ملک کے آخری حصے پر رہنے والا آدمی بھی اس طب سے فیضیاب ہو سکے۔ڈاکٹر انور سعید
دیوبند،8؍ ستمبر
(رضوان سلمانی)
گذشتہ روز سینٹرل کاؤنسل آف انڈین میڈیسن کے سابق ممبر اور بورڈ آف انڈین میڈیسن اتر پردیش کے حالیہ منتخب ممبر ڈاکٹر انور سعید نے طب یونانی کے مختلف مسائل اور ترویج و ترقی کے حوالہ سے مرکزی حکومت کے چند اہم ذمہ داران سے ملاقات کی اور ان سے طب یونانی کے بارے میں گفتگو کی۔
اسی ضمن میں ڈاکٹر انور سعید کی ملاقات نیشنل کاؤنسل آف انڈین سسٹم آف میڈیسن (این۔سی۔آئی۔ایس۔ایم۔) کے چیئرمین ڈاکٹر دیو پجاری سے بھی ہوئی۔ ڈاکٹر دیو پجاری نے بتایا کہ این۔سی۔آئی۔ایس۔ایم۔نیتی آیوگ کے تحت دیسی طبوں کے فروغ کے لئے کام کرنے والا مرکزی ادارہ ہے۔
جس کے تحت طب یونانی کے کالجوں میں تعلیمی معیار کو اوپر اٹھانے کے لئے مرکزی وزارت آیوش کی ہدایات کے تحت این۔سی۔آئی۔ایس۔ایم۔مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ طب یونانی کے یو۔جی۔ پی۔جی۔ سلیبس میں درپیش دشواریوں کو دور کرنے کے لئے تعلیمی سلیبس کو جدید تقاضوں کے تحت معیاری بنانے کے لئے سلیبس کمیٹیاں تشکیل کی جا چکی ہیں اور عنقریب تمام سلیبس کو اس انداز میں مرتب کر دیا جائے گا کہ وہ طلباء کے لئے بھی مفید اور قابل عمل ہواور عصر حاضر کے تقاضوں کو بھی پورا کرتا ہو تاکہ طب یونانی کے فارغین جب میدان عمل میں آئیں تو وہ دوسرے جدید طریقۂ علاج کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چل سکیں۔
ڈاکٹر دیو پجاری نے بتایا کہ یونانی طبی کالجوں کے معیار کو اونچا اٹھانے کے لئے اور طب یونانی کے معالجین کے مسائل کو حل کرنے کے لئے موجودہ نریندر مودی سرکار پوری توجہ اور دلچسپی کے ساتھ کام کر رہی ہے اور اس صدیوں پرانی معالجاتی طب کو ملک کے ہر گوشہ میں جدید معیار کے ساتھ پہنچانے پر کمر بستہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مرکزی حکومت نے غازی آباد کے اندر 10 ایکڑ زمین پر 200 بستروں پر مشتمل ایک نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جس کے لئے 340 کروڑ روپئے کی خطیر رقم حکومت نے منظور کی ہے۔
یہ انسٹی ٹیوٹ شمالی ہند میں یونانی طب کا جدید پیرایہ میں اعلیٰ ترین ادارہ ہوگا اور عوام ا س سے زیادہ سے زیادہ فیضیاب ہوں گے۔ اس کے علاوہ بریلی میں ایک طبیہ کالج کا قیام بھی حکومت کی منظور کے بعد عمل میں آ رہا ہے۔
ڈاکٹر انور سعید نے بتایا کہ گذشتہ6 ستمبر کو مرکزی وزیر آیوش شری سروبندا سونووال جی نے بھی مختلف یونانی کے ذمہ داران کی ایک اہم میٹنگ طلب کی تھی جس میں انہوں نے یونانی کے مختلف مسائل پر گفتگو کی اور ترجیہی طور پر ان طریقوں پر بات چیت کی جن کے ذریعہ اس طب کو جن جن تک پہنچایا جا سکے اور ملک کے آخری حصے پر رہنے والا آدمی بھی اس طب سے فیضیاب ہو سکے۔
انہوں نے اپنے ماتحت اداروں کو واضح ہدایت کی کہ ان تمام طریقوں کے استعمال میں کوئی کسر باقی نہ رکھی جائے جن کے ذریعہ صدیوں پرانی یہ ہندوستانی طب ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں پھل پھول سکے۔
کاؤنسل آف ریسرچ ان یونانی میڈیسن (سی۔سی۔آر۔یو۔ایم) کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عاصم علی خان سے بھی ڈاکٹر انور سعید کی ملاقات ہوئی۔ دوران گفتگو ڈاکٹر عاصم علی خان صاحب نے پوری وضاحت کے ساتھ بتایا کہ سی۔سی۔آر۔یو۔ایم۔ کے تحت ملک بھر کے مختلف حصوں میں سینکڑوں کی تعداد میں ریسرچ آفسرس طب یونانی کو جدید پیرامیٹر پر مفید ثابت کرنے کے لئے ریسرچ کے کاموں میں مشغول ہیں اور مختلف پیچیدہ بیماریوں کے یونانی شافی علاج مہیا کرا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ دہلی کے ساتھ ساتھ لکھنؤ اور حیدرآباد میں دو یونانی سینٹر ل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کام کر رہے ہیں ساتھ ہی ساتھ چنئی، بھدرک، پٹنہ، کولکاتہ، علیگڑھ، نئی دہلی، سری نگر اور ممبئی میں آٹھ ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ یونانی طب کی ترویج و ترقی کے لئے مؤثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔ دہلی میں حکیم اجمل خاں انسٹی ٹیوٹ فار لٹرری اور ہسٹورکل ریسرچ ان یونانی میڈیسن ایک اور ممتاز ادارہ مرکزی حکومت کے زیر انتظام اہم طبی کام انجام دے رہا ہے۔
اس کے علاوہ یونانی ادویہ کے معیار کو سائنٹفک طریقے سے قائم و دائم رکھنے کے لئے غازی آباد میں یونانی ڈرگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بھی بہت اہم خدمات انجام دے رہا ہے۔دوران گفتگو انہوں نے بتایا کہ حالیہ مرکزی حکومت میں نے گذشتہ سات سالوں میں طب یونانی کے فروغ کے لئے جتنے کام کئے ہیں اس سے پہلے کی حکومتوں میں کبھی اتنے کام نہیں ہو پائے۔ ڈائریکٹر صاحب نے بتایا کہ سی۔سی۔آر۔یو۔ایم۔ کے تحت دہلی اور ملک کے دیگر مشہور و معروف جدید ہسپتالوں میں طب یونانی کی یونٹ باقاعدہ کام کر رہی ہے۔
ڈاکٹر انور سعید نے اپنی مختلف ملاقاتوں میں تمام عہدیداران اور ذمہ داران کی توجہ ان طبی مسائل کی طرف بھی مبذول کرائی جو آج کل زیر بحث ہیں ان میں ایم۔ایس۔ یونانی کو ایم۔ایس۔ آیوروید کے برابر اختیارات دینا ،یونانی گریجویٹس کی ہسپتالوں میں تقرری، طبی ہسپتالوں کا قیام اور طبیہ کالجوں کے تعلیمی و اقتصادی مسائل وغیرہ اہم ہیں۔ تمام مرکزی عہدیداران نے اپنے اپنے طور پر یہ یقین دلایا کہ حکومت نہ صرف یہ کہ ان مسائل سے باخبر ہے بلکہ ان کا اطمینان بخش حل تلاش کرنے میں بھی مصروف ہے اور عنقریب مرکزی حکومت کی ان کوششوں کے مثبت نتائج عوام کے روبرو ہوں گے۔