خطرناک گردابی طوفان میں تبدیل ہو سکتا۔ ماہرین موسمیات
نئی دہلی:25؍مئی
(زین نیوز)
ہندوستان کے مشرقی حصہ میں 26 مئی کو آنے والے یاس طوفان نے لوگوں کے ذہنوں میں خوف طاری کردیا ہے۔گردابی طوفان ’یاس‘ شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئےاگلے 12 گھنٹوں کے دوران خطرناک گردابی طوفان میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
موسمیات نے اطلاع دی گردابی طوفان شمال مغرب کی طرف بڑھے گا اور پھر تیزرفتارسے بدھ کی صبح شمالی اڈیشہ اور مغربی بنگال کے ساحلوں کے نزدیک شمال خلیج بنگال میں پہنچے گا۔ سی دن تقریباََ دوپہر کو خطرناک گردابی طوفان کی شکل میں پارا دیپ اور سمندری جزائر کے درمیان شمال اڈیشہ -مغربی بنگال کے ساحلوں کو عبور کرنے کا امکان ہے ۔
اسی دن دوپہر تک یہ ایک خطرنا ک گردابی طوفان کی شکل اختیار کر لے گا اوراس کا شمالی اڈیشہ و مغربی بنگال کے ساحلوں کو پار کرنے کا امکان ہے ۔گردابی طوفان ‘یاس’ سے ہونے والے نقصانات کو کم کرنے کے لئے مرکزی اور متعلقہ ریاستی حکومتوں نے خاطر خواہ انتظامات کیے ہیں۔
25مئی کو یاس طوفان کی وجہ سے بنگال کے شمالی اور جنوبی مدنی پور ، شمالی اور جنوبی 24 پرگنا ، ہوگلی اور ہووڑہ میں بارش کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔ایم سی میترا روڈ حلیشہار وارڈ نمبر18چند سکنڈ میں بارش اور تیز ہواؤ ں سے کئی مکان منہدم ہوگئے ہیں کئی درخت اکھڑ گئے اور بھاری نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں
ریسکیو ٹیم جنگی خطوط پر امدادی سرگرمیو ں میں مصروف ہیں۔ علاقہ کے تمام افراد کو اسکول میں منتقل کیا جار ہا ہے۔وہیں مغربی بنگال میں دیگہ کے ساحل سمندر پر تیز لہریں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔
ہواؤں کی رفتار بھی تیز ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق یاس طوفان 26 مئی کو شدت اختیار کرے گا اور مغربی بنگال اور شمالی اوڈیشہ اور بنگلہ دیش کے ساحل کے قریب خلیج بنگال کو عبور کرے گا۔ اس دوران اس کی ہوا کی رفتار 160 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ ہوگی۔ اس عرصہ کے دوران ، تیزاور انتہائی موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ یاس طوفان سے چند دن قبل ، مغربی ہندوستان میں مہاراشٹر ، گجرات سمیت متعدد ریاستوںمیںتاوتے طوفان نے تباہی مچا دی تھی۔ ابھی تک تاوتے طوفان سےہونے والے نقصان کا اندازہ لگایا جارہا ہے۔ ادھر ، مغربی بنگال اور اڈیشہ میں مئی کو آنے والے طوفان یاس کا خوف بڑھتا جارہا ہے۔
سمندری طوفان تاوتےکی وجہ سے مہاراشٹر اور گجرات سمیت متعدد ریاستوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلا دھار بارش دیکھی گئی تھی۔ ماہرین موسمیات کے مطابق ایک ہی وقت میں یاس طوفان‘ تاوتے طوفان اور امفان سے بھی زیادہ خطرناک ہوسکتا ہے۔