مسلم تحفظات پر امت شاہ کا تبصرہ سپریم کورٹ کی توہین: کانگریس

Uncategorized

مرکزی وزیر داخلہ کی مسلم کوٹہ کی تاریخ وقانونی حیثیت سے عدم واقفیت افسوسناک
امت شاہ کے خلاف قانونی کارروائی کاجائزہ:محمد علی شبیر

حیدرآباد، 15 مئی۔
(ایجنسیز) 
سابق وزیر اور تلنگانہ قانون ساز کونسل میں اپوزیشن کے سابق قائدمسٹر محمد علی شبیر نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس بیان کے لئے سخت مذمت کی ہے کہ اگر بی جے پی تلنگانہ میں اقتدار میں آتی ہے تو وہ چرفیصد مسلم تحفظات کو ختم کردے گی۔آج اپنےایک صحافتی بیان میں مسٹر محمد علی شبیر نے امیت شاہ کے ریمارکس کو انتہائی اشتعال انگیز قرار دیا اور کہا کہان کا یہ بیان نفرت انگیز تقریر کے زمرے میں آتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ملک کے وزیر داخلہ ہونے کے باوجود امت شاہ نہ تو چافیصدمسلم تحفظات کےکوٹہ کی تاریخ سے اور نہی اس کی موجودہ قانونی پوزیشن سے واقف ہیں۔سرکاری ملازمتوں اور تعلیمی میدان میں 4% مسلم کوٹہ کا معاملہ، جو کانگریس کی سابقہ ​​حکومت نے 2004 میں متعارف کرایا جو فی الوقت سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، لہٰذا، بی جے پی حکومت کے وزیر امت شاہ نےمسلم کوٹہ ختم کرنے کا اعلان کرکےتوہین عدالت کے مرتکب ہوۓہیں۔

انہوں نے سوال کیا کہ کیا امت شاہ مسلم کوٹہ ختم کرنے کے لیے سپریم کورٹ سے برتر ہیں؟امت شاہ کو مسلم کوٹہ پر تبصرہ کرنے سے پہلے کچھ بنیادی تحقیق کرنی چاہیے تھی۔ سب سے پہلے تو مسلم کوٹہ مذہب کی بنیاد پر نہیں دیا گیا تھا۔ شروع میں غیر منقسم آندھرا پردیش میں مسلمانوں کو 5 فیصد کوٹہ دیا گیا تھا جسے بعد میں کم کرکے چا فیصد کیاگیا۔ ہائی کورٹ کی ہدایت پر پسماندہ طبقات کمیشن نے ایک گہرا مطالعہ کیا اور مسلمانوں میں 14 سماجی، اقتصادی اور تعلیمی طور پر پسماندہ گروپس کو BC-E کے طور پر درجہ بندی کرنے کی سفارش کی۔

اس رپورٹ کی بنیاد پر اس وقت کی کانگریس حکومت نے ایک بل پیش کیا۔ مسلمانوں میں 14 شناخت شدہ پسماندہ طبقات کوچارفیصد ریزرویشن فراہم کیاگیا۔اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا اور بعد میں یہ معاملہ سپریم کورٹ میں چلا گیا۔عدالت عظمیٰ نے مارچ 2010 میں چار فیصدمسلم تحفظات کو جاری رکھنے کی اجازت دی۔

یہ سپریم کورٹ کے آئینی بنچ کا فیصلہ تھا۔ اس لیے سپریم کورٹ کے علاوہ کسی اور کو اسےروکنے کا اختیار نہیں ہے۔انہوں نےمزیدکہا کہ پچھلی کانگریس حکومت نے غریب مسلمانوں کو سماجی، تعلیمی اور معاشی طور پر بااختیار بنانے کو یقینی بنانے کے لیے 4 فیصد کوٹہ نافذ کیا تھا۔تلنگانہ اور آندھرا پردیش دونوں میں تقریباً 20 لاکھ غریب مسلم خاندانوں کو اس اقدام سے فائدہ پہنچا۔

بی جے پی قائدین بشمول امیت شاہ اور تلنگانہ بی جے پی صدر بنڈی سنجے اگلے انتخابات کے بعد تلنگانہ میں اقتدار میں آنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ مگرتلنگانہ کے عوام کبھی ان کے بہکاوۓ آٸیں گےاورنہی بی جے پی اور آر ایس ایس کے فرقہ وارانہ ایجنڈے کو قبول کریں ۔مسٹرمحمدعلی شبیر نے کہا کہ مسلم کوٹہ پر امت شاہ کے بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ‘سب کا ساتھ، سب کا وکاس’ کا نعرہ ایک دھوکہ ہے۔

انہوں نے یہ جاننا چاہاکہ بی جے پی لیڈر س کےغریب مسلمانوں کو مفت تعلیم اور سرکاری ملازمتوں میں تھوڑا سا حصہ ملنے سے حسدکی وجہ کیا وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ناخواندہ اور بے روزگار رہیں؟ کانگریس لیڈر نے کہا کہ مسلم کوٹہ پر امت شاہ کے ریمارکس نے تلنگانہ میں اس کے پروگراموں پر ناقص ردعمل پر بی جے پی کی مایوسی کو بے نقاب کیا۔

پہلے، بنڈی سنجے نے اردو زبان میں گروپ-1 کے امتحانات کے انعقاد کیآٸین کا جاٸزہ لۓ بغیر مخالفت کی۔ امت شاہ 4فیصد مسلم تحفظات کو ختم کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں جبکہ مسلم کوٹہ کے تعلق سے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ نہ تو بی جے پی اور نہ ہی ٹی آر ایس حکومت کے پاس ایسا کرنے کا اختیار ہے کیونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔

بی جے پی لیڈران نفرت اور فرقہ پرستی پھیلاتے ہوۓ عوام کی توجہ اپنی طرف راعب کرنے کی شدت سے کوشش کر رہے ہیں۔مگر وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہونگے۔کانگریس پارٹی جس نے چا فیصد مسلم مسلم تحفظات فراہم کیا اور وہ اس کے تحفظ میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ امت شاہ اور بنڈی سنجے جیسے بی جے پی لیڈروں کی دھمکیاں تلنگانہ میں ان کی پارٹی کے وجود کی طرح کھوکھلی ہیں۔

نفرت انگیز تقاریر کرکے، وہ کچھ جگہ پر قبضہ کر سکتے ہیں لیکن حکومت کاخواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔کیوں کہ وہ تلنگانہ کے لوگوں کے دل و دماغ میں کوئی جگہ نہیں پا سکیں گے۔مسٹر محمدعلی شبیرنے کہا کہ کانگریس پارٹی اس بات کی جانچ کرنے کے لیے قانونی رائے حاصل کرے گی کہ آیا امت شاہ کے مسلم کوٹہ کے خلاف ریمارکس پر ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے؟۔

انہوں نے غریب اور پسماندہ مسلمانوں سے کہا کہ وہ بی جے پی لیڈروں کے بیانات سے خطرہ محسوس نہ کریں کیوں کہ وہ مسلمانوں کے خلاف زہر اگل کر زندہ رہتے ہیں۔ وہ صرف اقلیتوں کی تباہی اور نقصان کی بات کر سکتے ہیں۔ ان کے پاس ان برادریوں کی ترقی کا کوئی ایجنڈا نہیں ہے جن کی وہ نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ اور مسلسل بڑھتی ہوئی بے روزگاری، تلنگانہ کے لوگ مذہب کی بنیاد پر سماج کو تقسیم کرنے کی ان کی کوششوں کو ناکام بنائیں گے۔