حیدرآباد۔26/مئی
(زین نیوز)
حیدرآباد رچہ کنڈہ کی سائبر کرائم پولیس نے آ ج نیہا نامی خاتون کو گرفتار کرلیاجس نے 22؍ جنوری کو یل بی نگر پولیس اسٹیشن میں سٹی آرمڈ ریزرو (سی اے آر) کے ہیڈکوارٹر میں تعینات ایک پولیس کانسٹیبل پر عصمت دری اور دھوکہ دہی کاالزام عائدکرتے ہوئے شکایت درج کروائی تھی
شادی سے انکار پر برہم ہوکر ایک کانسٹیبل پر عصمت ریزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اسے جیل بھیجنے والی خاتون کو بھی رچہ کنڈہ کی سائبر کرائم پولیس نے اس وقت گرفتار کرلیا جبکہ وہ کانسٹیبل کی بیوی اور افراد خاندان کو فرضی انسٹاگرام اور فیس بک کے ذریعہ فحش اور دھمکی آمیز پیغامات روانہ کررہی تھی۔
اس خصوص میں سائبر کرائم انسپکٹر رچہ کنڈہ پرکاش نے بتایا کہ بندلہ گوڑہ کی رہنے والی 27سالہ خاتون نیہا جو ایک خانگی ملازم ہے کی کچھ عرصہ قبل ناگول کے رہنے والے آرمڈ ریزرو کانسٹیبل اوولگڈا ابلاش کمار یادو سے جیم میں ملاقات ہوئی تھی جو بعد ازاں پیار محبت میں تبدیل ہوگئی۔
بعدمیں یہ دونوں تلنگانہ کے رنگا ریڈی ضلع کے ناگول میں رہائش پذیرتھےکانسٹبل نے اس خاتون سے شادی کا وعدہ کرتے ہوئے متعدد بار جنسی استحصال کیا اور جب بھی وہ حاملہ ہوا تو اس نے اسقاط حمل کروایا۔
یہ بھی پڑھیں : طوفان یاس‘ طوفان تاوتے اور امفان سے بھی زیادہ خطرناک
اس دوران نیہا کو اس بات کا پتہ چلاکہ کانسٹیبل پہلے سے ہی شادی شدہ ہے اور اس نے شادی سے انکار کردیا۔جس پر برہم ہوکر نہیا نے23؍جنوری کو ایل بی نگر پولیس اسٹیشن میں عصمت ریزی اور دھوکہ دہی کی شکایت درج کروائی جس پر پولیس نے کانسٹیبل کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا تھا۔جسکے باعث اسکی ملازمت بھی چلی گئی۔
کانسٹیبل کی ضمانت پر رہائی کی اطلاع پر نیہا نے ایک فرضی انسٹا گرام اور فیس بک اکاونٹ بنا کر نئے فون کے ذریعہ اسکی بیوی اور افراد خاندان کو فحش پیغامات روانہ کتے ہوئے ہراساں کرنا شروع کردیاتھا۔اسکی شکایت پر پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے نیہا کو گرفتار کرلیا اور اسے جیل بھیج دیا۔مزید تحقیقات جاری ہیں۔
