لالچی دلہا اور افراد خاندان عین وقت پر غائب

بین الریاستی تازہ خبر

حیدرآباد۔10مارچ
( زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
شہر کے ایک شادی خانہ میں شادی کی تیاریاں مکمل ہوچکی تھیں اور مہمانوں کی آمد ‘چاروں سمت جگمگاہٹ اور چکا چوند روشنیاں اس وقت ماند پڑ گئیں جب خاطر خواہ جہیز نہ دینے کی شکیات کو لیکر لالچی دولہا اپنے افراد خاندان کے ساتھ شادی خانہ ہی نہیں پہنچا ۔جبکہ یہ اطلاع دلہن اور اسکے خاندان کےلئے بجلی گرنے سے کم نہیں تھی۔مسل
م معاشرہ میں پیش آئے اس انتہائی افسوسناک واقعہ کے بعد لڑکی والوں نے پہاڑی شریف پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔
تفصیلات کے مطابق پرانے شہر کے ضیاءگوڑہ کے نوجوان سید عظمت کی شادی پہاڑی شریف کی ساکن ایک لڑکی سے 8مارچ کو طے پائی تھی جہاں نصف شب گزر جانے کے بعد بھی دولہے کی بارات شادی خانہ نہیں پہنچی اور شادی خانہ میں موجود مہمانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی اور پھر شادی کی پر مسرت تقریب ویرانی میں تبدیل ہونے لگی۔
کیونکہ مہمانوں کو اس بات کی اطلاع مل گئی تھی کہ لالچی دولہا خاطر خواہ جہیز کے مطالبہ کی عدم تکمیل پر اپنے افراد خاندان کے ساتھ شادی خانہ نہیں پہنچا اور اپنے محلہ و رشتہ داروں میں دولہے والوں نے یہ افواہ پھیلا دی کہ دلہن کے والد کا اچانک انتقال ہونے کے باعث شادی ملتوی کردی گئی جبکہ اس سلسلہ میں دلہن کے بھائی نے میڈیا کو تفصیلات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ خود دولہ والوں نے زبردستی کرتے ہوئے شادی کےلئے مجبور کیا تھا چناچہ بات چیت کے دوران لڑکی والوں نے انھیں واضح طور پر بتادیا تھا کہ وہ ابھی اپنی لڑکی کی شادی کرنے کے موقف میں نہیں ہیں اسکے باوجود لڑکے والوں کی جانب سے دباو¿ ڈالا جاتا رہا اور آخر کار لڑکی والوں کی جانب سے حسب استطاعت شادی کی تیاریاں مکمل کرلی گئیں اور رقعوں کی تقسیم کے علاوہ شادی خانہ میں کھانے کے انتظامات بھی مکمل کرلئے گئے تھے۔
لیکن لالچی دولہے اور اسکے خاندان کی جانب سے خاطر خواہ جہیزنہ دینے کی شکایت کرتے ہوئے یہ ڈرامہ کیا گیا۔لڑکی کے والد کی شکایت پر پہاڑی شریف پولیس نے اس سلسلہ میں ایک مقدمہ درج کرلیا ہے اور تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔