نو مسلم دلہن کی پولیس سے سیکوریٹی فراہم کرنے کی اپیل

بین الریاستی تازہ خبر قومی

حیدرآباد:10مارچ
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
پڑوسی ریاست مہاراشٹرا کے نادیڑ کی متوطن ایک نو مسلم دلہن جس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرتے ہوئے اپنے ہی ہم وطن مسلم نوجوان ارشاد محی الدین سے یہاں شہر حیدرآباد کے صنعت نگر علاقہ میں 2مارچ کو اسلامی رسم و رواج کے تحت شادی کرلی تھی اور اسکی اطلاع لڑکی نے متعلقہ پولیس اسٹیشن صنعت نگر کو دیتے ہوئے اپنا بیان قلمبند کروایا ہے۔

لیکن اس دوران مہاراشٹرا پولیس کی ایک ٹیم لڑکی کے والدین کی شکایت پت لڑکی کے اغواءکے معاملہ میں ایک ایف آئی آر کے ساتھ پہنچی ہے۔اس موقع پر لڑکی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالغ ہے اور کسی دباو¿ کے بغیر اپنی مرضی سے اسلام قبول کرتے ہوئے اس نے اپنے 5سال سے جاری معاشقہ کو بالآخرانجام تک پہنچاتے ہوئے شادی کرلی ہے۔

لڑکی نے بیان میں بتایا کہ دونوں خاندانوں کو انکے معاشقہ کی اطلاع ہے اور لڑکی کے خاندان کی رضامندی نہ ہونے کے باعث دونوں اپنے گھر سے فرار ہوکر حیدرآباد پہنچے اور گزشتہ ہفتے شادی کرلی۔لڑکی نے مزید کہا کہ میرے خاندان سے نہ صرف مجھے بلکہ میرے شوہر ارشاد محی الدین کی جان وک خطرہ لاحق ہے لہذا اس نئی نویلی دلہن نے اس سلسلہ میں تلنگانہ حکومت اور پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں سے ان کےلئے حفاظتی انتظامات اور سیکوریٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس نہ بتایا کہ وہ شہر حیدرآباد میں مقیم رہتے ہوئے پولیس مہاراشٹرا کو اپنے موقف اور بیانات سے واقف کروانا چاہتی ہے لیکن وہ مہاراشٹرا کو واپس لوٹنا نہیں چاہتی۔ورنہ انکی زندگیاں خطرہ میں پڑ جائیں گی۔جسکی تمام ذمہ داری مہاراشٹرا پولیس اور میرے افراد خاندان پر ہوگی۔
بتایاگیا ہے کہ اس سلسلہ میں حیدرآباد پولیس صنعت نگر اور مہاراشٹرا پولیس عہدیداروں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری ہے۔