حیدرآباد:25؍جنوری
نمائندہ خصوصی
مائنارئیٹی ایجوکیشنل گائنڈنس اینڈ ویلفیر سوسائٹی کے زیر اہتمام ادبی اجلاس ومشاعرہ کا اہتمام کیاگیاجس میں ۔اردوزبان اورادب کا تحفظ اورفروغ کے لیے سنجیدہ کوشش وقت کا اولین تقاضہ ہے ‘ اردواکیڈیمی کی جانب سے اردو کی معیاری تصانیف کی اشاعت عمل میں آرہی ہے ساتھ ہی شعراء وادباکومسودات کی شاعت پرمالی تعاون فراہم کیا جارہا ہے جوکہ حوصلہ افزاء اقدام ہے۔ اردواکیڈیمی کی جانب سے بچوں کے لیے جاری رسالے کے ساتھ اردونصابی کتابوں کی تیاری اورتقسیم عمل میں لائی جارہی ہے۔ ان خیالات کااظہارڈائرکٹر؍سکریٹری‘تلنگانہ اسٹیٹ اردواکیڈیمی محمدغوث نے اردومسکن خلوت میں ممتازصنم اداکے مرتبہ افسانوں کا مجموعہ ’’یادوں کے زخم ‘‘ کی رسم اجرائی کے موقع پر کررہے تھے۔ اس موقع پرمہمان اعزازی ڈاکٹرایم اے نجیب بین الاقوامی سفیربرائے امن کے ہاتھوں ممتازجہاں کوانمول اردورتن ایوارڈ دیا گیا۔ سفیربرائے امن ڈاکٹرایم اے جیب نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اردوہندوستان کی زبان نہیں رہی بلکہ اس زبان نے عالمی زبان کی حیثیت اختیارکرلی ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے6زبانوںانگریزی ‘ عربی ‘ چینی ‘ فرانسیسی ‘ روسی اورہسپانوی کوسرکاری زبانیں قراردیا گیا ہے اوران میں ہی مختلف کارروائیاں وپیغامات جاری کیے جاتے ہیں۔ چنددنوں سے اردوحلقوں میں پائی جانے والی بے چینی کودیکھتے ہوئے وہ اقوام متحدہ میں اردو کی نمائندگی کریں گے۔ انہوں نے ڈائریکٹر؍سکریٹری محمدغوث صاحب کی ستائش کرتے ہوئے کہاکہ اردو اکیڈیمی تلنگانہ اردوزبان کی ترقی میں اہم قدم اٹھارہی ہے ۔مشہورو معروف شاعر حبیب محسن ادارہ محور اردو نے قطر سے پیغام بھیجا۔جس میں افسانہ نگار وشاعر کے حالات پیش کئے۔ ڈاکٹرنکہت آراء شاہین سابق پرنسپل اورینٹل اردوکالج‘ حمایت نگرنے صدارتی خطاب کرتے ہوئے اردوکے افسانوں پرتفصیلی روشنی ڈالی ۔سلیم فاروقی جنرل سکریٹری اردواکیڈیمی جدہ نے کہاکہ ہمار نوجوان اردوزبان توبولتے ہیں لیکن انہیں اردولکھنا نہیں آتا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہماری نوجوان نسل جوزیادہ ترانگریزی میڈیم اسکولوں میں ہی پڑھتے ہیں ‘ اردوزبان بولتے ہیں لیکن وہ اردومیں لکھ نہیں پاتے ہیں۔ اردواکیڈیمی جدہ سرکاری اسکولس پرکام کررہے ہیں ۔ اس موقع پر ڈاکٹرم ق سلیم صدرشعبہ اردوشاداں کالج‘ ڈاکٹرمحبوب فریدمدیرشاداب انڈیا‘ ڈاکٹرمختاراحمدفردین‘ محمدواحدعلی خان ایڈوکیٹ نے ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری اور ممتازصنم ادا کی ستائش کی ۔محمدآصف علی نے کتاب یادوں کے زخم کااجمالی جائزہ لیا۔ڈاکٹرسیدحبیب امام قادری نے افسانہ نگاروشاعر سیدعلی اللہ حسینی ؒکاتعارف پیش کیا۔ادبی اجلاس کاآغازمیرفخرالدین علی احمداورمحمدالیاس علی خان کی قراء ت کلام پاک سے ہوا جب کہ مشہورومعروف نعت خواہ محمدخلیل اللہ نقشبندی نے حمدونعت پیش کی۔اس موقع پر ڈاکٹرمحاہدہلال اعظمی‘ ڈاکٹرمحمدناظم الدین سابق لکچرارنظام آبادکالج‘سیدرئوف اللہ حسینی ‘ سیدافتخاراللہ حسینی ‘سیدسیف الدین قادری سکریٹری انجمن خادم المسلمین‘ ایڈوکیٹ محمداکرام ‘ سیدتنویرمحی الدین قادری ‘ سیدراہی اللہ حسینی ‘ سیدنعمان قادری ‘ سلیم الہامی اوردیگراحباب نے شرکت کی نظامت کے فرائض ڈاکٹرجہانگیراحساس نے بخوابی انجام دی۔ بعدازاں مشاعرہ سردارسلیم کی صدارت میں منعقد ہوامہمان شعراء فاروق شکیل ‘تسلیم جوہر‘ وحیدپاشاہ قادری ‘ جہانگیرقیاس نے کلام سنایامشاعرہ کی نظامت سہیل عظیم نے کی۔ کنوینرڈاکٹرسیدحبیب امام قادری نے اظہارتشکر پیش کیا۔
