فرقہ پرستی ملک کیلئے انتائی خطرناک

تازہ خبر قومی

آزادی کی تاریخ میں جن کا دوکوڑی کا بھی حصہ نہیں ہے وہ ملک کو بربادکررہے ہیں
باہم آہنگی اور یکجہتی کے فروغ کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نہیں : مولانا ارشد مدنی

دیوبند،25؍ اگست
(رضوان سلمانی)
جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشدمدنی نے آج مظفر نگر فساد میں بے گھر ہوئے مزید 66خاندانوں کو آشیانہ فراہم کرتے ہوئے باغونوالی ضلع مظفرنگر میں مکانات کی چابیاں ان کے حوالہ کیں۔2013ء میں مظفرنگر کے ہولناک فساد میں ہزاروں خاندان بے گھر ہوگئے تھے،یہ لوگ اب تک مختلف جگہوں پرانتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہے تھے۔

جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے ان متاثرین کی ابتدائی سے ہی ریلیف و امداد کا سلسلہ جاری ہے۔قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل مختلف مقامات پر311مکانات،مسجد اور مکتب کی تعمیر کرواکر متاثرین کو ان میں آباد کیا جاچکا ہے۔ مولانا مدنی نے 28 مارچ 2019 کو 151مکانوں پر مشتمل ایک اور مجوزہ جمعیۃ کالونی کامظفرنگر کے باغونوالی گاؤں میں افتتاح کیا تھا،اس وقت ان میں سے تیارشدہ85 ؍مکانوں کی چابیاں متاثرین کے حوالہ کی جاچکی تھیں، آج مولانا مدنی نے بقیہ 66 مکانوں کی چابیاں متاثرین کے حوالہ کیں، ساتھ ہی اسی کالونی میں متاثرین کے بچوں کی دینی تربیت کے لئے مکتب اور پنج وقتہ نماز کے لئے ایک مسجد کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

اس طرح سے اب تک مظفرنگرفساد متاثرین کے لئے466مکانات تعمیر کرکے ان میں متاثرین کو بسایا جاچکا ہے۔ اس مناسبت سے مظفرنگر کے موضع باغونوالی میں منعقد ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید ارشدمدنی نے کہاکہ اترپردیش کے شہر مظفرنگر میں جو فسادات ہوئے انہیں اس لئے بھی بدترین فسادات کی فہرست میں رکھا جاسکتا ہے کہ پہلی بار ایسا ہوا کہ اپنی جان کے خوف سے مسلمانوں کی ایک بڑی تعدادنے اپنے آبائی گھروں سے نقل مکانی کی، ان فسادات میں پولس نے حسب معمول بے حسی اور جانب داری کامظاہرہ کیا۔

انہوں نے آگے کہا کہ جب مظفرنگر میں فسادہوا ریاست میں اکھلیش یادوکی سرکارتھی، ملک کی جمہوری تاریخ میں پہلی بارایسا ہواکہ جب کسی سرکارنے فسادمیں مارے گئے افرادکے اہل خانہ کو فی کس دس لاکھ روپے معاوضہ دیا اور ایسے تقریباڈھائی ہزارلوگوں کو جو راحتی کیمپوں میں رہ رہے تھے انہیں بھی فی کس پانچ لاکھ روپے کا معاوضہ ریاستی سرکارسے ملا۔

مولانا مدنی نے یہ بھی کہا کہ ان 24افرادکو جو لاپتہ تھے اور انتظامیہ جنہیں مردہ تسلیم نہیں کررہی تھی ہمارے اصرارپر اکھلیش سرکارنے نہ صرف یہ کہ انہیں مردہ تسلیم کرلیا بلکہ ان کے اہل خانہ کو بھی دس لاکھ روپے فی کس معاوضہ دیا۔ مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند حالات کے ہرنازک موڑ پر ہمیشہ ملک کے مظلوموں سے قدم سے قدم ملاکر کھڑی رہی ہے اور آئندہ بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

جمعیۃ علماء ہند ایک مذہبی جماعت ہے لیکن یہ اکثریت اوراقلیت کے امتیاز سے بالاتر ہوکر انسانیت کی بنیادپر خدمت کا فریضہ انجام دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے خوف وہراس کی وجہ سے اپنے گھروں کو جانے سے انکارکردیا تھا وہ لوگ روزگارسے بھی پریشان تھے اس لئے ہماری کوشش یہ ہوتی ہے کہ ان کے لئے شہر سے قریب مکانات بنائے جائیں تاکہ انہیں روزگارتلاش کرنے میں کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔

مولانا مدنی نے کہا کہ ہمارا ملک ہندوستان صدیوں سے امن واتحاد اور محبت کا گہوارہ رہا ہے جس میں تمام مذاہب کے لوگ صدیوں سے ایک ساتھ رہتے آئے ہیں۔مذہبی رواداری ہندوستان کی بنیادی شناخت ہے۔آج کے حالات میں یہ بہت ضروری ہے کہ فرقہ وارانہ یکجہتی اور بھائی چارے کی فضا کو بحال کرنے کے لئے سیکولر اور انصاف پسند لوگ آگے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم اسی طرح فرقہ پرست طاقتوں کو شکست دے سکتے ہیں، افسوسناک بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے ایک مستقل طبقہ ہر حکومت کے دورمیں سرگرم رہا جس نے کبھی مسلمانوں کو سکون سے جینے نہیں دیا، فسادات کی ایک طویل تاریخ ہے، ملک کا کوئی شہرایسا نہیں ہے جہاں مسلمانوں کا خون نہ بہا ہو، مولانا مدنی نے کہا کہ فرق اتنا ہے کہ اب سب کچھ کھلے طورپر ہورہا ہے، ایک سیکولردستورکی موجودگی کے باوجود مسلمانوں کو اکثریت کی طرح یکسانیت کے ساتھ زندگی گزارنے کا حق نہیں دیا جارہا ہے، سیکولرازم کا دعویٰ کرنے والے ملک کے لئے یہ انتہائی شرمناک ہے،

مولانا مدنی نے کہا کہ15اگست کو ہم نے ملک کی آزادی کے پچھترسال پوراہونے کا جشن روایتی جوش وخروش سے منایا ہے لیکن کیا یہ وہی آزادی نہیں ہے جس کا ہمارے اسلاف نے عظیم قربانیاں دے کر خواب دیکھا تھا۔ انہوں نے آخرمیں کہا کہ ملک میں قدرتی آفات کی شکل میں جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے جمعیۃ علماء ہند ملک کے عوام کے ساتھ کھڑی نظرآتی ہے، ہر چند کہ یہ ایک مذہبی تنظیم ہے لیکن امداداور راحت رسانی کا ہر کام وہ مذہب سے الگ ہٹ کر انسانیت کی بنیادپر کرتی ہے اتحاد اور یکجہتی اس کا نصب العین ہے اور سیکولرازم کی بقاوتحفظ اس کا ہمیشہ سے اولین مقصدرہاہے۔ ہمارے بزرگوں نے فرقہ پرستی کے سامنے کبھی سرنہیں جھکایا۔

مولانا مدنی نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر کہا کہ اگر یہ سب کچھ اسی طرح چلتارہا تو کل ملک کو ایک سنگین تباہی سے دوچارہونا پڑسکتاہے، انہوں نے ایک بارپھر کہا کہ وہی ملک ترقی کرتاہے جو اپنے شہریوں کو امن وامان کے ساتھ جینے کی ضمانت دیتاہے، انصاف کے دوپیمانے نہیں رکھتااور اکثریت واقلیت میں کوئی تفریق نہیں کرتا، انہوں نے کہا کہ جمعیۃعلماء ہند ایک مذہبی تنظیم ہے اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ہم قوم کو بیداتوکرسکتے ہیں، ملک میں جوکچھ ہورہا ہے اورجس طرح آئین کو رونداجارہا ہے اس پر کوئی بھی انصاف پسند خاموش نہیں رہ سکتا، انہوں نے یہ بھی کہا کہ آزادی کی تاریخ میں جن کا دوکوڑی کا بھی حصہ نہیں ہے وہ ملک کو بربادکررہے ہیں۔