کفیل الرحمن نظمی کے بیٹے ارحم نظمی کے کلام اللہ مکمل کرنے کی تقریب سے مفتی وقاص کا خطاب
دیوبند،6؍ نومبر
(رضوان سلمانی)
مدرسہ مدینۃ العلم میں تقریب ختم کلام اللہ کے موقع پر منعقدہ مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حسن الہاشمی کے جانشین مفتی وقاص ہاشمی نے کہا کہ علم کا چراغ ہمیں گھر گھر جلانا ہے،بچے ، بڑوں اور چھوٹوں کو قرآن کی تعلیم دلانا ہے ، جو لوگ بڑے ہوچکے انہیں ناامید اور مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے صرف ان کی توجہ اور کوشش درکارہے ۔
علم سیکھنے کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہے کیو ںکہ آپ 50-60برس کے بھی ہوگئے اور قرآن پڑھنا شروع کردیا ، اسی درمیان اللہ کا بلاوا آگیا تو کم از کم اللہ کو یہ تو کہہ سکیں گے کہ اے اللہ ہم نے قرآن سیکھنا شروع کیا تھا اور درمیان میں بلاوا آگیا تو اپنی رحمت سے ہمیں معاف فرمادے لیکن اگر قرآن کریم اور نماز سیکھے بغیر دنیا سے چلے گئے تو اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے ۔ کفیل الرحمن نظمی کے بیٹے ارحم نظمی کے کلام اللہ مکمل کرنے کی تقریب سے مفتی وقاص خطاب کررہے تھے ۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے گھروں کا ماحول دینی ہوجائے ، ہمارے روابط ، تعلقات، شریعت اور سنت کے مطابق ہوں ، ہم اپنے بچوں اور نوجوانوں پرنگاہ رکھنے والے بنیں تو آنے والا معاشرہ دینی ہوگا۔ مفتی وقاص نے کہا کہ قرآن کی تعلیم دینے والا اور حاصل کرنے والا دونوں کا ہی اللہ کے محبوب بندوں میں شمار ہوتا ہے ۔ انہوںنے حاضرین کی توجہ تعلیم اور دین کی طرف مبذول کراتے ہوئے کہا کہ آج ہماری جملہ پریشانیوں کا سبب دین سے دوری ہے ۔
ہمارے معاشرے میں جن کامیاب ترین لوگوں میں شمار ہوتا ہے وہ بھی قرآن اور اللہ کے بتائے ہوئے راستے سے دور ہیں جو ہم سب کے لئے لمحہ فکریہ ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ آج جو دشمن اللہ نے ہم پرمسلط کئے ہیں یہ ہماری بداعمالیوں کا نتیجہ ہیں۔ ہمیں اللہ ہی سے مدد مانگنی چاہئے اور کلام اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلناچاہئے ۔
مفتی وقاص نے کہا کہ پورا نظام اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے کتنے ہی بھائی بہن قرآن کریم تک پڑھنا نہیں جانتے ، نمازوںکی طرف ان کی توجہ نہیں ہے ، اللہ اور اس کے رسولؐ کے بتائے ہوئے راستے سے کوسوں دور ہیں۔ اسی واسطے امت مسلمہ پر چاروں جانب سے عرصہ حیات تنگ کیاجارہاہے۔
مفتی وقاص نے کہاکہ ہمیں دوسروں پر الزام تراشی کے بجائے خود اپنے اندر جھانکنا چاہئے ، اپنے عقائد اور اعمال کی درستگی کی فکرکرنی چاہئے ۔ جب تک دین کی محبت اور اس کے تئیں رغبت ہمارے اندر پیدا نہیں ہوگی اس وقت تک سیدھا راستہ نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے اندر قرآن سیکھنے ، دین سیکھنے اور نماز پڑھنے کا جذبہ پیدا کرنا ہوگا تبھی آنے والی نسلیں دینی ماحول میں تربیت پاسکیں گی ۔
اس موقع پر مدرسہ کے استاذ قاری مظاہر نے علاقہ کے لوگوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو قرآن سیکھنے کے لئے مدارس اور شہر کے علاقوں میں چھوٹے چھوٹے مکاتب کا رخ کریں ۔ انہوں نے اسکول جانے والے طلبہ سے بھی مخاطب ہوکر کہاکہ اسکول سے فارغ وقت نکال کر قرآن کو سیکھنے کا اہتمام کریں ۔
بہت سے مدارس ان طلبہ کے لئے بھی قرآن کی خدمت کو انجام دے رہے ہیں جو کالج اور اسکولوں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔ اس موقع پر ربیع ہاشمی، عاطف ہاشمی، ذاکر ،راشد قیصر، حافظ نصر الٰہی، رفیع، عبداللہ راہی، مظہر نامی، فہمی، طلحہ وغیرہ موجود رہے۔