ممبئی 4۔جنوری
زین نیوزڈسک
شیوسینا رہنما سنجے راؤت کی اہلیہ ورشا راوت آج منی لانڈرنگ کے معاملے میں پوچھ گچھ کے لئے ممبئی میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے سامنے پیش ہویں۔ پنجاب اور مہاراشٹرا کوآپریٹو (پی ایم سی) بینک میں قرض گھوٹالے کے سلسلے میں انہیں کم از کم تین بار پہلے طلب کیا گیا تھا۔ تاہم شیوسینا رہنما سنجے راؤت کی اہلیہ ورشا راوت صحت کی وجوہات کا حوالہ دیتے ہوئے اب تک پیش ہونے سے انکار ہوگئیں۔آخر میں انھیں پانچ جنوری کو حاضر ہونے کے لئے کہا گیا تھا اور اب ایک دن پہلے ہی پوچھ گچھ کے لئے پہنچ گئی ہے۔سرکاری ذرائع نے اس سے قبل کہا تھا کہ انسداد بدعنوانی کا ادارہ ورشاراوت سے پی ایم سی بینک میں مبینہ طور پر پائے جانے والے کچھ فنڈز کی ’رسید‘ کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا۔ایجنسی نے کہا ہے کہ ہاؤسنگ ڈویولپمنٹ انفراسٹرکچر، اس کے فروغ دہندگان اور دیگر شامل افراد بھی اس کیس میں شامل ہیں۔اس ضمن میں اکتوبر میں ہی پی ایم سی بینک میں قرض کی مبینہ دھوکہ دہی کی تحقیقات کے لئے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے قانون کے تحت مقدمہ درج کیا تھا۔واضح رہے کہ شیوسینا جو مہاراشٹر کے حکمران اتحاد کا حصہ ہے۔ مہا وکاس آغاڈی (ایم وی اے) نے این سی پی اور کانگریس کے ساتھ مل کر پہلے بھی یہ الزام لگایا تھا کہ مرکزی تحقیقات ایجنسیاں ان کو غیر منصفانہ طور پر نشانہ بنا رہی ہیں۔جس کا مقصد ریاستی حکومت کو کمزور کرنا ہے۔ اس تناظر میں حکومت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی کوششوں سے ریاستی حکومت کے عزم و ارادے کو کمزور نہیں کیا جاسکتا ہے۔بی جے پی کے سابق رہنما ایکناتھ کھڈسے نے حال ہی میں شرد پوار کی نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) میں شمولیت اختیار کی تھی۔انہیں بھی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے اس سے قبل پونے کے بھوسری کے علاقے میں ایک زمین کے معاہدے پر طلب کیا تھا۔ مسٹر راوت نے کچھ دن پہلے کہا تھا کہ ای ڈی، سی بی آئی، یا انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے۔ اس سے قبل جب اس ایجنسی نے کوئی کارروائی کی تو ایسا لگتا تھا کہ کچھ سنجیدہ ہے۔ لیکن پچھلے کچھ عرصے سے ایسا لگتا ہے کہ اس ایجنسی کی طرف سے یہ عمل اس وقت ہوتا ہے جب ایک سیاسی پارٹی اپنا غصہ نکال رہی ہے‘۔شیوسینا رہنما نے یہ بھی کہا کہ’ ان کے پاس بی جے پی پر ایک فائل ہے جس میں 121 نام ہیں، جو وہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو فراہم کریں گے‘۔ راوت نے کہا ہے کہ ’بہت سارے نام ہیں کہ ای ڈی کو پانچ سال کام کرنا پڑے گا۔
