تعزیتی تحریر
ازقلم: عبدالقیوم شاکر القاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء نظام آباد
9505057866
گذشتہ دیڑھ برس سے لگاتار مسلسل اکابر علماء ومفتیان عظام اورجبال علم وفضل فقہ وفتاوی کے کوہ گراں مسند مشیخیت اور تصوف وسلوک کے عظیم راہبران ملت اسلامیہ کے راہنماؤں کی وفات کا سلسلہ پورے ملک کے طول وعرض میں برابرجاری ہے
آج جامعہ نظامیہ حیدرآباد کے صدرمفتی جناب مولانا مفتی عظیم الدین صاحب قادری نقشبندی مجددی علیہ الرحمۃ کے وصال اور آپ کے اس دارفانی سے دارباقی کی جانب جانے کی جاں گسل خبر آئی آنا فانا پورے ملک ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے مسلمانوں پر ایک قسم کی بے چینی اور بے قراری کی کیفیت طاری ہوگیء بطور خاص تلنگانہ اور شہر حیدرآبادکے باشندگان نے محسوس کیا کہ وہ اپنے ایک اسم بامسمی شخصیت سے محروم ہوگے
یقینا آپ علمی تفوق وبرتری اور فقہ وفتاوی کے ایک عظیم سپہ سالار تھے آپ کی وفات سے علمی دنیا میں ایک ناپرہونے والاخلاء پیدا ہوگیا گذشتہ 36/سال کے طویل عرصہ سے آپ نے جامعہ نظامیہ حیدرآباد جیسی معتبر ومستند دینی درسگاہ میں بحیثیت صدرمفتی علمی وفقہی خدمات انجام دی کم وبیش 50/ہزار فتاوی آپ کے قلم سے لکھے گئے اور عوام الناس نے اس سے خوب سیرابی حاصل کی مجلس علماء دکن جیسی موقرتنظیم اور رؤیت ہلال کمیٹی کے آپ نےاہم رکن کی حیثیت سے بڑی خدمات انجام دی ہرسال رمضان المبارک اور عید الفطر کے موقع پر پورا تلنگانہ رؤیت ہلال کے حوالہ سے آپ کے فیصلہ کا منتظر رہتا تھا رہ رہ کر اب ہرسال اور ہرحال آپ کی یادیں ہی باقی رہیں گی علمی دنیا پر ایک ماتم اور سوگواری کیفیت اور مردنی کا عالم چھاگیاآپ انتہائی سنجیدگی ومتانت اوراعتدال پسندی کے پیکرمجسم تھے.
علم وعمل میں یکسانیت تھی ظاہر وباطن میں کوی امتیاز وفرق نہیں کرتے تھے ملت کے مسائل کی یکسوی کے لےء پوری سنجیدگی کے ساتھ دیگر مسالک کے علماء کرام کی آراء کی قدرکرتے ہوے پوری امانت ودیانت کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہارکرتے تھے قوم وملت کے لےء ایک دردمند دل رکھنے والے صاحب دل انسان تھے عوام وخواص میں اللہ تعالی نے آپ کو بے انتہاء مقبولیت عطاء فرمائی تھی بلکہ یہ کہا جاے تو بے جا نہ ہوگا کہ بلالحاظ مذہب آپ مقبولیت کے مقام پر فائز تھے جس کا اندازہ اس ایک واقعہ سے لگایاجاسکتا ہے کہ جلوس جنازہ میں مسلمانوں کے علاوہ برادران وطن بھی شامل تھے اور آگے بڑھ کر جنازہ میں شریک عوام الناس کے لئےپینے کے پانی کابندوبست بھی کررہے تھے جو ایک انسانی خدمت کے ساتھ ساتھ آپ سے عقیدت کا ثبوت ہے
بہرحال آج کے اس پرفتن ماحول اورخود غرضی کے عالم بھی انسانیت نوازی کے کاموں کی مثال بہت کم ہی ملتی ہے جس سے واضح ہوتا ہیکہ مولانامرحوم شاید اسی انسانیت نوازی کی روش کو اپناکر اس دنیاسے رخصت ہوے تب ہی تو موجودہ نفرتوں کے ماحول میں بھی برادران وطن وہ بھی ایک مذہبی شخصیت کا حامل انسان اس طرح پانی پلانے کا عمل کرنا جس کاتصور بھی محال ہے اللہ پاک مرحوم کو غریق رحمت فرماے جملہ پسماندگان کو صبرجمیل عطاء فرماے