قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کے تعاون سے بہ سلسلہ تصوف ایک روزہ سیمینار
دیوبند،5؍مارچ
(رضوان سلمانی)
حضرت شاہ ولایتؒ تعلیمی اور سماجی بہبود سوسائٹی کے ذریعہ پروفیسر عنوان چشتی مرحوم کے قائم کردہ شاہ ولایت ماڈرن گرلز کالج میں بہ سلسلہ تصوف یک روزہ سیمینار کا انعقاد کیا گیا۔سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے بین الاقوامی شہرت یافتہ گرو شری مہامنڈ لیشور شری سوامی کپل مُنی مہاراج(سربراہ ہری رام آشرم)نے کہا کہ ’’صوفی سنت سماج میں ہمیشہ سے سفیر محبت وانسانیت ہیں‘‘اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوفیوں اور سنتوں کی وراثت ہی پر ہمارا سماج قائم ہے۔
سید علی حیدر زیدی سابق وزیر اتراکھنڈ نے کہا کہ صوفیہ کرام نے ہمیشہ انسانی یکجہتی پر زور دیا اور اپنی زندگی کے ذریعہ اس کا علمی ثبوت کیا۔صدر جلسہ شاہ سیف الرحمان جمالی سجادہ نشیں درگاہ حضرت جمال الدین ہانسوی نے کہا کہ انسان دوستی کا دوسرا نام تصوف ہے۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان دہلی کے تعاون سے منعقدہ اس روحانی سمینار میں پروفیسر تنویر چشتی نے اپنے استقبالیہ کلمات میں کہا کہ روحانی تجربے کے جمالیات کے اظہار کا نام ہی تصوف ہے اور یہ انسان کو زندگی گزارنے کا خوب صورت نقطۂ نظر عطا کرتا ہے۔
اسلامیہ گروپ دیوبند کے چیئرمین ڈاکٹر عظیم الحق نے کہا کہ صوفیوں نے سماج میں ہمیشہ ایکتا اور اتحاد کو فروغ دیا ہے۔پروفیسر پنڈت لکشمن جی مہاراج نے کہا کہ صوفیوں اور سنتوں نے ہمیشہ شرپر خیر کو ترجیح دی ہے۔ڈاکٹر قد سیہ انجم نے کہا کہ صوفیۂ کرام نے ہمیشہ عدم تشدد کو فروغ دیا ہے۔معروف مورخ ومحققین وادیب وشاعر انیس احمدحسینی انیس میرٹھی نے کہا کہ تصوف در اصل خود پردوسروں کو فوقیت دینے کا نام ہے۔
معروف پیر طریقت حضرت آلِ علی قمیس قادری نے کہا کہ تصوف کی تمام خوبیاں فیضان حضرت مولائے کائنات علی ابن ابی طالب کرام اللہ وجہ سے منسلک ہیں۔اسی لئے کوئی مولائی متشدد ہو ہی نہیں سکتا۔ڈاکٹر سشیل اپادھیائے نے اپنے مضمون میں حضرت امیر خسرو دہلوی کو بابائے اردو ہندی بتایا۔نیز انہوں نے صوفیوں کی لسانی خدمات پر بھرپور روشنی ڈالی۔ڈاکٹر عبد الرب دہرہ دونی نے حضرت شاہ ولایت منگلوریؒ اور صابر کلیریؒ کی لسانیاتی خدمات کی تعریف کی۔مولانا نجم الدین انبہٹوی نے حضرت سید شاہ ابوالمعالیؒ اور ان کی دینی وملی خدمات کا جائزہ پیش کیا۔
معروف صحافی کمل دیوبندی نے تصوف کو اسلام کا جزو لاینفک بتایا۔مفتی حسان قاسمی نے منگلور کے صوفیۂ کرام کی خدمات پر بھرپور روشنی ڈالی بالخصوص حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی سیرت بیان کی۔محترمہ علمہ عمران نے صوفیوں کی علمی اور سماجی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی۔ شری کپل سی کے محبت بھرے اصرار پر شاعر اہل بیت الحاج کو ثر کیرانوی نے اپنی روحانی نظم ماں پیش کی۔سمینار اور استقبالیہ کمیٹی کے سربراہ پروفیسر تابش جمال چشتی کے باادب شکریہ پر سمینار اختتام پذیر ہوا۔پروفیسر انیس ملک،ڈاکٹر شہزاد،ڈاکٹر پرویز،راؤ کلیم،شکیل ملک،ودود اختر انصاری،ثمر منگلوری،شمیم قریشی،انجینئر مظاہر،شہزاد سکھڑوڑی،پرنسپل ذوالفقار احمد،اسجد رانا وغیرہ کی شرکت نے سمینار کی رونق میں اضافہ کیا۔