مسلمانوں کے نازک حصہ کو کاٹ دینے کی ہندوں سے اپیل

تازہ خبر قومی

لو جہاد کے خلاف‘ تحریک کے طورپر ‘لو زعفران کی مہم چلانے کا مطالبہ
ہندوتوا تنظیم سری رام سینا کی اشتعال انگیزی
حکومت کرناٹک اور محکمہ پولیس کی خاموشی معنی خیز

رائچور: 12؍اپریل
(زین نیوز)
ہندوستان کی ریاست کرناٹک جس کی دارالحکومت بنگلوروکو”سیلیکون ویلی”کی حیثیت حاصل ہےاورآئی ٹی کے شعبہ میں پورے ملک میں اول نمبر پر ہے کرناٹک اب جو مذہبی تنازعہ کا گڑھ‘ مرکز بنتا جا رہا ہے‘

کرناٹک میں ائے دن مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کرتے ہو ئے مذہبی منافرت کو فرو غ دیا جارہا ہے‘ کرناٹک جہاں حجاب تنازعہ سے جس کا آغاز ہوا ہے اسکولوں اور کالجوں میں حجاب پر باقاعدہ حکومت کی جانب سے پابندی پھر اس پابندی پر کرناٹک ہائی کورٹ کی مہر کے بعد ہندو شدت پسندوں کےحوصلے دن بہ دن بلند ہوتے جارہے ہیں

ہرروز ایک نیا تنازعہ کھڑا کیا جارہے‘ حجاب تنازعہ کے بعد مسلمانوں اورمسلم بیوپاریوں کے خلاف ایک نئی نفرت انگیز مہم شروع کی گئی ہے حلال گوشت کے خلاف مہم کے بعد پھل فرشوں ‘ ترکاری فرشوں‘ آٹو ڈرائیورس کے خلاف نفرت مہم چلاتے ہوئے انکے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی ہے ۔کرناٹک میں جاری مسلم مخالف مہم کے دؤران حکومت کرناٹک اور محکمہ پولیس کی خاموشی معنی خیز ہے

ہندوجناجاگرتی منچ کے بعد ہندوتوا تنظیم سری رام سینا نے کرناٹک میں مسلمانوں کو نشانہ بناتے ہوئے ایک اور متنازعہ بیان دیا ہے، کرناٹک جو مذہبی تنازعہ کا گڑھ بنتا جا رہا ہے۔سری رام سینا کے ترجمان راج چندر نے تمام ہندوؤں سے ‘لو جہاد’ کے خلاف ایک تحریک کے طور پر ‘لو زعفران’ کی مہم چلانے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے اپنے ہاتھ میں تلوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں مزید ‘لو جہاد’ کیسز نہیں ہونے چاہئیں اور کارروائی کی جانی چاہیے۔ رام سینا کے صدر نے کہاکہ ‘ہمیں ان کی شرمگاہ کاٹ دینے کی ضرورت ہے‘مت بھولنا۔ وہ آپ پر حملہ کرتے ہیں،خاموش مت رہنا۔ بس انہیں کاٹ دو۔گجرات میں گودھرا واقعہ کو دہرانا چاہتے ہیں؟ یہ کرناٹک ہے

۔بدقسمتی سے اس دنیا میں کوئی ہندو راشٹر نہیں ہے۔ نیپال ایک تھا لیکن اب وہ ختم ہو گیا ہے۔ فارس ایران بن گیا۔ ہندوستان بڑا ہے اس لیے اسے ایک مسلم ملک میں تبدیل کرنے میں وقت لگے گا۔ لیکن ہم اس پر کبھی اتفاق نہیں کریں گے

 

❇️ وزیــــر اعظم نرینــــدر مودی حکومت کو 24 گھنٹے کا الـــٹی میٹم 🔹 مــــرکــز پر تلـــــنگانہ کے ساتھ امتیـــــاز برتنے کا الـزام

 

اس حقیقت کو دھیان میں رکھنا چاہیے،” جے ڈی ایس لیڈر کمار سوامی نے کہا۔ انہوں نے بی جے پی پر زور دیا کہ وہ ایسے اداروں کو فروغ دینے سے باز رہے۔