جودستارفضیلت گم ہودستارمحبت میں
فرزندان جامعہ عربیہ تحفیظ القران جگتیال کے اہتمام اصلاحی مجلس وتقسیم اسناد کے موقع پر شہرجگتیال تلنگانہ کے 36/سالہ قدیم جامعہ عربیہ تحفیظ القرآن ضلع جگتیال کے جلسہ تقسیم اسناد سے ترجمان اہلسنت والجماعت مولانا محمد عبدالقوی صاحب مدظلہ العالی ناظم ادارہ اشرف العلوم حیدرآباد کا خصوصی خطاب
ثم أورثناالکتاب الذین اصطفینا من عبادنا .فمنھم ظالم لنفسہ ومنھم مقتصد .ومنھم سابق بالخیرات……..الآیہ
آیت کریمہ کی اختصار کے ساتھ تفسیر کرتے ہوے فرمایاکہ اللہ تبارک وتعالی نےاس کتاب یعنی قرآن مجید کا اپنے بندوں میں سے وارث بنایا ان لوگوں کو جن اللہ نے منتخب فرمالیا ہے
سب سے ہمیں اللہ کے اس انتخاب پر اس کا شکر ادا کرنا چاہیےء کہ اس نے اپنے تمام ہی بندوں میں سے ہم کو حاملین کتاب بنایا دنیا کے کسی بڑے سے بڑے آدمی کا انتخاب ہمارے لےء اعزاز نہیں مگر انتخاب خداوندی نے ہمیں وارث کء ساتھ ساتھ اتنا معزز بنادیا کہ اب ہمیں کسی اور اعزاز کی ضرورت نہیں ہے
وراثت کتاب سے دو قسم کے لوگ مراد ہیں اس لےء کہ کتاب کے بھی دوحصے ہیں
(1)کتاب کے الفاظ وحروف
(2)الفاظ کتاب کے معانی
پہلے معنی کے اعتبار سے قرآن مجید کے الفاظوحروف کو یاد کرلینے اس کی تلاوت وقرآت کرنے والے صحت ادائیگی کے ساتھ اس کو پڑھنے والے یعنی حفاظ عظام مرادہیں اور دوسرے معنی کے اعتبار سے الفاظ کتاب کے علوم ومعارف اس کے معانی ومطالب کو سمجھنے والے یعنی علماء کرام مراد ہیں
اللہ تعالی نے اپنی کتاب کی وراثت کے لےء حفاظ وعلماء دونوں کا انتخاب کیا اور آج کے اس اجلاس میں اس مدرسہ سے فارغ ہونے والے حفاظ وعلماء کو سند فراغت سے نوازا جارہا ہے اس لےء آپ کو چاہیے کہ پہلے اس حسن انتخاب پر اللہ کا شکر ادا کریں چونکہ یہ خالق ومالک کا انتخاب ہے جو سب سے بڑی دولت وعزت کی بات ہے یہ کسی عام انسان کا انتخاب نظر نہیں ہے
اب آگے کی آیت والے حصہ میں اس نعمت کی قدردانی کرنے اور نہ کرنے کے اعتبارسے اللہ نے ان لوگوں کو تین زمروں میں تقسیم فرمادیا
(1)جو اس انتخاب خداوندی کی ناقدری کرکے اپنے آپ کو ظالم بنانے والے لوگ فمنھم ظالم لنفسہ جنہوں نے اللہ کے اس انتخاب کی کوی پرواہ نہیں کی اوراپنے حافظ وعالم دین ہونے کا انہیں کوی احساس ہی نہ رہا اورمعاصی وگناہوں میں اپنی زندگی گذارتے رہے تلاوت قرآن اور علوم قرآن سے پہلو تہی اختیارکرکے اپنے آپ پر ظلم کرلیا
(2)وہ لوگ جنہوں نے اپنے اس انتخاب کی قدردانی کی اہنے آپ کو معاصی اور گناہوں سے درورکھا قرآن کی تلاوت اور عمل کے کرکے اپنے آپ کو اعتدال واقتصاد والی راہ پر گامزن کرلیا اور فرائض وواجبات کی ادائیگی میں لگ کر اپنے مالک کو راضی کرنے کی فکر کی تو یہ اعتدال والے لوگ ہیں جن کو مقتصد کہا گیا ہے ومنھم مقتصد
(3)تیسرے وہ زمرہ ہے جس میں وہ حفاظ وعلماء شامل ہیں جو ہرکارخیر کو انجام دینے کےلےء سب سے آگےرہتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس انتخاب کا ہمیں احساس ہونا چاہیے اور اسی احساس کے ساتھ وہ دین وعلم دین کو پھیلانے انسانیت کو گمراہی وضلالت سے بچانے کے لےء ہر وقت فکرمند رہتے اور اپنی ذمہ داری کو ادا کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں ان کو اللہ تعالی ومنھم سابق باالخیرات اور نعمت خداوندی کا قدردان بتلایا گیا ہے

اس لےء ہم علماء کو چاہہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس زمرہ میں شامل کرائیں
ہم لوگوں سے شکوہ کرتے ہیں کہ وہ ہماری قدر نہیں کرتے لیکن کیاکبھی ہم نے بھی اپنی قدرومنزلت کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ؟ ہم یہ سمجھنے لگتے ہیں اگر میں کسی مسجد کاامام ہوں تو پہلے دن سے ہی لوگ میری عزت کرنے والے بن جائیں کسی مسند درس وتدریس پر فائز ہوجائیں تو سمجھتے ہیں کہ میں عالم وحافظ ہوں میں مدرس ومعلم ہوں طلباء میری صلاحیتوں کا لوہا مانے اورمیری عزت کریں محض اس علم کی وجہ سے ہم اپنے آپ کو سب سے بڑا سمجھنے لگ جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا نقصان ہوجاتاہے یادرکھو
کہ کوی بھی انسان چھوٹا بنے بغیر کبھی بڑا نہیں بن سکتا
اگر بڑا بننا ہوں تو پہلے چھوٹے بننا سیکھو ہم دستار فضیلت تو لے لیتے ہیں لیکن دستارمحبت سے بالکل عاری ہوتے ہیں حقیقت یہ ہیکہ ہماری یہ دستار فضیلت جب تک دستار محبت میں تبدیل نہیں ہوجاے گی اس وقت تک دنیا کا کوی انسان ہماری قدرنہیں کرے گا
حضرت قطب الارشادوالتکوین مولانااحمد پرتاب گڈھی نے ایسے موقعوں کے بارہ میں کہا کہ
خداجانے کیا سے کیا ہوجاے میں کچھ کہ نہیں سکتا
جودستارفضیلت گم ہو دستار محبت میں
آج ضرورت اس بات کی ہیکہ ہم اپنے اکابر علماء وبزرگان دین سے تعلق قائم کریں کسی نہ کسی اہل اللہ اورصاحب نسبت سے بیعت وسلوک کا سلسلہ جوڑیں ان کی سرپرستی میں کام کریں ان سے مشورہ کریں انہیں کے بتاے ہوے طریق کو اپنا کر ہم اپنی دنیا وآخرت کو سنواریں گے تو کامیاب ہوں گے
ایک اورجگہ پر قطب الارشاد نے فرمایا کہ
تنہا نہ چل سکوگے محبت کی راہ میں
میں چل رہا ہوں آپ میرے ساتھ آیےء
دوستو اور بزرگو
آج ہرچہارجانب سے مسلمانوں کو ڈرایا جارہاہے خوف وہراس میں مبتلا کیا جارہا ہے لیکن ہم پوری ہمت وشجاعت کے ساتھ اپنے ایمان وعقائد کے ساتھ زندگی گذاریں گے اور سارے علم پر باران رحمت پن کر برسیں گے آج قوم وملت تشنہ ہے پیاسی ہے دینی اعتبار دنیوی اعتبار سے ہر لائن سے ہمیں کام کرنا ہے اور بے لوث وبے غرض ہوکر کام کرنا ہے شاید ایسے ہی موقع کے لےء کہا گیاکہ
رحمت کا ابر بن کر سارے جہاں پر چھاییےء
عالم یہ جل رہا ہے برس کر بجھاییے
ایک بارش جس طرح اپنوں پرایوں سب کو سیراب کرتی ہے اسی طرح ہم کو بھی اس علم دین کے ذریعہ ہرایک کی ہدایت کا ذریعہ بنناچاہیے
اس جلسہ کی صدارت حضرت محترم مولانا حافظ شیخ سرور صاحب ناظم جامعہ عربیہ تحفیظ القران جگتیال نے کی اور نگرانی حافظ محمد عبدالماجد صاحب دامت برکاتہم نے ناظم مدرسہ مظاہر العلوم کورٹلہ نے فرمائی مفتی خلیل صاحب کی قرآت سے جلسہ کا آغاز ہوا حمد و نعت نوجوان نعت خواں احسان بن محسن نے پیش کیا تہنیتی کلام مفتی نوشاد علی اویس نے پیش کیا اس موقع کورٹلہ مٹپلی کریمنگر نظام آباد دیگر مقامات سے کثیر تعداد میں علماء وحفاظ کرام نے شرکت کی نظامت مولانا عبدالرحمن حسامی نائب ناظم جامعہ عربیہ تحفیظ القران جگتیال نے کی حافظ سید شمس الدین تبریز خواجہ عقیل نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا مولانا عبدالقوی صاحب کی دعاء پر اجلاس کا اختتام ہوا
