دیوبند،26؍اکتوبر
(رضوان سلانی)
مدرسہ انعام العلوم کے درجہ حفظ کے طالب علم حافظ محمد سہیل بن محمد اقبال ساکن ہرسولی کی طبیعت ایک ہفتہ قبل بہت زیادہ خراب ہو گئی تھی جس کی بنا پرحافظ محمد سہیل کو چھٹی دے کر اس کے گھر موضع ہرسولی ضلع مظفر نگر بھیج دیا گیا تھاتا کہ علاج اورپرہیز وآرام اچھی طرح مل سکے
دوروزقبل گھر والوں نے اس کو بے غرض پور ہاسپٹل میں داخل کرایا تھا
جہاں بہت سے ٹیسٹ ہونے کے بعد علاج شروع ہوالیکن علاج شروع ہونے کے بعد بھی کامیابی نہ مل سکی چند گھنٹوں بعد ہی طالب علم نے تقریبا ساڑھے سات بجے شام کوآخری سانس لیااوررب حقیقی سے جاملا اوراس دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہوگیا۔ہرسولی گاؤں میں مدرسہ انعام العلوم کے قدیم وجدید طلبااور متعلقین نے سیکڑوں اور گاؤں والوں ہزاروں کی تعداد میں نماز جنازہ ادا کرکے سپرد خاک کیا۔
ادارہ کے تمام طلبہ اور اساتذہ اس سانحہ پر غمزدہ ہیں ساتھ ہی سبھی احباب سے گزارش ہے کہ جتنا بھی ممکن ہوسکے میرے اس پیارے طالب علم کے لئے دعائے مغفرت کریں اوراہل خانہ و مدرسہ کے لئے صبر جمیل کی دعا کریں مرحوم طالب علم کی عمر تقریباً سترہ سال تھی۔