاقوں کے افراد کے لئے حکومت نے کسی بھی نئی اسکیم کا اعلان نہیں کیاہے۔
انہوں نے کہا کہ بے روزگاری جو ملک میں بڑامسئلہ ہے اس کو دور کرنے کے لئے صرف خواب دکھائے جارہے ہیں، مہنگائی نے ملک کے عوام کی کمر توڑدی ہے مگر مہنگائی کو کم کرنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی روڈ میپ نہیں ہے۔ حاجی فضل الرحمن نے کہا کہ بی جے پی کے جو لیڈران مہنگائی کو ڈائن بتاتے تھے اور سڑکوں پر سلینڈر کے ساتھ تھالیاں بجاتے تھے اب انہوں نے مہنگائی کو اپنے گھر کا مہمان بنالیاہے۔
سماج وادی پارٹی سہارنپور شہرکے اسمبلی رکن سنجے گرگ نے اس بجٹ کو مایوس کن بتاتے ہوئے کہا کہ عوام کے لئے ٹیکس میں کوئی چھوٹ نہیں دی گئی ہے ۔ وزیر خزانہ سے کافی امیدیں وابستہ تھیں کہ اس مرتبہ انکم ٹیکس میں راحت ملے گی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ، وزیر خزانہ نے انکم ٹیکس سلیب میں کوئی تبدیلی نہیں کی ہے۔ اس بجٹ سے متوسط طبقہ متأثر ہوا ہے ، ساتھ ہی سرکاری ملازمین اور متوسط طبقے کے لئے اس بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا ہے ، بے روزگاری اور مہنگائی سے پس رہے عوام کے لئے بجٹ میں کچھ نہیں ہے۔ بڑی بڑی باتیں ہیں ، حقیقت میں موجودہ مرکزی حکومت نے عوام کو کچھ نہیں دیا ہے ، منریگا کے بجٹ میں بھی کوئی اضافہ نہیں کیا گیا ، نوجوانوں کو روزگار کے لئے بھی بجٹ میں کچھ نہیں رکھا گیا ہے، بجٹ میں سرکار نے ایک مرتبہ پھر کسانوں کو مایوس کیا ہے۔
کسان لمبے وقت سے ایم ایس پی کو لے کر قانون چاہتے ہیں لیکن حکومت نے ان کے مطالبے کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا ہے ۔ سابق اسمبلی رکن اور سماج وادی پارٹی کے قدآور لیڈر معاویہ علی نے بجٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کل ملاکر یہ بجٹ مایوس کن ہی رہا ہے ، لوگوں کو اس بجٹ سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت ہمیشہ یہ کہتی رہی ہے کہ وہ لوگوں کی آمدنی دوگنی کرے گی ،
اس بجٹ میں بے روزگاروں ، تعلیم یافتہ نوجوانوں اور غریب کے لئے کچھ نہیں ہے۔ معاویہ علی نے کہا کہ ملک کے کروڑوں غریب کسان اور محنت کش عوام مرکز کے بہت سے لبھانے والے وعدے اور یقین دہانیاں کھوکھلی ثابت ہوچکی ہیں ، ملک کے عام آدمیوں کے لئے اس بجٹ میں کوئی خاص نہیںہے ۔ اس بجٹ میں سوائے نقصان کے فائدہ کی کوئی چیز نظر نہیں آتی ہے۔ اس ملک کا غریب تو مایوس نگاہوں سے سب کچھ ہوتا دیکھ رہا ہے اور اس کو سہارا دینے والا کوئی نہیںہے۔
جب حکومت ہی ایسی پالیسی واضح کرے اور ایسا بجٹ لائے جس میں مزدور ، کسان اور عام آدمی کی ضرورت زندگی کے تقاضوں کا خیال نہ رکھا جائے تو آسانی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ بجٹ کس طرح کا ہوگا۔ سماج وادی پارٹی کے سابق شہر صدر رائو قاری ساجد نے اس بجٹ کو مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کے بجٹ سے نوجوانوں کو مایوسی ہاتھ لگی ہے اس بجٹ میں غریبوں ، کسانوں ، مزدوروں اور عوام کے لئے کچھ نہیں رکھا گیا ہے ، کسانوں کو بھی اس بجٹ میں کچھ نہیں دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اب بھی یہ تأثر دے رہی ہے اور عملی قدم اٹھارہی ہے کہ سرمایہ داروں کو نفع پہنچانا اور ان کے مفادات کا تحفظ کرنا اس کی اولین ترجیح ہے ، حکومت کی ان ترجیحات نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے ، نہ تو مہنگائی پر روک ہے اور نہ روزگار کے مواقع ہیں اور نہ مزدور اور بے بس انسانو ںکی دلجوئی اور اشک سوئی کا سامان فراہم کیا گیا ہے۔ پچھم پردیش مکتی مورچہ کے قومی صدر بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ آج مرکزی حکومت کے ذریعہ پیش کیا گیا عام بجٹ کسان اور غریب مزدو و عام آدمی مخالف ہے۔
ملک کے کسانوں کے لیے اس بجٹ میں کچھ نہیں ہے۔ ملک کے کسانوں کو امید تھی کہ اس بجٹ میں حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بڑھتے قرضوں پر قابو پایا جائے گا اور کسانوں کے قرضے اور سود معاف کر دیے جائیں گے۔ لیکن کسانوں کو ان کی فصلوں کی مناسب قیمت دینے کے لیے نہ تو بجٹ میں کوئی اقدام کیا گیا اور نہ ہی کوئی دوسری اسکیم۔ بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ بجٹ میں منریگا اسکیم کو براہ راست زراعت سے جوڑنا چاہیے تھا اور کسانوں کو صرف منریگا اسکیم کے تحت کھیتی باڑی کے لیے مزدور فراہم کیے جانے چاہیے تھے۔
بھگت سنگھ ورما نے کہا کہ گنے ملک کی اہم نقد آور فصل ہے اور ملک اور ریاستی حکومتوں کو گنے سے سالانہ لاکھوں کروڑ روپے کی آمدنی ہوتی ہے۔ اس بجٹ میں ملک کے گنے کے کسانوں کے لیے پچاس کروڑ روپے مختص کیے جانے چاہیے تھے اور براہ راست گنے کے کسانوں کے کھاتوں میں بھیجے جانے چاہیے تھے۔
یہ بجٹ کسان مخالف ہونے کے ساتھ غریب مخالف بھی ہے اور بیروزگاری اور مہنگائی بڑھانے والا بجٹ ہے۔ اس بجٹ کا براہ راست فائدہ کارپوریٹ گھرانوں کو ہوگا۔