شیوسینا ارکان پارلیمنٹ کا صدراتی عہدہ کےلئے مرمو حمایت کا مطالبہ

تازہ خبر قومی
شیوسینا کامرمو کی حمایت کر نے کا اشارہ!!  باضابطہ اعلان ہونا باقی ہے۔
ادھو ٹھاکرے کے سامنے نیا مسٔلہ
ممبئی: 12؍جولائی
(زیڈ این ایم ایس)
ملک میں18؍جولائی کو صدرجمہوریہ کاانتخاب ہونے جارہا ہے اور 21؍جولائی کو ملک کے نئے صدر جمہوریہ اپنے عہدہ پر فائز ہونگے۔ صد ر جمہوریہ کے انتخاب کو لیکر تمام سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں تیز تر ہوگئیں ہیں اور سبھی پارٹی امیدوار کی حمایت کو لیکر اپنی حکمت عملی میں مصرو ف ہیں۔
حالیہ دنوں مہاراشٹر میں اقتدار سےبے دخل شیوسینا کے سربراہ مسٹر ادھو ٹھاکے لئے آزمائش کی گھڑی ہے اب ا ن کے سامنےایک نیا مسٔلہ آن کھڑا ہےاور سب کو شیو سینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کے فیصلہ کا انتظار ہے
شیو سینا کے سامنے یہ سوال کھڑا ہے کہ آیا صدارتی انتخاب میں یشونت سنہا (مخالف امیدوار) کو ووٹ دینا ہے یا دروپدی مرمو کو؟ ایسے میں پیر کو ادھو ٹھاکرے کی طرف سے بلائی گئی میٹنگ میں زیادہ تر ممبران پارلیمنٹ نے ادھو سے صدارتی انتخاب میں دروپدی مرمو کی حمایت کرنے کی اپیل کی ہے۔
آخر کار پارٹی میں بڑی بغاوت کے بعد شیوسینا کے نرم پڑنے کے آثار ہیں۔شیوسینا کےارکان پارلیمنٹ کی جانب سے اپنے سربراہ ادھو ٹھاکرے سے این ڈی اے کی صدارتی امیدوار دروپدی مرمو کی حمایت کرنے کے لیے زور دینے کے ایک دن بعد، پارٹی نے منگل کو اشارہ دیا کہ وہ ان کی حمایت کرے گی لیکن کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ بی جے پی کی حمایت کر رہی ہے۔۔ اس سلسلے میں باضابطہ اعلان پارٹی سربراہ ادھو ٹھاکرے کریں گے۔ یہ اشارہ دیتے ہوئے پارٹی کے سینئر لیڈر سنجے راوت نے بھی اس فیصلے کی وجہ بتائی

راوت نے کہا کہ پیر کو ہم نے شیو سینا کی میٹنگ میں دروپدی مرمو کی حمایت کے معاملے پر بات کی۔ مرمو کی حمایت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم بی جے پی کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم قبائلی رہنما کے نام پر دروپدی مرمو کی حمایت کر سکتے ہیں۔ ہم ماضی میں بھی ایسے فیصلے لیتے رہے ہیں، شیوسینا کس کا ساتھ دیتی ہے، یہ ایک دو دن میں واضح ہو جائے گا۔ شیوسینا کے سربراہ ادھو ٹھاکرے اس پر فیصلہ کریں گے۔
شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت نے میڈیا کو بتایاکہ شیوسینا وہی کرتی ہے جو اسے صحیح لگتا ہے۔ ماضی میں بھی ہم نے کانگریس کے امیدوار ٹی این شیشن اور یو پی اے کے امیدواروں جیسے پرتیبھا پاٹل اور پرنب مکھرجی کی حمایت کی ہے۔ سینا کی سیاست سے آگے بڑھنے کی روایت ہے۔ ہم قومی مفاد میں لوگوں کی حمایت میں یقین رکھتے ہیں
راوت نے کہا کہ دروپادی مرمو پہلی قبائلی خاتون ہیں جو ممکنہ طور پر ہندوستان کی صدر ہوں گی۔ مہاراشٹر میں قبائلی آبادی بہت زیادہ ہے۔ یہاں بہت سے شیوسینک ہیں جو قبائلی علاقوں سے آتے ہیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق شیوسینا کے کئی ممبران پارلیمنٹ نے صدارتی انتخاب کے معاملے پر منعقدہ میٹنگ میں مرمو کی حمایت کے حق میں اپنی رائے ظاہر کی۔ مبینہ طور پر اس میٹنگ میں سنجے راوت کو الگ تھلگ کر دیا گیا، انہوں نے شیو سینا سے اپوزیشن کے مشترکہ امیدوار یشونت سنہا کی حمایت کی اپیل کی تھی۔ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شیوسینا کےسربراہ ادھو ٹھاکرے پارٹی کے زیادہ تر ممبران پارلیمنٹ کی رائے سے اتفاق کرتے ہوئے مرمو کی حمایت کا اعلان کر سکتے ہیں۔ صدارتی انتخاب کے لیے ووٹنگ 18 جولائی کو ہوگی۔
واضح رہے کہ بی جے پی کے این ڈی اے اتحاد نے صدارتی انتخاب میں دروپدی مرمو کو اپنا امیدوار بنایا ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن نے یشونت سنہا کو میدان میں اتارا ہے۔ بی جے پی اور شیو سینا کے تعلقات اب پہلے جیسے نہیں رہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بگڑ رہے ہیں،
اس لیے ادھو ٹھاکرے کے ساتھی سنجے راوت پارٹی کے لیے یشونت سنہا کی حمایت کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ابھی آخری فیصلہ ادھو ٹھاکرے نے لینا ہے۔ ادھو ٹھاکرے مرمو کے ساتھ جانے کا ارادہ کرتے ہیں یا اپوزیشن کا ساتھ دے کر سیاسی بساط بچھاتے ہیں،  تاہم حتمی فیصلہ ادھو پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ گجانن کیرتیکر نے میڈیا کو بتایا کہ ماتوشری میں منعقدہ میٹنگ میں صدر کے انتخاب کو لے کر ممبران پارلیمنٹ کے درمیان بات چیت ہوئی۔ زیادہ تر ایم پی این ڈی اے امیدوار دروپدی مرمو کے حق میں ہیں۔ تاہم، ادھو ٹھاکرے اس پر حتمی فیصلہ کریں گے۔
ویسے میٹنگ میں 18یں سے صرف 12 ممبران پارلیمنٹ کی آمد پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔، صرف تین راجیہ سبھا ممبران پارلیمنٹ سنجے راوت اور پرینکا چترویدی نے میٹنگ میں شرکت کی۔ جبکہ 2 ارکان پارلیمنٹ نے ذاتی وجوہات کی بنا پر آنے سے قاصر رہے انیل دیسائی دہلی میں ہونے کی وجہ سے نہیں آ سکے۔ دریں اثنا، مرکزی وزیر راؤ صاحب دانوے نے دعویٰ کیا کہ شیوسینا کے 12 ارکان اسمبلی شنڈے کیمپ سے رابطے میں ہیں۔
 صدارتی انتخاب میں ووٹنگ کے لیے خصوصی سیاہی والا قلم فراہم کیا جائے گا۔ ووٹ دینے کے لیے، آپ کو 1،2،3 لکھ کر اپنی پسند بتانا ہوگی۔ اگر پہلا انتخاب نہ دیا گیا تو ووٹ منسوخ کر دیا جائے گا۔