اے ایمان والو تم اپنے مال کو آپس میں باطل طریقہ سے مت کھاؤ(القرآن)
ازقلم : عبدالقیوم شاکرالقاسمی
جنرل سکریٹری جمعیۃ علماءنظام آباد9505057866
مسلم معاشرہ میں جہاں اور بہت ساری خرابیاں شادی بیاہ کے موقع پر دیگر اقوام وملل سے درآئیں ہیں ان میں سے ایک بری رسم جہیز کی مانگ اور جوڑے کی رقم ہے جو ایک غیرشریفانہ عمل ہی نہیں بلکہ لڑکی والوں پر ظلم وجبر کی صورت اختیار کرچکا ہے اس رسم بد سے معاشرہ کو پاک کرکے اسلامی شادی کے تصور کو عام کرنے کی ضرورت ہے
ملت اسلامیہ کے ہرفرد کو جہیز کی حقیقت سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہےجہیز .عربی زبان کالفظ ہے جس کے معنی تیاری کرناہے جس کی حقیقت صرف اتنی سی ہیکہ شوہراور بیوی کوایک دوسرے سے فائدہ اٹھانے اور زندگی بسر کرنے کیلےء بقدرضرورت سامان فراہم کردیاجاے
اسی طرح میت کے لےء جو سامان ضروری ہوتا وہ بھی اسی لفظ جہیز سے نکلا ہوا ہے جس کو تجہیز کہتے ہیں اس سے زیادہ اس جہیز کی کوی حقیقت نہیں ہے اور اتنا سامان تو آج ہر مرد کے پاس یقینا یوتا ہی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے داماد حضرت علی اور اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کو ازدواجی زندگی بسر کرنے کے لےء جو سامان دیاتھا اس سے بھی یہی بات واضح ہوتی ہیکہ وہ ضروریات زندگی کا سامان تھا خودحضرت علی کا ارشاد ہیکہ رسول اللہ نے فاطمہ کو جہیز کے طور پر ایک پلو دارچادر ایک مشکیزہ ایک گھاس سے بھراہوا تکیہ عنایت فرمایا تھا
اس روایت میں بھی وہی جہیز مراد ہے جو ضروریات زندگی میں سے ہوں لیکن افسوس کہ آج معاشرہ میں جہیز کے نام پرلڑکی والوں سے گرانقدر چیزیں ٹی وی فریج کولر واشنگ مشین فرنیچر صوفہ سیٹ ڈائننگ ٹیبل گاڑی کئ اقسام کے برتن ڈیمانڈ کرکے لےء جاتے ہیں اور نےء نےء مطالبات کرکے اتنا بوجھ ڈالا جاتا ہیکہ ایک عام اور متمول گھرانہ سے تعلق رکھنے والا انسان جس کو برداشت نہیں کرپاتا ہےحد تو یہ ہیکہ اپنی تعلیم اور کاروبار کے لےء بھی معتد بہ رقم کا مطالبہ کیا جاتا ہے کیا ان مردوں میں غیرت وحمیت نہیں ہوتی ہے
جو اپنی زندگی بسر کرنے کے لےء لڑکی والوں کی دولت پر نظر رکھتے ہیں حالانکہ شریعت اسلامیہ نے ان تمام انتظامات کی تیاریوں کی ذمہ داری مرد پر رکھی ہے پتہ نہیں کیوں لڑکے والے حدودشرافت کو پارکرکے لڑکی والوں کی رقم سے ہی اپنی زندگی گزارنا چاہتے ہیں جس کی نہ اسلام ان کو اجازت دیتا ہے نہ ہی سماج ومعاشرہ اس بات کو گوارہ کرتاہےشرعی اعتبار سے جہیز کی کوی مقدار گرچہ متعین نہیں ہے بس باپ اپنی بیٹی کو ازراہ تحفہ جو چیزیں دےدے وہی اس کا جہیز شمارہوتا ہے لیکن خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے
جب اپنی شہرت اور نام ونمود کے لےء سامان کی رونمای کی جاتی ہے یا لڑکے والے اس کو اپنا حق تصور کرتے ہوے مطالبات کرتے ہیں یا زیادہ کی امیدیں باندھ کر آس لگاے ہوے ہوتے ہیں اور اگر اپنی سونچ سے کم سامان ملتا ہے تو پھر لڑکی اور اس کے خاندان والوں کو طعنے دییے جاتے ہیں حالانکہ حدیث پاک کے مطابق کسی کابھی مال اس کی خوشی کے بنا لینا درست نہیں ہے
کسی بھی مرد کے لےء حلال نہیں کہ وہ لڑکی والوں سے جبر کرکے سامان جہیز کو وصول کرے یا کم ملنے پر اس کو مطعون بنایا جاے آج ضرورت اس بات کی ہیکہ اسلام نے شادی کو جتنی سادی بنایا ہے اسی تناظر میں اپنے لڑکے اور لڑکیوں کے بیاہ کےء جائیں ورنہ تو معاشرہ کو اس تباہی سے بچانا میں سمجھتا ہوں کہ ممکن نہیں ہوگا
اس سلسلہ میں علماء کرام قاضیان شہر اور ذمہ داراحباب اپنی اپنی بساط کے مطابق کوشش کریں اللہ پاک توفیق عمل نصیب فرماے آمین