ضیائے حق فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام پروفیسر صالحہ رشید کی کتاب ’’جدو جہد آزادی‘‘ کی رسم اجراء

ادبستان تازہ خبر
دیوبند،18؍اگست
(رضوان سلمانی)
پریا گ راج اُتر پردیش کی سرزمین سے تعلق رکھنے والی پروفیسر صالحہ رشید کی کتاب ’’جدو جہد آزادی‘‘ (چند آزادی خواہوں کے قصے) کا رسم اجرائ’’ ضیائے حق فاؤنڈیشن‘‘ کے زیر اہتمام شعبہ عربی وفارسی الہ آباد یونیورسٹی میں عمل میں آیا۔اس تقریب کا اہتمام ڈاکٹر صالحہ صدیقی  (چیئرپرسن ضیائے حق فاؤنڈیشن واسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اردو سمستی پور کالج) اور ان کی ٹیم نے کیا۔
 رسمِ اجراء کے موقع پروگرام کی نظامت اور کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر صالحہ صدیقی نے ضیائے حق فاؤنڈیشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہماری فاؤنڈیشن کی خدمات 2011 سے سر گرم ہے، یہ تنظیم سماجی، اصلاحی، اور فلاحی کاموں کے ساتھ ساتھ علمی، ادبی، لٹریچری پروگرام میں بھی ہمیشہ سرگرم رہا ہے، ادباء وشعرا کی حوصلہ افزائی کے واسطے گاہے بگاہے آن لائن، آف لائن پروگرام کا انعقاد کرتا رہتا ہے۔
 اس تنظیم کے تحت بہار کی دارالحکومت شہر عظیم آباد (پٹنہ) میں ایک ادارہ مدرسہ ضیاء العلوم کے نام سے قیام میں آیا ہے، جہاں طلباء وطالبات کی جماعت علمی پیاس بجھا رہی ہے، اس کے علاوہ یہ ادارہ اُن قلمکاروں کی حوصلہ افزائی کرنے اور اُن کو پلیٹ فارم مہیا کرانے میں پیش پیش رہتی ہے جن کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا جن کو موقع نہیں مل پاتا۔
اس کے بعد کتاب کا تعارف و کتاب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آزادی کی جد و جہد میں نمایاں ناموں کے ساتھ ایسے مجاہدین بھی شامل تھے جن کو تاریخ میں کبھی جگہ نہیں مل سکی، جن کی قربانیوں،کوششوں اور لافانی خدمات نے آزادی کی تاریخ میں نمایاں کردار ادا کیا لیکن افسوس ان کی خدمات کا اعتراف کبھی نہیں ہو سکا یا ہوا بھی تو رسماً۔
ان تمام باتوں کی کمی پروفیسر صالحہ رشید نے اپنی اس تازہ ترین تصنیف میں دورکر دی ہے۔ انہوں نے اُن لافانی شخصیات کو بہت ہی خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے جن کے مطالعہ سے نئے نئے انکشافات ہوتے ہیں، اور یہ معلومات کہیں اور نہیں ملتی، یقینا ان کا یہ تحقیقی کارنامہ لافانی ہے، جسے پڑھنے، سمجھنے اور آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے آزادی کے امرت مہو تسو کے ذریعہ یہ موقع دیا کہ ہم اپنی آزادی میں قربان اسلاف کو یاد کریں، انکی مٹ چکی تاریخ کو دہرائیں، انکو نئے سرے سے جاننے، سمجھنے کی کوشش کریں، اسی لیے میں نے اس کتاب میں شامل تیرہ مضامین میں آزادی کے تیرہ متوالوں کو اپنے طور پر جاننے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
ساتھ ہی اُنہوں نے فاؤنڈیشن کا بھی شکریہ ادا کیا اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے یہ بات بھی کہی کہ شعبہ فارسی و عربی کے لئے یہ فخریہ لمحہ ہے کہ جشن آزادی کے موقع پر ہمارے شعبے کی نمائندگی یہ کتاب کر رہی ہے۔مہمان خصوصی کے طور پر ڈاکٹر نیلوفر حفیظ نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ صالحہ رشید کی تصنیف کردہ ’’جد جہد آزادی‘‘ یہ جنگ آزادی کی تاریخ وتحریک کو اجاگر کرتی ہے، اور صحیح تاریخ سے آگاہ کراتی ہے، میں اُن کو اس کاوش کے لئے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔
تاثرات پیش کرنے والوں میں محمد امجد، اسامہ جلال، رضوان بھی شامل رہے، محمد اسامہ نے اس کتاب کو آزادی کی تاریخ میں اہم اضافہ بتایا۔ اس موقع پر محمد ضیاء العظیم پٹنہ، اسمائ، سہراب، نشی ،موہنی، ہریش چندر یادو، ابھیشیک راہی سمیت بڑی تعداد میں سامعین، اسکالر، طلباء و طالبات شامل رہے۔