میت کو نکال کر ضلع مجسٹریٹ اور ایس پی کی نگرانی دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے عدالت کا حکم
نئی دہلی :12؍فروری
(اے ایم این ایس)
کاس گنج پولیس کی حراست میں نوجوان کی موت کے معاملےمیں نیا موڑ آیا ہےالہ آباد ہائی کورٹ نے ہدایت دی ہے کہ 22 سالہ الطاف کی میت جس کی موت پولیس اسٹیشن کے اندر مبینہ طور پر حراست میں ہونے والے تشدد کی وجہ سے ہوئی تھی، آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل کے ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعہ دوسرا پوسٹ مارٹم کرایا جائے۔
واقعہ کے تقریباً تین ماہ بعد ہائی کورٹ نے اس معاملے میں بڑا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ الطاف کی میت کو قبر سے نکالا جائے اور دہلی ایمس کے ڈاکٹروں کے ذریعہ ان کا پوسٹ مارٹم دوبارہ کیا جائے۔ عدالت نے یہ احکامات کیس کی سماعت کے دوران دیئے ہیں

مقتول کے والدنے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے سماعت کے دوران دوبارہ پوسٹ مارٹم کرانے کا حکم دیا ہے۔ جسٹس انجنی کمار مشرا اور دیپک ورما کی ڈویژن بنچ نے یہ بھی ہدایت دی کہ پوسٹ مارٹم کاس گنج کے ضلع مجسٹریٹ اور ایس پی کی نگرانی میں ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ پوسٹ مارٹم کے دوران ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی کرانے کے بھی احکامات دئیے گئے ہیں۔عدالت نے مزید ہدایت کی کہ تمام کارروائی اندرون دس دن میں مکمل کی جائے۔ فی الحال کیس کی اگلی سماعت 4 ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔
واقعہ کے بعد معاملہ کی جانکاری دیتے ہوئے کاس گنج کے ایس پی روہن پرمود بوترے نے بتایا کہ پولیس نے ایک شخص کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا۔ پوچھ گچھ کے دوران اس نے ٹوائلٹ جانے کی درخواست کی۔ وہاں اس نے اپنی جیکٹ کے ہڈ کے اندر رسی سے گلا گھونٹنے کی کوشش کی۔ پولیس اہلکار اسے بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لے گئے جہاں علاج کے دوران اس کی موت ہوگئی۔
Altaf Custodial Death: Allahabad High Court orders second post-mortem of body by AIIMS Delhi
report by @Areebuddin14
Read story: https://t.co/W6MIsNj6Fk pic.twitter.com/QCcQG1iyxC
— Bar & Bench (@barandbench) February 11, 2022
دراصل متوفی الطاف (21) ولد چاند میاں (ساکن ناگلہ سید) ایک گھر میں ٹائل کا کام کر رہا تھا، جہاں سے ایک لڑکی لاپتہ ہو گئی تھی۔ اہل خانہ نے الطاف پر الزام لگایا۔ لواحقین کا کہنا تھا کہ الطاف لڑکی کو لے گیا ہے۔ کیس میں کاس گنج پولیس نے الطاف کو 8 نومبر کی رات تقریباً 8 بجے پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا، اگلے دن 9 نومبر کی شام الطاف نے پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔
قبل ازیں مقتول الطاف کے والد چاند میاں نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس الطاف کو شک کی بنیادپر تھانے لے گئی۔ جہاں پولیس اہلکاروں نے الطاف کو پھانسی دے دی۔اپنی درخواست میں الطاف کے والد نے ایک کروڑ روپے کا معاوضہ بھی مانگا۔ عدالت میں ایک عبوری درخواست بھی دائر کی گئی تھی جس میں الطاف کا دوسرا پوسٹ مارٹم کرنے کے ساتھ ساتھ تھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی طلب کی گئی تھی جہاں واقعہ ہوا تھا۔
۔ اس پورے معاملے میں کوتوالی کے انچارج وریندر انڈولیا، چوکی انچارج وکاس شرما سمیت پانچ پولیس والوں کو معطل کر دیا گیا ہے۔ واقعہ کے تقریباً تین ماہ بعد ہائی کورٹ نے اب دوبارہ میت کا پوسٹ مارٹم کرانے کی ہدایت دی ہے۔