نریندر مودی کے حلقہ وارانسی میں بی جے پی کی ضمانت ضبط

تلنگانہ قومی

اتر پردیش میں ایم ایل سی انتخابات کے نتائج۔سماج وادی پارٹی کا صفایا

لکھنؤ: 12؍اپریل
(اے ایم این ایس)
آج اتر پردیش میں ایم ایل سی الیکشن 2022 کے نتائج کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اسمبلی انتخابات کی طرح ایم ایل سی انتخابات میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے یکطرفہ کامیابی حاصل کی ہے۔ بی جے پی یوپی میں مسلسل اپنی کامیابیاں درج کررہی ہے

پہلے اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی، پھر اب ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی نے اپنی جیت کا جھنڈا لہرایا ہے۔ ایم ایل سی انتخابات میں بی جے پی نے 36 میں سے 33 سیٹیں جیتی ہیں۔ تین سیٹوں پر آزاد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ہے، جب کہ سماج وادی پارٹی کا صفایا ہوگیا ہے۔

آج ہونے والی ووٹوں کی گنتی میں حکمراں جماعت نے 24 نشستیں حاصل کیں، جب کہ اس نے پہلے ہی نو نشستیں پربلامقابلہ کامیابی حاصل کی تھی۔واضح کہ بی جے پی ایوان میں اب سے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے اور اب اتر پردیش قانون ساز اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں بی جے پی کو قطعی اکثریت حاصل ہے۔

اس زبردست جیت کے ساتھ ہی بی جے پی نے 1982 میں کانگریس کے بعد ایوان میں مکمل اکثریت حاصل کرنے کا 40 سال پرانا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ اس جیت کے ساتھ ہی قانون ساز کونسل میں بی جے پی کی سیٹیں 70 کے قریب ہو گئی ہیں۔ یوپی قانون ساز اسمبلی میں کل 100 سیٹیں ہیں۔

وارانسی میں بی جے پی کی کراری شکست
وزیر اعظم نریندر مودی کے حلقہ وارنسی میں باہوبلی برجیش سنگھ کی بیوی اناپورنا دیوی نے وارانسی سیٹ پر بی جے پی کی سداما پٹیل کو شکست دی ہے۔ سداما پٹیل یہاںوہ 170 ووٹ لے کر تیسرے نمبر پر رہے۔ یہاں سے بی جے پی کی ضمانت ضبط ہوگئی ہےواضح رہے کہباہوبلی برجیش سنگھ اس وقت جیل میں ہیں۔ڈان برجیش سنگھ کی بیوی آزاد امیدوار اناپورنا سنگھ نے 4234 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی۔

یوپی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کانگریس کا ریکارڈ توڑتے ہوئے 37 سال بعد یوپی میں دوبارہ حکومت بنانے والی پارٹی بن گئی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حال ہی میں ختم ہوئے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی اتحاد کو 274 سیٹیں ملی ہیں۔ بی جے پی کو اکیلے 255 سیٹیں ملی ہیں۔ 403 سیٹوں والے اسمبلی انتخابات میں اکثریتی تعداد 202 ہے۔ جب کہ ایس پی اتحاد کو کل 125 سیٹیں ملی ہیں۔ تاہم راشٹریہ لوک دل کو صرف آٹھ سیٹوں پر ہی مطمئن ہونا پڑا۔ دوسری طرف سبھاسپا کو بھی صرف چھ سیٹیں ملی ہیں۔

10 اپریل کو ہونے والی پولنگ کے لیے ایم ایل سی انتخابات کے 58 اضلاع میں 739 بوتھ بنائے گئے تھے جن میں ایک لاکھ 20 ہزار 657 ووٹرز نے اپنا ووٹ ڈالا تھا۔ اس الیکشن میں ایم پیز، ایم ایل اے، تمام سربراہان، علاقہ پنچایت ممبران اور صدور، ضلع پنچایت ممبران اور صدور کے ساتھ میونسپل کونسلر، میئر، ممبران اور سٹی پنچایتوں کے صدور نے ووٹ ڈالا۔

 

❇️ مسلمـــــانوں کے نازک حصہ کو کاٹ دینے کی ہنــــدوں سے اپیل

🔸 لو جہـــــاد کے خلاف‘ تحریک کے طورپر ‘لـــــو زعفران کی مہم چـــــلانے کا مطالبہ