حیدرآباد۔29اپریل
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
لو میریج کے ذریعہ شادی کے بعد سے ہی بیوی کے کردار پر شک و شبہ کرتے ہوئے اسے مسلسل ہراساں‘مار پیٹ اور طرح طرح کی دی جانے والی اذیتوں سے دلبرداشتہ ایک نوجوان خاتون تلگو زبان میں خودکشی نوٹ تحریر کرتے ہوئے نے پھانسی لے لی ۔
یہ افسوسناک واقعہ شہر حیدرآبادکے جوبلی ہلز پولیس اسٹیشن کے حدود میں پیش آیا جہاں پولیس نے خود کشی نوٹ کو قبضہ میں لیتے ہوئے شوہر کو حراست میں لے لیا ۔
تفصیلات کے مطابق رحمت نگر ایس آر ہلز کی ساکن 30سالہ خاتون وجیا کی 10سال قبل انجیلو نامی نوجوان سے لو میریج کے ذریعہ شادی ہوئی تھی جنہیں دو بچے ہیں ۔
پولیس نے خاتون کے خودکشی نوٹ کے بارے میں بتیا کہ شوہر انجیلو شراب نوشی کا عادی ہے اور ساتھ ہی وہ کوئی کام نہیں کرتا ہے البتہ وہ شادی کے بعد سے ہی بیوی کے کردار پر شک و شبہ کیا کرتا تھا اور بلا وجہ اسے اذیتیں دیا کتا اور مار پیٹ کرتا تھااور شوہر کا بھائی چندریا بھی اس میں ملوث ہے۔
خاتون کے خود کشی نوٹ میں محکمہ پولیس سے اس بات کی پر خلوص اپیل کی گئی ہے کہ وہ اسکے شوہر کو سخت ترین سزاءدیں ۔پولیس نے بتایا کہ خود کشی سے قبل خاتون نے اپنے دونوں بچوں سے سے آخری مرتبہ فون پر بات کی اور بچوں کو نانا نانی کے حوالے کرنے کی خواہش ظاہر کی اور پھر اس نے کمرہ کا دروازہ اندر سے بند کرلیا اور چھت سے لٹک کر پھانسی لے لی۔
اس واقعہ کی اطلاع کے ساتھ ہی پولیس مقام واقعہ پر پہنچ گئی اور نعش کو بغرض پوسٹ مارٹم دواخانہ منتقل کردیا اور شوہر کو گرفتار کرلیا۔