صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور صحافی ایک ذمہ دار فرد

تازہ خبر تلنگانہ

اُردو صحافت کی  خدمات  کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا
 رہنما ڈاٹ کام سید احمد امیر خان کی تہنیت

حیدرآباد 26/ جون
(پریس نوٹ)

تلنگانہ سے شائع ہوئے والے اردو اخبارات، ملک بھر کے دیگراردو اخبارات میں کافی مشہور ہیں۔جو اشاعت اور قارئین کی تعداد میں سب سے آگے ہیںاردو زبان کے تحفظ اور اور بقا میں اردو صحافیوں کا رول غیر معمولی ہے ۔ ان کے خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

ان خیالات کا اظہار وزیر داخلہ الحاج محمد محمود علی نے اردو مسکن ،خلوت میںاردو صحافیوں کے منعقدہ دو روزہ تربیتی کلاسیس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اردو صحافت کے200سالہ تکمیل کے سلسلہ میں اہتمام کیا گیا تھا

 اس میں جانشین جناب سید وقارالدین مرحوم چیف ایڈیٹر رہنمائے دکن و چیرمین انڈد عرب لیگ حیدرآباد جناب سید احمد امیر خان نے بطور مہمان شرکت کی وزیرداخلہ نے اخبار رہنمائے دکن کے سوسال کی تکمیل پر جناب سید احمد امیر خان(رہنما ڈاٹ کام) کی شال پوشی کی اور گلدستہ پیش کیا۔ اس موقع پر مسٹر فہیم الدین اسوسی ایٹ ایڈیٹر رہنمائے دکن بھی موجودتھے

الحاج محمد محمود علی نے کہا کہ اردو صحافت ابتدا سے ہی اہم رول ادا کررہی ہے۔جام جہاں نما، اودھ اخبار، اودھ پنچ اخبار، دہلی اردو اخبار، تہذیب الاخلاق، زمیندار،الہلال اور البلاغ کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔وزیر موصوف نے کہا کہ صحافت کو جمہویت میں چوتھے ستون کا درجہ حاصل ہے۔اور چیف منسٹر مسٹر کے چندر ا شیکھر را کی متحرک قیادت والی تلنگانہ حکومت نے اردو زبان کی بقا اور ترویج کیلئے کئی اقدامات کئے ہیں

خود کے سی آر اردو کے دلدادہ ہیں جو اپنی ہر تقریر میں اردو کے بہترین الفاظ اور اشعار کا ستعمال کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تلنگانہ نے اردو کو نہ صرف دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا بلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہے۔ملک بھر میں پہلی مرتبہ بڑے پیمانے پراردو آفیسرس کا تقرر عمل میں لایا گیا۔

وزیر داخلہ نے میڈیا نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی ‘ اولیائے طلبہ میں بیداری پیداکریں کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے اسکولوں میں داخلہ دلوائیں جہاں بحیثیت زبان اردو کی تدریس کاانتظام ہو۔ علاوہ ازیں گھروں میں بھی بچوں کو اردو زبان کی تعلیم کا اہتمام کریں۔ انہوں نے حکومت تلنگا نہ کے اقامتی اسکولس و کالجس(ٹمریس)کا ذکر تے ہوئے کہا کہ تمام اسکولوں میں اردو اور عربی کی تعلیم کانظم ہے۔

ریاست تلنگانہ گنگا جمنی تہذیب کا گہوارہ ہے ۔کیوںکہ صحافت ایک مقدس پیشہ ہے اور صحافی ایک ذمہ دار شخص ہوتا ہے جو سماج کی حقیقت کو منظر عام پر لاکر ان کی یکسوئی میں اہم رول اداکرتا ہے تو ایسی صورت میںان کا انہیں مشورہ ہے کہ وہ دو روزہ تربیتی کلاسیس سے استفادہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا اکیڈمی کے چیرمین سے مشاورت کے بعد صحافیوں کے مسائل حل کرنے کا وعدہ بھی کیا۔اجلاس میں سینیر صحافیوں کو تہنیت پیش کی گئی جبکہ مرحوم صحافی محمد قیصر کی بیوہ کو میڈیااکیڈمی کی جانب سے ایک لاکھ ر وپیئے کا چیک ‘ پانچ ماہ تک ماہانہ ایک ہزار روپئے کی امداد اور دونوں بیٹوں کی دسویں جماعت تک تعلیم کے لیے ماہانہ ایک ہزار روپپے دینے کا اعلان بھی کیا گیا۔

اجلاس کی صدارت چیرمین میڈیا اکیڈمی مسٹر الم نارائنا نے کی جبکہ مہمانان اعزازی کے طور پر رکن قانون ساز کونسل جناب سید امین الحسن جعفری، سنیئر رکن اسمبلی جناب ممتاز احمد خاں، کارپوریٹر س مصطفی علی مظفر،محمد غوث’ صدرتلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس مسٹر ماروتی ساگر، تلنگانہ اردو ورکنگ جرنلسٹس فیڈریشن و الیکٹرانک میڈیا اسوسی ایشن کے ذمہ دار، میڈیا اکیڈمی سکریٹری مسٹر وینکٹیشورراؤ’ ڈپٹی ڈائریکٹر مسٹر سید احسن ہاشمی اور دوسروں نے شرکت کی۔