محمد ہاشم القاسمی
(خادم دارالعلوم پاڑا ضلع پرولیا مغربی)
فون نمبر := 9933598528
مدارس اسلامیہ امت مسلمہ کی وہ متاع عزیز ہیں جن کے ساتھ اس کا ملّی تشخص اور دین و مذہب کی بقاء کا سلسلہ مربوط اور قائم ہے، یہ دینی ادارے اسلامی تہذیب و ثقافت اوراخلاقی اقدار کا نمونہ ہیں، علماء دین جو ملت کے رہنما و رہبر ہیں، انھوں نے اوّل دن سے ہی اپنے فرض منصبی کو بخوبی پورا کیا اور دینی مراکز و مدارس کی بنیادیں ڈالنے، ان کی آبیاری کرنے اور پروان چڑھانے میں بڑی مشقتیں برداشت کیں ،صبر آزما حالات کا مقابلہ کیا اور اپنے تن، من، دھن کی قربانیاں پیش کرد یں.
اگر یہ مدارس نہ ہوتے تو امت مسلمہ کے ان یتیموں، غریبوں، بے سہارا اور بے کس بچوں کی تعلیم و تربیت ایک عظیم مسئلہ بنی رہتی،اس آپ کو معلوم ہونا چاہئے ان دینی مدارس میں آج انہی بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ و پیراستہ کر کے حافظ، عالم، فاضل، قاری، مفتی، محدث، مفسر، خطیب وغیرہ کا با وقار تمغہ امتیاز دے کر مسلم معاشرے کا وقار اور شعائر اسلامی کے محافظ یا خدمت گذار بنا ئے جاتے ہیں‘ مبادا اگر یہ علماء اور مدارس نہ ہوتے تو پتہ ہے؟ یہ بچے معاشرے کا ناسور اور دھرتی کا بوجھ بن جاتے ۔
ذرا سوچیں کہ اگر ہمارے علماء کرام مدارس اسلامیہ کے قیام اور استحکام کی کوششیں نہ کی ہوتیں تو ہماری مساجد میں امامت اور اذانیں کون دیتا۔ نکاح کے خطبات ہوں یا بچوں کو قرآن و سنت کی تعلیم دینے والے کہاں سے ملتے۔ مسلم میتوں کا غسل‘ تجہیز و تدفین کے لئے مسائل کہاں حل ہوتے۔ اِن مدارس نے مسلمانوں کو مسلمان بنائے رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔ جہاں جہاں یہ قائم ہیں‘ وہاں وہاں علم کے نور سے جہالت، توہم پرستی، مشرکانہ عقائد کے اندھیرے دو ر ہوئے۔
یہ کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ ہر دور میں دینی مدارس اسلام دشمن طاقتوں کی نظروں میں کھٹکتے رہے ہیں، دینی مدارس ہر دور میں آزمائشی مراحل سے گزرتے رہے ہیں۔
یہ مدارس معاشرہ کے لوگوں کی فلاح و بہبود کا خیال رکھتے ہیں، حلال و حرام، پاکی و ناپاکی، اور حق و باطل کی تمیز اور فرق سکھاتے ہیں، حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاتے ہیں، اپنی کاوشوں اور کارکردگی کی وجہ سے ملک و ملت کے ارتقاء کا سبب بنتے ہیں۔
ان دینی مدارس میں صبح وشام دروس قرآن وسنت سے مسلمانوں کے دلوں کو ذکر الٰہی سے گرمایا اور آباد رکھا جاتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ کسی جگہ کوئی عالم یا معلم خطاب کرنے کے لیے آ جائیں تو بہت سے لوگ دین کی باتیں سننے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں، لیکن اگر اسی جگہ پر کوئی ڈاکٹر، انجینئر، پائلٹ یا سائینسدان کھڑے ہو کر خطاب کرنے لگے تو اس کی گفتگو کو سننے کے لیے ویسا جم غفیر اکٹھا نہیں ہوتا۔
کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بڑے بڑے ڈاکٹرز، انجینئرز، سائنسدان اور دنیاوی سکالرز اپنے مسائل کے حل کے لیے ان مساجد ومدارس میں آکر علمائے کرام اور مفتیان دین سے اپنے مسائل کے حل دریافت کرتے ہیں؟ نکاح، طلاق، شادی بیاہ، مرگ اور دیگر احکام شریعت وغیرہ کے متعلق صحیح اور واضح احکامات سیکھتے سمجھتے اور ان پر عمل پیرا ہوتے ہیں؟
یہ مدارس مسنون طریقہ دَم کے ذریعے نہ صرف لوگوں کی جسمانی و نفسیاتی بیماریوں کا علاج کرتے ہیں بلکہ روحانی امراض قلب (مثلاً چغلی، غیبت، حسد، بغض، کینہ، حرص و طمع، لالچ ، مفاد پرستی وغیرہ) کے مریضوں کو بھی شفا یاب کرتے ہیں۔
یہ ایسے باکمال و باہمت لوگ ہیں کہ معاشرے میں ہر قسم کے حالات میں اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ یہ کبھی ہڑتال نہیں کرتے کہ پہلے ہمارے مطالبات پورے کیے جائیں، ہماری تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے، کیونکہ ہمارے اخراجات پورے نہیں ہوتے، پھر ہم کام کریں گے۔ نہیں، بلکہ یہ تو عام لوگوں کی طعن و تشنیع، حقارت بھری نگاہیں اور غلط رویے بھی برداشت کرتے ہیں، مگر رضائے الٰہی کی خاطر ہمیشہ آن ڈیوٹی رہتے ہیں۔
اس موقع پر ضروری محسوس ہوتا ہے کہ دینی مدارس کے موجودہ سسٹم کے بارے میں عام طور پر کیے جانے والے چند سوالات کا بھی جائزہ لے لیا جائے تاکہ ان مدارس کے ناقدین کا موقف اور ان کی حقیقت بھی سامنے آجائے۔ مثلاً (1)یہ مدارس بنیاد پرستی کو فروغ دے رہے ہیں جو گلوبلائزیشن کے اس دور میں ملٹی نیشنل کلچر اور مشترکہ عالمی معاشرے کی تشکیل میں رکاوٹ ہے۔
(2)ان مدارس کے تعلیم یافتہ حضرات مختلف جہادی تحریکات میں عسکری خدمات سر انجام دے رہے ہیں، اس طرح یہ مدارس دہشت گردی کے فروغ کا باعث ہیں۔ نیز ان مدارس میں تعلیم کے ساتھ عسکری ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔(3)قومی سطح پر مدارس اجتماعی دھارے میں شامل ہونے کی بجائے الگ تشخص قائم رکھنے پر مصر ہیں اور مروجہ ریاستی نظام تعلیم کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ قبول نہیں کر رہے جس کی وجہ سے قوم میں ’’دو ذہنی‘‘ کی فضا موجود ہے اور یہ دوہرا نظام قومی یکجہتی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
جہاں تک بنیاد پرستی کا تعلق ہے، اگر اس سے مراد یہ ہے کہ مدارس عام مسلمانوں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات سے وابستہ رکھے ہوئے ہیں جس کی بدولت مسلم معاشرہ میں اس سولائزیشن کے فروغ میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے جو مذہب کے اجتماعی کردار کی نفی کرتے ہوئے سوسائٹی کی اجتماعی عقل و خواہش کی بنیاد پر سیکولر ثقافت کو پوری دنیا پر مسلط کرنے کے درپے ہے، تو دینی مدارس کو اس الزام کے قبول کرنے سے کوئی انکار نہیں ہے۔ بلکہ وہ اسے اپنے لیے الزام کی بجائے اعزاز اور کریڈٹ سمجھتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں کہ ان کے اس کردار کی اثر خیزی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
دینی مدارس کا بنیادی موقف ہی یہ ہے کہ انسانی سوسائٹی کی راہنمائی اور قیادت کے لیے انفرادی یا اجتماعی عقل و خواہش کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لیے وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی نگرانی اور بالادستی ضروری ہے۔
اس سے ہٹ کر اباحیت مطلقہ اور ہمہ نوع آزادی کی بنیاد پر جو کلچر ’’گلوبل سولائزیشن‘‘ کے نام پر فروغ دیا جا رہا ہے وہ سراسر غلط ہے، گمراہی ہے، اور نسل انسانی کو مزید تباہی و انارکی کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ اگر دینی مدارس اس موقف میں لچک پیدا کر لیں تو خود ان کا مقصد وجود ختم ہو کر رہ جاتا ہے اور ان کے باقی رہنے کا کوئی جواز نہیں رہتا۔ اس لیے اس معاملہ میں دینی مدارس کسی قسم کی کوئی لچک قبول کرنے کے روادار نہیں ہیں۔
دوسرا سوال جہادی اور عسکری تحریکات میں دینی مدارس کے طلباء کی کثرت کے ساتھ شمولیت کے بارے میں ہے۔ اس سلسلہ میں دو مسئلے قطعی طور پر الگ الگ ہیں۔
ایک مسئلہ جہاد کے بارے میں شرعی احکام اور قرآن و سنت کے فرمودات کی تعلیم کا ہے۔ یہ تعلیم یقیناً ان مدارس میں ہوتی ہے اور اسی طرح ہوتی ہے جس طرح قرآن و سنت کے احکام و قوانین کے باقی شعبوں کی ہوتی ہے۔ یہ دینی تعلیمات کا حصہ ہے اور کسی دینی ادارے کے لیے یہ ممکن نہیں کہ وہ قرآن و سنت کی دیگر تعلیمات کا تو اپنے ہاں اہتمام کرے مگر جہاد سے متعلقہ آیات قرآنی، احادیث نبویؐ، اور فقہی ابواب کو صرف اس لیے نصاب سے خارج کر دے کہ دنیا کے کچھ حلقے اس سے ناراض ہوتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ جہاد کی عملی تربیت اور عسکری ٹریننگ کا ہے۔ یہ ان مدارس میں کسی سطح پر نہیں ہوتی اور نہ ہی ان مدارس میں ایسا کوئی نظام موجود ہے، جو طلبہ کو اس طرح کی ٹریننگ دیتا ہو۔ حتیٰ کہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں این سی سی طرز کی جو نیم فوجی تربیت عام طلبہ کو دی جاتی ہے، دینی مدارس کے نظام میں وہ بھی باضابطہ طور پر موجود نہیں ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط ہے، کہ دینی مدارس اپنے طلبہ کو عسکری ٹریننگ دیتے ہیں۔
البتہ دینی مدارس کے طلبہ یہاں سے فارغ ہو کر یا چھٹیوں کے دوران اپنی آزادانہ مرضی سے اگر جہادی تحریکات کے مراکز میں جاتے ہیں،اور ٹریننگ حاصل کرتے ہیں، تو یہ ان کا ذاتی معاملہ ہے، ان کا مدارس کے نظام سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی ٹریننگ کے یہ مراکز مدارس کے سسٹم میں شامل ہیں۔
یہ اسی طرح ہے جیسے سرکاری اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کے تعلیم یافتہ ہزاروں نوجوان مختلف عسکری تنظیموں میں شامل ہو جاتے ہیں، جن میں جہادی تحریکات بھی ہیں، لسانی گروپ بھی ہیں، علاقائی تنظیمیں بھی ہیں، اور طبقاتی گروہ بھی ہیں، حتیٰ کہ ڈکیتی اور رہزنی کے گینگ بھی ان میں شامل ہیں۔
یہ نوجوان بھی مختلف ٹریننگ سنٹروں میں عسکری تربیت حاصل کرتے ہیں اور اس کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں، لیکن ان میں سے کسی گروہ کی کارروائیوں کا ذمہ دار ان کے تعلیمی اداروں (اسکول، کالج، یونیورسٹی) کو قرار نہیں دیا جاتا، بلکہ انہیں ان کے ذاتی فعل اور پسند پر محمول کیا جاتا ہے۔ بالکل ایسے ہی دینی مدارس کے طلبہ بھی اگر تعلیمی نظام اور ڈسپلن سے ہٹ کر جہادی تحریکات میں شامل ہوتے ہیں، اور عسکری تربیت حاصل کر کے کسی کارروائی میں حصہ لیتے ہیں، تو ان کے لیے دینی مدارس کو ذمہ دار قرار دینا قرین انصاف نہیں ہے۔
تیسرا سوال قومی اجتماعی دھارے سے الگ رہنے اور جداگانہ تشخص قائم رکھنے کا ہے۔ اس سلسلہ میں گزارش ہےکہ اس کا تعلق بھی ان مدارس کے مقصد وجود سے ہے۔ کیونکہ ہمارے آئین کے دفعہ 25/26 میں یہ حق حاصل ہے کہ معاشرہ میں دینی تعلیمات کے فروغ، مساجد کے لیے آئمہ کی فراہمی، دینی رہنمائی کے لیے علماء کی تیاری، اور قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے اساتذہ مہیا کرنے کی عملی نظام بنائے، اس لئے ان مدارس کے قیام و وجود کی ضرورت بہرحال باقی رہے گی۔
ورنہ وہی خلاء پیدا ہو جائے گا جس کو پر کرنے کے لیے مدارس قائم کیے گئے تھے، اور اس ذمہ داری سے کوئی باشعور مسلمان پہلو تہی نہیں کر سکتا۔ اس خلاء کو پر کرنے کے لیے نہ صرف ان مدارس کا وجود ضروری ہے، بلکہ ان کی اس مالیاتی خودمختاری، انتظامی آزادی، اور نصابی تحفظات کا برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے، جس کے بغیر یہ اپنا کردار اعتماد کے ساتھ ادا نہیں کر سکتے۔(دینی مدارس منظر و پس منظر)
ام المدارس دارالعلوم دیوبند نے مسلمانوں کی فکر و نظر کو تازگی و پاکیزگی، قلب کو عزم و حوصلہ اور جسم کو قوت و توانائی بخشنے میں بڑا کام کیا ہے۔ اس کا فیضان عام ہے ، اس سے ایسے بے شمار لوگوں نے اپنی علمی تشنگی بجھائی ہے ، جن کے علمی شوق کو پورا کرنے کے لیے اسباب مہیا نہ تھے۔ اسی کے ساتھ دارالعلوم کے نقش قدم پر بہت سے علمی اور دینی چشمے جاری ہوگئے جن میں سے ہر چشمہ اپنے افادہ و فیضان کا ایک خاص دائرہ رکھتا ہے۔
یہ سب اسی نظام شمسی کے ستارے ہیں جن کی روشنی سے برصغیر میں مسلمانوں کی علمی و دینی زندگی کا گوشہ گوشہ روشن ہے۔ ان دینی مدارس سے لاکھوں مسلمان گھرانوں کی حالت سدھر گئی، مسلمانوں کا احساس کمتری دور ہوا اور ان کی بدولت ملت کو ایسے بے شمار افراد میسر آگئے جنھوں نے حالات اور وقت کے مطابق زندگی کے مختلف گوشوں میں مسلمانوں کی رہ نمائی کی۔جہاں جہاں دارالعلوم کے نقش قدم پر قائم ہونے والے دینی مدارس صحیح خطوط پر سرگرم عمل ہیں ، وہاں اسلام کی حیثیت اور مسلمانوں کی ملی خصوصیات بڑی حد تک محفوظ ہیں (تاریخ دارالعلوم دیوبند)
مدارس دینیہ کے خلاف اس مسموم فضا اور ماحول میں وہ حق پسند و حقیقت پسند حضرات قابل تحسین ہیں، جو ان کی ضرورت و افادیت اور خدمات کے نہ صرف معترف ہیں، بلکہ ان مدارس کے ساتھ مالی و اخلاقی تعاون کرتے ہوئے اعلاءکلمتہ اللہ اور اسلام کی آواز کو سربلند کرنے میں برابر کے حصہ دار ہیں۔
اردو زبان نے مسلمانوں کا مذہب سے رشتہ جوڑے رکھا ہے۔ تفسیر، قرآن، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین، اردو ہی میں سمجھ سکتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دینی مدارس سے تعلق رکھنے والے طلباء میدان صحافت میں غیر معمولی خدمات انجام دے رہے ہیں‘ یہ ایماندار اور سچے صحافی ہیں جو معاشرہ کی اصلاح میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔
لاک ڈاؤن 2020 میں عبادتگاہوں کے ساتھ ساتھ اسکول، کالج اور دینی مدارس بھی بند کردیئے گئے تھے ۔تقریباً دو سال کا یہ دور اللہ نہ کرے کہ دوبارہ آئے۔ مدارس کو ملنے والے عطیات پر مخیر حضرات نے بہت کم توجہ دی۔ اگر مدارس کے ذمہ داران نے رابطہ کی کوششیں بھی کیں تو یہ کہ کر ٹال مٹول کیا گیا کہ” ابھی تو مدرسہ بند ہے "سب جانتے ہیں کہ مدارس کی اپنی موقوفہ جائیدادیں نہیں ہیں‘ جس کی وجہ سے ان کے تمام اخراجات کا دارومدار اہل خیر حضرات کے عطیات، زکوٰۃ، صدقات وغیرہ سے ہی پورے ہوتے ہیں ۔ اسی سے مدارس کا سارا نظام چلتا ہے، بجلی پانی کا بل ادا کیا جاتا ہے ، اساتذہ و ملازمین کی تنخواہیں ادا کی جاتی ہیں۔ طلبہ کے طعام کا انتظام کیا جاتا ہے۔
اگر مدارس کی عمارتیں ذاتی نہ ہوں تو کرایہ بھی اسی رقم سے ادا کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ . چنانچہ لاک ڈاؤن کے ابتدائی چند مہینوں کے بعد ہی اکثر مدارس کے مہتمم و نظماء اساتذہ اور ملازمین کو یا تو فارغ کر دئیے گئے یا فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے تنخواہ موقوف کردیئے گئے ، انہیں روزمرہ کی زندگی کے اخراجات پورے کرنے کے لئے نامعلوم کیا کیا تدبیریں اختیار کر نے پڑے، مالداروں نے غربا اور ضرورت مندوں کے گھروں میں اناج اور ضروری اشیاء تو خوب بھیجے مگر کسی کو خیال نہیں آیا کہ یہ مدارس کے مدرسین و ملازمین اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں کے ساتھ کیسے گزر بسر کررہے ہیں.
شاید مسلمانوں کے زوال‘ ان کے ہر طرف سے پٹنے اور آزمائش میں مبتلا ہو نے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ علمائے کرام اور اکابرین کا ہم احترام نہیں کرتے۔ ان کی ضروریات کا خیال نہیں رکھتے، کبھی ان کی خبر گیری نہیں کرتے، جو انبیاء کے وارث کا احترام اور لحاظ نہیں کرتے وہ بھلا اللہ کے رحم و کرم کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں؟.
مسلمانوں پر اپنے علماء کا احترام فرض ہے، کیونکہ یہ انبیاء کے وارث ہیں- انکی تضحیک انکے منصب کی تضحیک ہے، اور انکے عہدے کی تضحیک، اس وراثت اور علم کی تضحیک ہے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انہیں ملا ہے-
انکے عہدے، منصب، علم اور ان پر اسلام اور امت کی بہتری کی ذمہ داری کی وجہ سے مسلمانوں پر انکا احترام فرض ہے-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جہالت ایک بیماری ہے اور اسکا علاج علماء سے پوچھنا ہے –
(الداء والدواء صفحہ٨،)
کہا جاتا ہے کہ اگر تم میں ایک عالم بننے کی صلاحیت ہو تو جہاں تک ممکن ہو , عالم بننے کی کوشش کرو، اور اگر تم عالم نہیں بن سکتے تو پھر ایک طالب علم بنو، اور اگر طالب علم بننے کی بھی صلاحیت نہیں ہے تو پھر ان سے (علماء و طالب علم) سے محبت کرو، اگر تم ان سے محبت کے قابل بھی نہیں ہو تو پھر (کم از کم) ان سے نفرت مت کرو-"
دینی مدارس کے انتظامات میں ہر مسلمان کو اپنی حیثیت کے مطابق حصہ لینا چاہئے۔ کیوں کہ یہ ہیں تو ہمارا وجود باقی ہے۔ اس سے آپ کو قلبی طمانیت بھی ہوگی اور اللہ رب العزت غیب سے آپ کی آمدنی اور کاروبار میں برکت دے گا۔ ہمارے علمائے کرام،حفاظ عظام ہمارا وقار ہیں۔
دینی مدارس میں عصری تعلیم کا امتزاج شروع ہو گیا ہے جو وقت کی ضرورت ہے۔ اچھی اور فصیح اردو میں ہم شہری علاقوں میں تو کام چلا سکتے ہیں‘ شہر سے 50 سے 100 کیلو میٹر کے فاصلے پر ہمیں مقامی زبان میں بات کرنی ہوتی ہے‘ اس لئے دینی مدارس میں جو بھی مقامی زبان چاہے تلگو‘ مراٹھی‘ بنگالی‘ کنڑا ہو یا ہندی سکھائی جائے، تاکہ برادرانِ وطن تک ہم اپنے دین حق کا پیغام پہنچا سکیں۔
یہ خوش آئند بات ہے کہ بہت سارے دینی مدارس میں انگلش، جرنلزم، کمپیوٹر کورسس، کا بھی اہتمام ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دینی مدارس ہی کی بدولت اردو زندہ ہے‘ حقیقت یہ ہے کہ اگر یہ مدارس نہ رہیں تو اردو ختم ہوجائے۔
ان تفصیلات کے بعد کیا یہ کہا جا سکتا ہے، کہ مدارس نے قوم کو کیا دیا؟
دینی مدارس آج جو خدمات ا نجام دے رہے ہیں‘ اس کی قدر کی جانی چاہئے۔ لہٰذا اِن مدارس کا مالی تعاون و استحکام ایک بہترین، مستحکم، مسلم معاشرہ، و امن عالم کا ضامن ہے۔ ***
