حیدرآباد:15؍مارچ
(زین نیوز ڈاٹ نیٹ)
سری لنکا میں مسلمان اقلیت میں ہیں اور گزشتہ کئی ماہ سے کورونا سے جاں بحق مسلمانوں کی میتوں کو جلانے پر سراپا احتجاج تھے تاہم حال ہی میں امریکا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے تنقید کے بعد کورونا سے جاں بحق مسلمانوں کی میتوں کو جلانے کے بجائے دفنانے کی اجازت دی گئی ہے۔سری لنکامیں مسلمان خواتین کے نقاب، برقعے اورحجاب پہننے پرپابندی کے فیصلے کی سخت مذمت کی جاری ہے ۔
ڈاکٹرایم اے نجیب انٹرنیشنل پیس ایمبسڈریوپی ایف وورلڈہیومانیٹی کمیشن نیویارک یوایس اے نے کہا ہے کہ سری لنکا حکومت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کے لباس کا فیصلہ کرے۔ یہ انسان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ جس طرح کسی کو نقاب پہننے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا اسی طرح کسی کے نقاب پہننے پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ سری لنکا حکومت کے اس فیصلے کی ورلڈہیومانیٹی کمیشن سختی سے مذمت کرتی ہے۔
سفیربرائے امن ایم اے نجیب نے کہاکہ سری لنکا کی مسلمان خواتین کے نقاب، برقعے اورحجاب سے کسی دوسری کمیونٹی کے بنیادی حقوق متاثر نہیں ہورہے ہیں توپھریہ پابندی بلاجوازاورانسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ انہوں نے سری لنکامیں موجودپیس ایمبسڈرس سے فون پربات کرتے ہوئے صورتحال کا جائزہ لیا۔
جس میں اہم نکات پربات کی گئی ۔جس میں اقلیت کے تحفظ ‘ بنیادی آزادی ‘ تعلیمی آزادی ‘ رہن سہن ‘ کلچرکے تحفظ کے لیے تیقن فراہم کرنے کی بات کی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ خواتین کو ان کے مذہب کی بنیاد بنا کر انہیں اپنی مذہبی عقائد پر عمل درآمد سے روکنا سراسر ناانصافی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔سری لنکاکے پیس ایمبسڈریوپی ایف پروفیسرڈاکٹرایس ایل ریاس نے اس موقع پر بتایا کہ کولمبومیں 5اکٹوبر2019 میں عالمی سطح پرامن کانفرنس منعقد کی گئی تھی ۔
جس میں دنیابھرسے پیس ایمبسڈرس نے امن کے لیے بات کی گئی تھی۔ جس میں سری لنکامیں بھی اقلیت کے حقوق اور ان کی تعلیم کے تئیں پائی جانے والی خلاء کوپُرکرنے کے لیے ایک ریسرچ بھی پیش کی گئی تھی۔
بین الاقوامی سفیربرائے امن ڈاکٹرایس ایل ریاس نے کہاکہ اس موقع پر انہوں نے کہاتھا کہ ”پہلی عالمی جنگ کس نے شروع کی؟ مسلمان نہیں !دوسری عالمی جنگ کس نے شروع کی؟ مسلمانوں نے نہیں ! آسٹریلیائی خطے میں تقریبا20 ملین ابوریجین کو کس نے مارا؟ مسلمان نہیں !ہیروشیما اور ناگاساکی کے جوہری بم کس نے بھیجے؟ مسلمان نہیں!شمالی امریکہ میں 100 ملین سے زیادہ ہندوستانیوں کو کس نے ہلاک کیا؟ مسلمان نہیں !جنوبی امریکہ میں 50 ملین سے زیادہ ہندوستانیوں کو کس نے مارا؟ مسلمان نہیں!جس نے 180 ملین افریقی لوگوں کو غلام بنا کر اپنایا اور ان میں سے 88 مرگئے اور بحر اوقیانوس میں سمندر پار پھینک دیا گیا؟ مسلمان نہیں!نہیں ، مسلمان نہیں !انہوں نے سری لنکاکی حکومت کوبتایا کہ سب سے پہلے ، آپ کو دہشت گردی کی صحیح طور پر وضاحت کرنی ہوگی۔
اگر کوئی غیر مسلم کوئی برے کام کرتا ہے تو یہ جرم ہے۔ لیکن ، اگر کوئی مسلمان ایسا ہی کرتا ہے تو ، وہ دہشت گرد ہے۔ تو پہلے ان دوہرے معیار کو ختم کریں۔ انہوں نے کہاکہ سری لنکا میں پیس سفیروں کا منصوبہ ہے کہ (CPS) سنٹرفارپیس اسٹڈیزپروجیکٹ شروع کی جائے ۔ تاکہ امن کے لیے تعمیری سرگرمیاں شروع کی جاسکیں۔ جس سے انسانوں کے کردارکوفروغ دینے اور اس کی حمایت کے لیے کام کی ضرورت ہے ۔ جوبات چیت اورآپسی تعلقات ‘ میل ملاپ سے ہی ممکن ہے ۔
یہ بات یہاں واضح کی جاتی ہے کہ دوسال قبل 2019 میں ایسٹرسنڈے پرگرجا گھروں اورہوٹلوں پرہونے والے متعددمنظم حملوں کے بعدجس میں250 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ ان حملوں کی ذمہ داری دہشت گردتنظیم نام نہاددولت اسلامیہ نے قبول کی تھ۔ اس وقت حکام نے حملہ آوروں کا سراغ لگانے کی کوشش کی تھی توعارضی طورپر چہرہ ڈھانپنے پرپابندی لگادی گئی تھی ۔ اب حکومت اس پابندی کومستقبل کرنے جارہی ہے ۔یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ سری لنکا میں کورونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو جلایا جانا قانونی طور پر لازمی تھا چاہے وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ اس حوالے سے سری لنکا کی مسلمان، کیتھولک اور بودھ برادریوں میں کافی تشویش پائی جاتی تھی۔
بین الاقوامی سفیربرائے امن ایم اے نجیب اورپروفیسرڈاکٹرایس ایل ریاس نے کہاکہ اس معاملہ میں ہم جلد سری لنکاحکومت سے تبادلے خیال کرے گے تاہم سری لنکاایک جمہوری اوراقلیت دوست ملک کی حیثیت سے عالمی سطح پرایک بہترنمونہ پیش کرسکیں
