پولیس ورد ی میں ملبوس شرپسندوں نے قتل کرکے چھت سے نیچے پھینک دیا
مرحوم نے کہا تھا ’’اگر رنگ کم پڑ جائے تو میرے خون سے نعرہ لکھنا‘‘
کولکاتا:20؍فروری
(اے ایم این ایس)
عالیہ یونیورسٹی کے طالب علم انیس الرحمن کا ان کے آبائی گھر ہوڑو کے آمنا میں پولس کے لباس میں ملبوس چند نامعلوم افراد نے داخل ہوکر تین منزلہ عمارت سے گرا کر قتل کر دیا اس واقعہ کے بعد آمتا کے جنوبی خانپاڑہ میں ہلچل مچ گئی ہے۔جنوبی کلکتہ کے پارک سرکس علاقہ میں عالیہ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹس کی جانب سے نکالی گئی پر تشد داحتجاجی ریلی ، دھرنا اور سڑک نا کہ بندی سے حالات کشیدہ ہو گئے ۔ سیاسی حلقوں میں بھی بحث چھڑ گئی تھی
Anis Khan, a student of Alia University and a member of various mass movements, was killed last night at his own home in Uluberia by the ruling party-affiliated goons.
We demand the punishment of all those involved in this heinous murder.@adhirrcinc @NargisBano_ pic.twitter.com/gtvnzGm2LC— Mosarraf Hossain IYC (@Mosarra30650416) February 19, 2022
انیس خان عالیہ یونیورسٹی کے سابق سٹوڈنٹس لیڈر اور سی اے اے تحریک کے ایک فعال کارکن تھے،بتایا جاتا ہے جمعہ کی شب کسی میٹنگ سے وہ گھر پہنچے ہی تھے کہ چار نامعلوم افراد جس میں ایک پولیس وردی میں ملبوس تھا جبرا ً ان کے گھر میں داخل ہوئے،بقول انیس کے والد کہ گھر والوں کو بدمعاشوں نے ایک روم میں بند کر دیا پھر تیسری منزل پر جاکر انیس خان کو بے دردی سے قتل کر دیا اور انھیں چھت سے نیچے پھینک دیا۔ہم نے چیخ و پکار شروع کی تو بدمعاش یہ کہتے ہوئے بھاگ گئے "صاحب جلدی نکلو اپنا کام ہوگیا۔

مقتول انیس الرحمن ا خان ( 28 ) عالیہ یونیورسٹی کا طالبعلم تھا، جو کہ فی الحال کلیانی یونیورسٹی سے ماس کمیونی کیشن کر رہا تھا۔ وہ ماضی میں پایاں محاذ طلبہ تیم تحریک سے منسلک تھا۔ بعد ازاں اس نے ایس ایف آئی جوائن کیا۔ انیس کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ شب اسے تیسری منزل سے گرتے ہوۓ دیکھا گیا۔ ان کے مطابق شرپسندوں نے پولس کے بھیس میں انیس کاقتل کیا۔ شر پسند مکان میں جبری داخل ہوئے اور تیسری منزل کی میت سے اسے پھینک دیا۔

اگر چہ مقامی تھانہ کی جانب سے واضح لفظوں میں کہا گیا ہے کہ ان کا کوئی بھی آفیسر یا کارکن اس معاملہ میں ملوث نہیں ہے ۔ لہذا کون اور کیوں اس معاملہ میں ملوث ہے؟ پولس نے اس پہلو کی جانچ شروع کی ہے
۔واضح رہے کہ حالیہ حجاب والے معاملے میں بھی انیس خان ایکٹیو تھے، مسلمانوں کے ہر مسائل میں پیش پیش رہتے تھے۔، مرحوم انیس خان نے سی اے اے مخالف مظاہرے کے دوران کہا تھا، ’’اگر رنگ کم پڑ جائے تو میرے خون سے نعرہ لکھنا‘‘ کل غنڈوں نے انیس خان کو موت کی نیند اس لیے سلا دیا کہ وہ بنگال میں مسلمانوں کی مضبوط آواز تھے
انیس خان کے والدین کا مطالبہ ہے کہ ہم اس وحشیانہ واقعہ کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ٹی ایم سی سرکار قصورواروں کو جلد سے جلد گرفتار کرے!
واضح رہے کہ حالیہ حجاب والے معاملے میں بھی انیس خان ایکٹیو تھے، مسلمانوں کے ہر مسائل میں پیش پیش رہتے تھے.