اسد الدین اویسی کی آمد کے سلسلہ میں مہتمم مفتی ابوالقاسم نعمانی کارد عمل
دیوبند،6؍ نومبر
(رضوان سلمانی)
عظیم دینی دانش گاہ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ دارالعلوم دیوبند کے دروازے ہمیشہ سبھی کے لئے کھلے ہیں جس کا جی چاہے اور جب چاہے وہ یہاں آ سکتا ہے لیکن ادارے کی پالیسی کے تحت انتخابی دور میں سیاسی لیڈران کی یہاں آمد کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔
آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کی دارلعلوم دیوبند آمد کے سلسلے میں بھی اسی موقف کا اظہار کیا گیا ہے۔نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے بتایا کہ حال ہی میں اسد الدین اویسی سہارنپور اور مظفر نگر کے سیاسی دوروں پر آئے تھے اور دونوں مقامات پر انہوں نے باضابطہ طورپر انتخابی جلسوں سے خطاب کیا ہے۔
اسی طرح ملک کے دیگر لیڈران کے بھی یوپی میں سیاسی دورے شروع ہو گئے ہیں۔ لیکن ہمارا سابقہ موقف واضح ہے کہ الیکشن کے دور میں ادارے میں سیاسی رہنماؤں کی آمد کی اجازت نہیں ہے، اسی کے تحت اسد الدین اویسی کی آمد کے سلسلہ میں گفتگو کرنے آئے لوگوں کے سامنے بھی ادارہ کے مذکورہ موقف کا ہی اظہار کیا گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری بحث مباحثہ کے درمیان اپنی وضاحتی گفتگو میں مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہاکہ اس وقت اتر پردیش میں سیاسی سرگرمیاں شروع ہوگئی ہیں اور الیکشن نزدیک آتے ہی جملہ سیاسی جماعتوں کے لیڈران کی آمدورفت قرب و جوار کے علاقے میں ہونے لگی ہے اس لیے اس وقت ادارے میں سیاسی رہنماؤں کا استقبال نہیں کیا جاتا ہے۔
حالانکہ دارالعلوم دیوبند کے دروازے ہمیشہ سبھی کے لیے کھلے ہیں جس کا جب جی چاہے آسکتا ہے۔لیکن انتخابی زمانے میں دارالعلوم دیوبند کے ذمہ داران اپنی سابقہ پالیسی کے تحت سیاسی لیڈران سے ملاقات نہیں کرتے ہیں۔
مفتی ابوالقاسم نعمانی نے کہا کہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے قومی صدر اسد الدین اویسی بھی پوری ریاست میں سیاسی دوروں پر ہیں، اْنکے سہارنپور دورے کے دوران کچھ لوگ انکے دارلعلوم دیوبند آمد اور مزار قاسمی میں فاتحہ خوانی کی اجازت کے سلسلہ میں گفتگو کرنے آئے تھے، جن کے سامنے ادارے کا موقف رکھا گیا اب کوئی اس کو کس طرح پیش کرتا ہے یہ اسکا عمل ہے۔
انہوں نے کہا کے مزار قاسمی اور دارالعلوم دیوبند میں کوئی کبھی بھی آ سکتا ہے کسی کے لئے کوئی ممانعت نہیں ہے لیکن ادارہ کے ذمہ داران انتخابی دور میں سیاسی لیڈران سے ملاقات نہیں کرتے ہیں۔